Sep 21, 2026 09:06 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
عورتوں کو کتنا علم حاصل کرنا چاہیے؟

عورتوں کو کتنا علم حاصل کرنا چاہیے؟

17 Sep 2026
1 min read

🌷 *عورتوں کو کتنا علم حاصل کرنا چاہیے؟*

 🌷 اسلام نے علم حاصل کرنے کو بڑی فضیلت عطا فرمائی ہے۔ علم انسان کو صحیح اور غلط میں فرق کرنا سکھاتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کا طریقہ بتاتا ہے۔ عورت بھی معاشرے کا ایک اہم حصہ ہے، اس لیے اس کے لیے بھی اتنا دینی علم حاصل کرنا ضروری ہے جس کے ذریعے وہ اپنے ایمان، عبادات، معاملات اور گھریلو زندگی کو شریعت کے مطابق گزار سکے۔ اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: وَقُلْ رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا ترجمہ: اور عرض کرو: اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔ (سورۂ طٰہٰ: 114) اس آیت سے علم کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ مسلمان کو ہمیشہ علم میں اضافہ کی دعا کرنی چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ ترجمہ: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ (سنن ابن ماجہ، حدیث: 224)

 اس میں عورتیں بھی شامل ہیں۔ لہٰذا عورت کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ وہ عقائد، طہارت، نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، حلال و حرام، پردہ، نکاح، شوہر اور والدین کے حقوق جیسے ضروری مسائل کا علم حاصل کرے۔ عورت کو اتنا علم ضرور حاصل کرنا چاہیے کہ وہ اپنی روزمرہ زندگی کے دینی مسائل کو سمجھ سکے اور صحیح طریقے سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کر سکے۔ اگر وہ شادی شدہ ہے تو اسے ازدواجی زندگی اور اولاد کی تربیت سے متعلق ضروری احکام بھی سیکھنے چاہئیں۔ اگر وہ ماں ہے تو اپنی اولاد کو دین، نماز، قرآن، اچھے اخلاق اور حیا کی تعلیم دینے کے لیے خود بھی دینی علم سے آراستہ ہو۔ اسلام نے علم کو صرف مردوں تک محدود نہیں کیا۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا علم و فقہ میں بہت بلند مقام رکھتی تھیں۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم بھی ان سے دینی مسائل دریافت کرتے تھے۔

 اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان عورت کے لیے دینی علم حاصل کرنا باعثِ عزت اور فضیلت ہے۔ البتہ علم کے ساتھ عمل بھی ضروری ہے۔ صرف بہت سی باتیں جان لینا کافی نہیں، بلکہ جو علم حاصل ہو اس پر عمل کرنا چاہیے۔ علم ایسا چراغ ہے جو انسان کو صحیح راستہ دکھاتا ہے، اور عمل اس راستے پر چلنے کا نام ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان عورت کو چاہیے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق دینی علم حاصل کرے، قرآنِ کریم کو ترجمے اور سمجھ کے ساتھ پڑھے، احادیث اور فقہی مسائل سیکھے، اہلِ علم سے رہنمائی حاصل کرے اور اپنے علم کو اپنی زندگی میں نافذ کرے۔ ایسی عورت نہ صرف اپنی اصلاح کرتی ہے بلکہ اپنے گھر اور آنے والی نسلوں کی بھی بہترین تربیت کر سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نافع علم حاصل کرنے، اس پر عمل کرنے اور دوسروں تک صحیح علم پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 *کتبتہ: مفتیہ سائرہ بنت الحاج جان محمد جنکپور، نیپال*

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)