سرہا کے گول بازار میں آتش زدگی سے تقریباً 5 کروڑ کے نقصان کا دعویٰ، متاثرہ تاجر کا انصاف اور معاوضے کا مطالبہ
شفیق رضا نمائندہ نیپال اردو ٹائمز
جنکپور : ضلع سرہا کے گول بازار میونسپلٹی–8، پرانے چوہروا میں واقع نیو اسلم بسترالے میں گزشتہ 14 ساؤن (جمعرات) کو سنسری واقعے کے خلاف ہونے والے احتجاج کے دوران پیش آنے والی آتش زدگی سے تقریباً 5 کروڑ نیپالی روپے کے نقصان کا دعویٰ متاثرہ تاجر اسلم خان نے کیا ہے۔ انہوں نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے خاندان پر گزرنے والی اس المناک صورتحال کو عوام کے سامنے رکھا۔اسلم خان نے بتایا کہ آگ لگنے کے باعث دکان میں موجود تمام کپڑے اور دیگر سامان مکمل طور پر جل کر خاکستر ہو گئے، جبکہ تقریباً 2 لاکھ نیپالی روپے نقد بھی آگ کی نذر ہو گئے۔ اس کے علاوہ ان کے تین منزلہ مکان کو بھی جزوی نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق اس سانحے کے نتیجے میں پانچ افراد روزگار سے محروم ہو گئے ہیں اور ان کا پورا خاندان شدید معاشی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔آبدیدہ ہوتے ہوئے انہوں نے کہا، "ہم برسوں سے اس بازار میں ہر مذہب، برادری، زبان اور قومیت کے لوگوں کے ساتھ بھائی چارے اور محبت کے ماحول میں تجارت کرتے آئے ہیں۔ کبھی کسی سے کوئی تنازع نہیں ہوا، لیکن آج ہمارا خاندان بے سہارا ہو گیا۔ آخر ہماری غلطی کیا تھی؟"انہوں نے مزید بتایا کہ آتش زدگی میں صرف دکان کا سامان ہی نہیں بلکہ تقریباً 2 کروڑ نیپالی روپے کے ادھار لین دین سے متعلق حسابی رجسٹر (بہی کھاتے) بھی جل کر تباہ ہو گئے۔ اس وقت دکان کے اندر موجود پانچ ملازمین کی جان بھی خطرے میں پڑ گئی تھی، تاہم وہ بڑی مشکل سے محفوظ باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ اسلم خان نے احتجاج کے دوران پیش آنے والے پرتشدد واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "غصہ کہیں اور تھا مگر اس کا خمیازہ بے گناہ تاجروں کو بھگتنا پڑا۔ یہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ تشویش واقعہ ہے۔" اپنی مالی صورتحال بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کاروبار کو وسعت دینے کے لیے انہوں نے گول بازار میونسپلٹی–11، بلکاوا میں واقع اپنی زمین رہن رکھ کر این آئی سی ایشیا بینک سے 2 کروڑ 8 لاکھ نیپالی روپے قرض حاصل کیا تھا، لیکن بروقت قرض ادا نہ کر سکنے کے باعث بینک نے وہ جائیداد نیلام کر دی، جبکہ اب بھی تقریباً 2 کروڑ روپے کی مزید رقم کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مالی مشکلات کے باعث دکان کا بیمہ بھی نہیں کروا سکے تھے۔ ان کا کہنا تھا، "پہلے ہی گھر کا خرچ چلانا مشکل تھا، اب یہ بڑی آفت آ گئی ہے۔ سمجھ نہیں آتا کہاں جائیں اور کیا کریں۔ ادھار پر لیا گیا کپڑوں کا سرمایہ بھی کیسے واپس کریں؟"اسلم خان نے سنسری اور سرہا میں احتجاج کے دوران جان گنوانے والے تین افراد کے لیے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے، متاثرہ خاندان کی بحالی کو یقینی بنایا جائے اور مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کے تمام مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ ہمیشہ خوشگوار تعلقات رہے ہیں۔ ان کے بقول، "ہم ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک ہوتے تھے، کبھی مذہب یا ذات پات کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہیں برتا گیا، پھر آج ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہوا؟ ہمیں صرف انصاف چاہیے۔
