دارالعلوم نورالحق چرہ محمد پور کے مایہ ناز استاذحضرت قاری رئیس احمدخان 43 سالہ درخشاں خدمات کے بعد سبکدوش
چرہ محمد پور/فیض آباد (پریس ریلیز)
ملک کی ممتاز دینی درسگاہ دارالعلوم نورالحق چرہ محمد پور، ضلع ایودھیا (فیض آباد) میں گزشتہ تقریباً 43 برسوں سے علمِ دین کی شمع فروزاں رکھنے والے، استاذ الحفاظ و القراء حضرت قاری رئیس احمد خان صاحب 31 مارچ 2026 کو اپنی طویل، درخشاں اور یادگار تدریسی خدمات مکمل کرکے بحسن و خوبی سبکدوش ہو گئے۔ اپریل 1983 سے شروع ہونے والا یہ بابرکت علمی سفر نصف صدی کے قریب محیط رہا، جس کے دوران آپ نے ہزاروں تشنگانِ علم کو قرآنِ کریم، علمِ قراءت اور اعلیٰ اخلاق و کردار کی دولت سے مالا مال کیا اور انہیں زیورِ علم و عمل سے آراستہ کیا۔
حضرت قاری رئیس احمد خان صاحب کی ہمہ جہت شخصیت علم، عمل، اخلاص اور کردار کا حسین امتزاج رہی ہے۔ آپ نے نہ صرف تدریس کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں بلکہ صحافت، تنظیمی و انتظامی امور اور سماجی و ملی رہنمائی میں بھی اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ اہلِ علم و دانش نے بجا طور پر آپ کی ذات کو “قلم، قراءت اور کردار کا حسین امتزاج” قرار دیتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ آپ نے نسلوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ معاشرے کی فکری و اخلاقی اصلاح میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔
اسی سلسلے میں ضلع فیض آباد کے محکمہ اقلیتی فلاح و بہبود کی جانب سے وکاس بھون، فیض آباد میں ایک باوقار الوداعی و اعزازی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں حضرت قاری رئیس احمد خان صاحب کے علاوہ دیگر دینی اداروں کے سبکدوش ہونے والے اساتذۂ کرام کو بھی مدعو کیا گیا۔ اس موقع پر ضلع اقلیتی فلاح و بہبود افسر نے معزز علماء کرام، جن میں حضرت علامہ مختار الحسن صاحب بغدادی (شیخ الحدیث، دارالعلوم نورالحق)، حضرت مولانا ظہیر الدین صاحب قادری، حضرت مفتی ریحان الحسن صاحب نوری، حضرت مولاناشکیل احمد خان صاحب اور حضرت قاری عبدالوحید صاحب شامل تھے، کی موجودگیمیں سبکدوش اساتذہ کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں اعزازی ایوارڈ سے نوازا۔ یہ تقریب درحقیقت اہلِ علم کی عزت و قدر افزائی اور علمی خدمات کے اعتراف کی ایک روشن مثال ثابت ہوئی۔
مختلف علماء و مشائخ، اہلِ قلم اور دانشورانِ قوم و ملت نے اس موقع پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے قاری صاحب کی سبکدوشی کو “ایک عہد کا اختتام اور ایک نئے روشن دور کا آغاز” قرار دیا۔ معروف اہلِ قلم بالخصوص ادیب شہیر حضرت مولانا محمد شمیم احمد صاحب نوری مصباحی(ناظم تعلیمات دارالعلوم انوارِمصطفیٰ سہلاؤ شریف،باڑمیرراجستھان)نے تحریر کیا کہ “آپ کی تدریسی زندگی علم، اخلاق اور اخلاص کا حسین مرقع رہی ہے اور آپ کا فیض تاقیامت آپ کے شاگردوں کے ذریعے جاری و ساری رہے گا”۔
خوش فکر شاعر و ادیب ڈاکٹر کلیم قیصر نے اپنے تاثرات میں کہا کہ “سبکدوشی خدمات کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئی تعمیری زندگی کا نقطۂ آغاز ہے”، جب کہ شیخِ طریقت حضرت علامہ محمد انصار رضا صاحب جامی برہان پوری نے آپ کی روحانی، علمی اور اصلاحی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ کی ذات رشد و ہدایت کا مینار اور اخلاص و وفا کا روشن نمونہ ہے۔
اسی طرح اکابر اہلِ علم میں ادیبِ شہیر حضرت علامہ نفیس احمد مصباحی بارہ بنکوی (شیخ الادب، جامعہ اشرفیہ مبارکپور)، حضرت مولانا مفتی محمد جنید احمد مصباحی رامپوری (استاذ، جامعہ اشرفیہ)، حضرت قاری ذاکر علی قادری (پرنسپل، مدرسہ حنفیہ ضیاء القرآن لکھنؤ)،حضرت مولانا مفتی شمس القمر علیمی قاضی شہر:ایودھیا، حضرت مولانا محمد عرفان قادری(استاذمدرسہ حنفیہ ضیاء القرآن لکھنؤ)حضرت قاری جلال الدین قادری (ناظم اعلیٰ، جامعہ اسلامیہ روناہی)، حضرت مولانا محمد سلمان رضا جامعی ازہری (وائس پرنسپل، جامعہ اسلامیہ روناہی) اور حضرت مولانا محمد عمار رضا حشمتی (ناظم اعلیٰ، دارالعلوم مخدومیہ
ردولی شریف) نے تحریری، ٹیلیفونک اور بالمشافہ اپنے تاثرات میں قاری صاحب کی علمی، تدریسی، ملی اور سماجی خدمات کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
دارالعلوم فیض الرسول براؤں شریف کے موقر استاذ حضرت مولانا اشتیاق احمد قادری نے اپنے مفصل تاثرات میں آپ کی شخصیت کو ایک ہمہ گیر پیکر قرار دیتے ہوئے لکھا کہ آپ نے بطور معلم صرف علم ہی نہیں دیا بلکہ کردار سازی، دیانت، تقویٰ اور خدمتِ دین کا جذبہ بھی پروان چڑھایا، نیز آپ کی صحافتی بصیرت اور انتظامی مہارت بھی قابلِ تقلید ہے۔
معروف عالم و قلمکار حضرت مولانا محمد عباس مصباحی ازہری نے اپنے بلیغ انداز میں لکھا کہ “آپ علم و قراءت کے گلستان کا تناور درخت، قلم و فکر کے افق کا روشن ستارہ اور اخلاق و محبت کا دلنشیں نمونہ ہیں”، جب کہ مولانا غلام غوث جامعی نے کہا کہ “ایک شفیق استاد کی خدمات کبھی فراموش نہیں کی جاتیں بلکہ وہ رہتی دنیا تک نسلوں کی رہنمائی کرتی رہتی ہیں”۔
اسی موقع پر دیگر جید علماء و مشائخ میں بالخصوص حضرت مولانا فیاض احمد مصباحی اور مولانا غلام غوث جامعی سمیت متعدد اہلِ علم نے بھی اپنے تاثرات پیش کیے، جب کہ شعراء و ادباء میں استاذ الشعراء جناب رونق سلطان پوری، ڈاکٹر حمایت جائسی، خالد اعظم ٹانڈوی، طارق مصطفیٰ (مسقط، عمان) اور معظم ارزاں شاہی دوست پوری وغیرہ نے بھی اپنے منظوم و منثور کلمات کے ذریعے قاری صاحب کی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا۔
دیگر اہلِ قلم میں شمیم احمد ضیائی نے آپ کی اصاغر نوازی اور حسنِ اخلاق کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ “آپ کی شفقت و محبت نے ہر دل کو مسخر کر لیا”، جب کہ حضرت مولانا محمد معصوم رضا اشرفی نے آپ کی خدمات کو دیانت، شرافت اور فرض شناسی کی اعلیٰ مثال قرار دیا۔
شعری انداز میں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر حمایت جائسی نے کہا:
روشن چراغ چرہ میں قاری رئیس ہیں
پرکیف باغ چرہ میں قاری رئیس ہیں
جب کہ معروف شاعر مولانا ندیم سلطان پوری نے کہا:
خوش خلق نیک نام ہیں قاری رئیس خان
سرکار کے غلام ہیں قاری رئیس خان
اللہ کی طرف سے یہ انعام ہے ندیم
مقبول خاص و عام ہیں قاری رئیس خان
دیگر اہلِ قلم نے بھی آپ کی شخصیت کو “نخلِ سایہ دار” اور “مشعلِ راہ” قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ آپ کی خدمات کا یہ تابندہ سلسلہ سبکدوشی کے بعد بھی مزید وسعت اور اثر کے ساتھ جاری رہے گا۔اس موقع پر دارالعلوم نورالحق چرہ محمد پور کے جملہ اساتذۂ کرام، عملہ، طلبہ اور چرہ محمد پور و اطراف کے درجنوں معززین نے بھی اپنے محبوب استاذ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور اسے ادارہ کی تاریخ کا ایک یادگار باب قرار دیا۔ آپ کے تلامذہ کی جانب سے بھی اپنے محبوب استاذ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ چنانچہ حافظ و قاری مولانا محمد کونین نے کہا کہ آپ کی آواز میں تجوید کی حلاوت، اندازِ تدریس میں اخلاص اور شخصیت میں عاجزی و وقار ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہے اور آپ نے ہمیں قرآن پڑھنے کے ساتھ اس پر عمل کا جذبہ بھی عطا کیا۔
حافظ وقاری محمد عاقب جاوید نوری نے آپ کو ایک عظیم معلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنی پوری زندگی علمِ دین کی اشاعت اور طلبہ کی تربیت میں صرف کی اور آپ کی خدمات ہر استاد کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
حافظ محمد دانش خان نے اپنے تاثرات میں کہا کہآپ نے زنگ آلود ذہنوں کو سنوار کر انہیں علم و عمل کی روشنی عطا کی اور آپ صرف استاد نہیں بلکہ ایک شفیق باپ کی مانند ہیں جن کی تعلیمات ہمیشہ رہنمائی کرتی رہیں گی۔
اسی طرح حضرت مولانا نورالحسن صاحب نوری نے کہا کہ ایک سچا استاد کبھی سبکدوش نہیں ہوتا اور امید ہے کہ قاری صاحب کا درس و تدریس اور قلمی خدمات کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔
آخر میں علماء و مشائخ نے بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حضرت قاری رئیس احمد خان صاحب کی گراں قدر دینی، علمی اور اصلاحی خدمات کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، انہیں صحت و عافیت کے ساتھ طویل عمر نصیب فرمائے اور ان کے علم و فیض کو صدقۂ جاریہ بنائے۔
حقیقت یہ ہے کہ قاری رئیس احمد خان صاحب کی سبکدوشی محض ایک ملازمت کا اختتام نہیں بلکہ
ایک ایسے روشن اور تابندہ سفر کا نیا موڑ ہے، جس کی کرنیں آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔
نیپال اردو ٹائمز ادارتی ٹیم کی جانب سے حضور فخرالقرا حضرت قاری رئیس احمد خاں حفظہ اللہ کی بارگاہ میں 43 سالہ دینی خدمات پر مبارک باد پیش کرتے ہیں ، حضرت قاری صاحب قبلہ نے اصاغر نوازی میں کبھی بھی کمی نہ کی نیپال اردو ٹائمز کے ساتھ ہمیشہ آپ کی دعائیں شامل رہی ہیں
حضرت قاری صاحب قبلہ نے ہر شمارے پر قیمتی مشوروں کے ساتھ دعائیں دیتے رہے ہیں ، گزشتہ شمارے پر حضرت نے اپنی دعاؤں سے پوری ادارتی ٹیم کو نوازا حضرت کا تاثر یہاں شامل کرنا میں باعث سعادت سمجھتا ہوں ۔۔۔
تاثر بقلم رئیس القرا
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
سید الایام جمعہ مبارکہ کو نظر نواز ہونے والا ہفت روزہ نیپال اردو ٹائمز، نیپال --- قارئین کی بزم میں جب آتا ہے تو اہلِ بزم مطالعہ میں مصروف ہو جاتے ہیں،
ٹائمز کے معیاری مضامین، تفصیلی حالات سے عالمی آگاہی اور چنندہ شعراء کے کلام پڑھ کر ہم سب اپنی معلومات میں مزید اضافہ کرتے ہیں اور ٹائمز کے مدیر اعلیٰ حضرت مولانا عبد الجبار صاحب علیمی نظامی اور ان کی پوری ٹیم کے لیے دل سے دعا نکلتی ہے کہ مدیر موصوف اور ان کی ٹیم کو اللہ تعالیٰ صحت و سلامتی کے ساتھ رکھے جس سے یہ ہفت روزہ نیپال اردو ٹائمز دنیائے صحافت جو مقام بنا چکا ہے اس میں مزید اضافہ ہوتا رہے ، اطلاع کے مطابق یہ ہفت روزہ اخبار ہر پڑھے لکھے شخص کی پہلی پسند ہے، مبارک ہو
محتاج دعا : قاری رئیس احمد خان
چرہ محمد پور فیض آباد
ضلع ایودهیا یو پی انڈیا
