عشق مجازی سے عشق حقیقی تک
طفیل مگسی
اگلے زمانے میں شیخ احمد خضرویہؒ نام کے ایک صاحبِ کمال بزرگ ہوئے ہیں۔ لیکن وہ اپنے کمال کو کسی پر ظاہر نہیں کرتے تھے اور ہمیشہ اسے چھپانے کی کوشش کرتے۔ ان کی یہ عادت عجیب تھی کہ دولت مندوں سے سینکڑوں، ہزاروں کی رقمیں قرض لیتے اور دل کھول کر فقرا و مساکین پر صرف کرتے۔ اسی قرض کی رقم سے شیخ احمد خضرویہؒ نے ایک بڑی خانقاہ بنوائی جس میں اہل عشق آکر ٹھہرتے اور شیخ ان کی خدمت گزاری میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرتے۔ یہاں تک کہ مرض الموت کے آثار نمودار ہوئے۔ ان تمام لوگوں کو بھی شیخ احمد خضرویہؒ کے بیمار ہونے کی خبر ملی جن سے انہوں نے بڑی بڑی رقمیں ادھار لی تھیں۔ ایک ایک کر کے وہ بھی بستر مرگ پر آگئے اور لگے تقاضا کرنے۔ شیخ نے کہا : ’’گھبراتے کیوں ہو۔ خدا پر بھروسہ رکھو۔ وہ کوئی نہ کوئی انتظام ضرور فرمائے گا۔‘‘ شیخ کا یہ ارشاد سن کر قرض خواہوں نے منہ بنا کر کہا ، معلوم ہوتا ہے شیخ کے حواس رخصت ہوئے۔ قرض خواہوں کی تمام رقم ملا جلا کر کوئی چار سو اشرفیاں ہی تھیں۔ وہ سب مایوس ہو چکے تھے کہ شیخ کے پاس تو ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں۔ بھلا چار سو اشرفیاں کہاں سے دیں گے! شیخ نے فرمایا:’’صد افسوس ہے ان دولت مندں کے ذہنی افلاس پر۔ ارے بدبختو ، خدا ہر فعل پر قادر ہے۔‘‘ ابھی شیخ یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ باہر گلی میں ایک حلوہ فروش لڑکے نے آواز لگائی ’’تازہ حلوہ‘ شیریں حلوہ ٗ گرم گرم حلوہ‘‘۔ شیخ خضرویہؒ نے یہ آواز سن کر اپنے خادم کو حکم دیا کہ جائو اور اس حلوہ فروش لڑکے سے تمام حلوہ خرید کر ان قرض خواہوں کو کھلائو۔ شیخ کا حکم پاکر
خادم باہر گلی میں گیا اور لڑکے سے پوچھا کہ حلوے کا سارا تھال کتنے میں دو گے؟ لڑکے نے کہا ٗ نصف دینار اور پانچ درہم میں۔ خادم کہنے لگا ہم فقیروں اور درویشوں سے زیادہ قیمت نہ لو۔ نصف دینار قیمت میں سارا حلوہ دے دو۔‘‘ حلوہ فروش نے کہا ٗ بہت بہتر ٗ لے لیجئے۔‘‘ شیخ نے فرمایا ٗ ساراحلوہ اس فقیر کی طرف سے مہمانوں میں تقسیم کر دو۔ تھال خالی ہوتے ہی حلوہ فروش لڑکے نے تھال اٹھا لیا اور شیخ سے کہا ، حضرت لایئے ، نصف دینار حلوے کی قیمت ادا کیجئے۔ شیخ نے کہا ، اے فرزند ،قیمت میرے پاس کہاں۔ ساری زندگی قرض لے لے کر گزر بسر کرتا رہا ہوں اب آخری وقت آیا ہے۔ یہ دیکھ تمام قرض خواہ تقاضے کے لیے ہی بیٹھے ہیں۔ تو بھی ان میں بیٹھ جا۔‘‘ شیخ کا یہ ارشاد سن کر لڑکے نے مارے رنج اورغصے کے تھال
زمین پر پٹخا اور بری طرح رونے لگا۔ رونے کے ساتھ ساتھ دہائی بھی دیتا جاتا کہ ہائے! مجھے ٹھگ لیا۔ اب میں اپنے استاد کے پاس خالی ہاتھ کیسے جائوں گا۔ وہ مار مار کر میری چمڑی ادھیڑ دے گا۔ لڑکے کے بین سن کر لوگ وہاں جمع ہوگئے۔ قرض خواہوں نے بھی شیخ خضرویہؒ پر بڑی لعنت ملامت کی کہ یہ کیا بے ہودہ حرکت مرتے مرتے کی ہے؟ شیخ یہ سب کڑوی کسیلی سنتے رہے اور بادل میں چھپے ہوئے چاند کی طرح اپنے کمبل میں منہ دیئے چپکے پڑے رہے۔ ظہر کے وقت تک حلوہ فروش لڑکا آنسو بہاتا رہا ، لیکن شیخ نے ایک بار بھی اس کی طرف دیکھا نہ کوئی بات کی۔ آخر تماشائیوں نے آپس میں فیصلہ کیا کہ سب لوگ تھوڑے تھوڑے پیسے جمع کر کے اس لڑکے کو دے دیں۔ شیخ نے کمبل میں سے منہ نکال کر فرمایا : ’’کوئی شخص اس لڑکے کو کچھ نہ دے۔ یہ میرا حکم ہے۔‘‘ شیخ خضرویہؒ کا لب و لہجہ ایسا پررعب تھا کہ کسی کو اس حکم کی خلاف ورزی کرنے کی مجال نہ ہوئی۔ ظہر کی نماز کے بعد کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص بڑا سا خوان سر پر دھرے چلا آتا ہے۔ اس نے آتے ہی یہ خوان شیخ خضرویہؒ کے سامنے رکھ دیا اور سلام کر کے عرض کیا کہ
میرے آقا نے یہ نذر آپ کی خدمت میں بھیجی ہے اور کہا ہے کہ اگر آپ اسے قبول فرمائیں تو بڑا احسان ہو۔ شیخ نے اپنے خادم کو اشارہ کیا۔ اس نے سرپوش ہٹایا اور حاضرین مجلس نے شیخ کی کرامت دیکھی۔ سب ایک دم روتے ہوئے شیخ کے قدموں میں گر گئے اور ہر شخص اپنی گستاخی کی معافی چاہنے لگا۔ خوان میں چار سو دینار ایک طرف اور نصف دینار دوسری طرف رکھا تھا۔ شیخ خضرویہؒ نے فرمایا ’’میں نے ہر شخص کی بدزبانی اور گستاخی کو صدقِ دل سے معاف کیا۔ تم لوگوں کو اتنی دیر تک روکے رکھنے کا مقصد یہ تھا کہ میں نے حق تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ اس موقع پر ہی تو مدد فرمائے تو بیڑا پار ہوسکتا ہے چنانچہ خدا نے اس حلوہ فروش بچے کویہاں بھیج کر راستہ نکال دیا۔ اس لڑکے کا نصف دینار اگرچہ مالیت میں حقیر ہے ، لیکن اسی پر لڑکے کا اضطراب اور رونا تڑپنا موقوف تھا۔ حق تعالیٰ نے فرما دیا تھا کہ جب تک طفل حلوا فروش آنسو نہ بہائے گا ،ہماری سخاوت کا دریا جوش میں نہ آئے گا۔‘‘ اے عزیز ٗ اس کہانی پر غور کر۔ وہ طفل حلوہ فروش کون ہے؟ وہ تیری رونے والی آنکھ ہے۔ اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا مقصد بر آئے ، تب رونے والی آنکھ سے کام لے۔ جب تک نہ روئے گا ، کامیابی و کامرانی محال ہے
