دیوانگنج گاؤں پالیکا 3 کپتان گنج سنسری نیپال میں ہوئے حادثہ پر ایک نظر میں .....!!
حقیقت کا انکشاف بلال برکاتی کے قلم سے
نیپال اردو ٹائمز کی خصوصی رپورٹ
بلال برکاتی کی رپورٹ گزشتہ منگل بتاریخ 28 جولائی 2026 کی رات ہندوؤں کے ذریعے نکالی گئی ریلی کے درمیان ڈی جے کے معاملے پر ہوئے دو فریقوں کے درمیان مختصر قیل و قال کے بعد جھڑپیں ہوئی جس پر پولیس اہلکاروں نے فوری مداخلت کرتے ہوئے جھگڑا ختم کروا دیا۔ مسلم نوجوان اپنے گھروں کو چلے گئے مگر اسی بیچ کچھ ہندو نوجوان شراب کے نشے میں پولیس اہلکاروں سے الجھ گئے پولیس کے جوان کچھ سمجھ پاتے اس سے پہلے بجلی کٹ گئی اور پھر اندھیرے میں دھڑا دھڑ گولیاں چلنے لگی جس سے دس نوجوان زخمی ہوگئے اور ایک کی وہیں گولی لگنے سے موت ہوگئی یہ معاملہ پولیس اور ہندو نوجوانوں کے درمیان پیش آیا لیکن گولی سے مرنے والے کی شناخت ہوتے ہی معاملہ مزید بھڑک اٹھا زخمی لوگوں کو ہسپتال لے جایا گیا۔

غور طلب امر یہ ہے کہ گولی کیسے چلی؟ کس نے چلایا اب تک معلوم نہ ہوسکا, پولیس کا کہنا ہیکہ گولی ہم نے نہیں چلائی مگر جائے حادثہ پر موجود کچھ لوگوں کا کہنا ہیکہ گولی پولیس کے جوانوں نے چلائی تھی چوں کہ پولیس کے جوانوں نے جب اس معاملے میں مسلمانوں کو اور ہندوؤں کو صلح کراکر واپس کردیا اس کے بعد کچھ شر پسند عناصر جمع ہوئے اور پولیس پر ہی لاٹھی ڈنڈے سے وار کرنے لگے جس کے جواب میں پولیس نے فائرنگ کی جبکہ کچھ لوگو کا کہنا ہیکہ گولی مسلم لڑکوں نے چلائی مگر حقیقت ابھی تک سامنے نہیں آئی ہے تحقیقات جاری ہے
یہ خبر آگ کی طرح پورے نیپال میں پھیل گئی اور پھر صبح ہوتے ہوتے یہ فساد ہندو مسلم کا روپ لے لیا اور پورے سنسری ضلع میں آگ بھڑک اٹھی ہندو نوجوان مشتعل ہوگئے اور کپتان گنج میں موجود مسلمانوں کے گھروں میں آگ لگانے لگے دکانیں جلانے لگے مسلمانوں پر حملہ کرنے لگے جس کو کنٹرول کرنے کے لئے ایس ایس بی کے جوانوں کو سامنے انا پڑا، حالات بگڑتے چلے گئے یہاں تک کہ حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے نیپال آرمی کو میدان میں اتارنا پڑا ادھر دوسری جانب جگہ جگہ گاؤں گاؤں گلی گلی میں احتجاج شروع ہوگیا اور غیر مسلم قوم کے مشتعل نوجوان مساجد مدارس اور مسلم دوکان مکان کو ٹارگیٹ بنانے لگے اور شام ہوتے ہوتے راہ چلتے مسلم مسافروں عورتوں بچوں تک کو تشدد کا نشانہ بنانے لگے اور حالات اس قدر سنگین ہوگئے کہ رات کے وقت مسلم علاقے میں حملہ مساجد مدارس پر حملہ کرنے لگے جس سے مسلمان پریشان ہوگئے پورے سنسری ضلع میں مار دھاڑ جلاؤ گھیراؤ شروع ہوگیا ، ہاسپیٹل جاتے ہوئے ایمبولینس کو روک کر مسلم ہونے کی وجہ سے بیمار آدمی کو گاڑیوں سے اتار کر مارنے پیٹنے کا کام شروع کردیا رات میں نوجوانوں کو اپنے اپنے گاؤں محلے کی حفاظت کے لئے جگ کر پہرہ داری کرنا پڑا حالات مزید بگڑ گئے اس کو کنٹرول کرنے کے لئے مزید کئی گاڑیاں نیپال آرمی کو فیلڈ میں اتارا گیا ۔

ابھی یہ آگ ٹھنڈی بھی نہیں ہوئی تھی دوسرے دن دیکھتے دیکھتے یہ آگ سنسری سے نکل کر سپتری ، سرہا ، دھنوسا ، مہوتری وغیرہ اضلاع تک پہونچ گئ ، سنسری میں ایک درجن سے زیادہ مسلم گھروں کو جلادیا گیا درجنوں دوکانیں جلادی گئیں ، سامان لوٹ لیا گیا کروڑوں کا نقصان ہوا سنسری ضلع میں مسلمانوں کا ہندوتوا وادی جماعت ہندو سمراٹ سینا نے پورے علاقے میں مسلمانوں کے خلاف ایک محاذ کھول دیا ، ہر علاقے کے نوجوان اپنے اپنے محلے کی حفاظت میں رات رات بھر جگتے رہے ، اس کے بعد گزشتہ روز جمعہ کو نیپال کے وزیر داخلہ براٹنگر ہوتے ہوئے کپتان گنج پہونچے زخمی لوگوں سے ہاسپیٹل میں ملاقاتیں کیں پھر مرنے والے کے خاندان سے ملے انہیں تسلی دی ، اس کے بعد وہاں کے میئر اوپ میئر وڈا ادھیکش اور دیگر افراد سے ملاقات کی میڈیا سے گفتگو کیا اور ماحول پر امن کرنے کی اپیل کی ، مگر ماحول خراب ہی رہا پانچ دنوں سے مسلسل پورے سنسری میں کرفیو نافذ رہا تاحال کرفیو نافذ ہے ۔
الحمدللہ اس وقت حالات قدر بہتر ہے ماحول سازگار ہورہے ہیں ابھی کچھ دیر کے لیے کرفیو ختم کیا گیا ہے پھر دوبارہ لگادیا جائے گا ، خلاصہ : اس ہندو مسلم فساد میں مسلمانوں کا کافی نقصان ہوا درجنوں گھر درجنوں دوکانیں درجنوں مساجد کو جلایا گیا توڑ فوڑ کی گئی مسلم مردوں عورتوں کو راستے میں مارا پیٹا گیا تشدد کیا گیا خوف ہراس کا ماحول بنایا گیا، جس سے مسلمان کافی سہمے ہوئے ہیں اور آئندہ کے لئے فکر مند ہیں کہ آگے پتہ نہیں کب کیا ہوجائے۔
اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہیکہ ملک نیپال کی حفاظت فرمائے اور نیپال میں رہنے والے مسلمانوں کے جان و مال آبرو و عزت کی حفاظت فرمائے آمین ثم آمین 🤲 بلال برکاتی نیپالی
