مراسلات
عنوان: شانِ صحافت کا درخشاں چراغ — چیف ایڈیٹر عبدالجبار علیمی نظامی
صحافت کسی بھی معاشرے کی آنکھ، کان اور زبان ہوتی ہے، اور جب یہ ذمہ داری ایسے صاحبِ فکر و نظر کے ہاتھوں میں ہو جو دیانت، بصیرت اور اخلاص کے پیکر ہوں تو یقیناً صحافت محض خبر رسانی نہیں رہتی بلکہ ایک مشن، ایک تحریک اور ایک امانت بن جاتی ہے۔ اسی قبیل کے درخشاں ناموں میں ایک معتبر اور قابلِ احترام نام چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز، جناب عبدالجبار علیمی نظامی کا ہے، جنہوں نے اپنی بے مثال صلاحیتوں اور اعلیٰ صحافتی اقدار کے ذریعے اردو صحافت میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔
عبدالجبار علیمی نظامی صاحب کی شخصیت ہمہ جہت اوصاف کی حامل ہے۔ آپ نہ صرف ایک باوقار مدیر ہیں بلکہ ایک باخبر تجزیہ نگار، صاحبِ قلم دانشور اور دردِ دل رکھنے والے سماجی رہنما بھی ہیں۔ آپ کی تحریروں میں جہاں حقائق کی گہرائی ہوتی ہے، وہیں الفاظ کی شائستگی اور اسلوب کی دلکشی بھی قاری کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ آپ نے ہمیشہ صحافت کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس فریضہ سمجھا، اور اسی احساسِ ذمہ داری کے تحت اپنی خدمات انجام دیتے رہے۔
نیپال اردو ٹائمز کے پلیٹ فارم سے آپ نے نہ صرف اردو زبان و ادب کی خدمت کی بلکہ سماجی، ملی اور تعلیمی مسائل کو بھی نہایت سنجیدگی اور جرات کے ساتھ اجاگر کیا۔ آپ کی ادارت میں یہ ادارہ ایک معتبر آواز کے طور پر ابھرا ہے، جہاں سچائی، توازن اور دیانت کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ آپ نے ثابت کیا کہ محدود وسائل کے باوجود اگر نیت صاف اور عزم مضبوط ہو تو صحافت کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔
آپ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ آپ نے ہمیشہ نوجوان قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کی۔ ان کی رہنمائی کی، ان کے قلم کو جِلا بخشی اور انہیں ایک مثبت سمت عطا کی۔ آج بے شمار ایسے لکھاری ہیں جو آپ کی سرپرستی میں پروان چڑھ کر اردو صحافت کا سرمایہ بن چکے ہیں۔ یہ آپ کی تربیت اور خلوص کا ہی نتیجہ ہے کہ آپ کے گرد ایک ایسا علمی و ادبی حلقہ قائم ہے جو علم، ادب اور شعور کے فروغ میں سرگرم عمل ہے۔
عبدالجبار علیمی نظامی صاحب کی تحریروں میں جرأتِ اظہار کے ساتھ ساتھ اعتدال اور حکمت بھی نمایاں ہوتی ہے۔ آپ نے کبھی جذباتیت کو اپنے قلم پر حاوی نہیں ہونے دیا بلکہ ہمیشہ دلیل، تحقیق اور توازن کو مقدم رکھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی آواز کو نہ صرف سنجیدگی سے سنا جاتا ہے بلکہ اس پر اعتماد بھی کیا جاتا ہے۔
بلا شبہ، موجودہ دور میں جب صحافت مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے میں آپ جیسے مخلص، باوقار اور باصلاحیت مدیران کی موجودگی امید کی کرن ہے۔ آپ کی خدمات اردو صحافت کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ۔
اللہ ربُّ العزت سے دعا ہے کہ وہ جناب عبدالجبار علیمی نظامی صاحب کو صحت و عافیت کے ساتھ دراز عمر عطا فرمائے، ان کے قلم میں مزید تاثیر پیدا کرے، اور انہیں اسی طرح حق و صداقت کی خدمت انجام دینے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔ آمین یا رب العالمین۔✍️ آفتاب عالم گوہر قادری واحدی
عزت مآب پروفیسر رفیع الدین ناصر قومی اعزاز یافتہ معلم
محترم و مکرمی
*جناب عبدالجبار علیمی* چیف ایڈیٹر، نیپال اردو ٹائمز، کھٹمنڈو
آداب و تسلیمات!
اللہ تعالیٰ کی ذاتِ بابرکات سے امید ہے کہ آپ بمعہ جملہ وابستگان خیریت و عافیت سے ہوں گے۔
آج *نیپال اردو ٹائمز* کا شمارہ اردو اخبارات کے ایک گروپ میں دیکھنے کا اتفاق ہوا، جس سے بے حد خوشی ہوئی۔ بارہ صفحات پر مشتمل اس خوبصورت اور معیاری اردو اخبار کو دیکھ کر دل مسرور ہو گیا۔ نیپال جیسے ملک سے آپ جس خلوص اور لگن کے ساتھ اردو زبان و ادب کی خدمت انجام دے رہے ہیں، وہ واقعی قابلِ تحسین اور لائقِ ستائش ہے۔
اخبار میں خبروں کی بہترین کوریج دیکھنے کو ملی، جس میں مقامی، علاقائی، ملکی اور بین الاقوامی خبروں کو نہایت سلیقے اور جامع انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اداریہ حالاتِ حاضرہ کی عمدہ عکاسی کرتا ہے۔ اسی طرح اصلاحِ معاشرہ سے متعلق منتخب مضامین بھی نہایت مفید اور فکر انگیز ہیں۔
اگرچہ آج کا شمارہ غالباً صحافتی ترتیب یا موضوعاتی انتخاب کے لحاظ سے مخصوص نوعیت کا تھا، تاہم اس میں ادبی مضامین، غزلیں اور نظمیں بھی بہت عمدگی سے شامل کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ مذہبی معلومات اور دیگر عام فہم مضامین بھی شاملِ اشاعت ہیں، جو قارئین کے لیے نہایت مفید ہیں۔یہ چونکہ ہمارا دیکھا ہوا یہ پہلا شمارہ ہے، اس لیے امید ہے کہ ہر شمارے میں مختلف موضوعات کا احاطہ کیا جاتا ہوگا۔ یقیناً کسی شمارے میں سائنسی موضوعات بھی شامل کیے جاتے ہوں گے۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو اردو زبان و ادب کے فروغ میں آپ کا کردار مزید نمایاں ہوگا۔ بہرحال، ہماری جانب سے اس کامیاب اشاعتی کاوش پر دلی مبارکباد قبول فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مساعی کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور مزید کامیابیاں نصیب کرے۔
نیک تمناؤں کے ساتھ *پروفیسر رفیع الدین ناصر* قومی اعزاز یافتہ معلم اورنگ آباد، مہاراشٹر
از نیپال اردو ٹائمز
محترم و مکرم :پروفیسر رفیع الدین ناصر صاحب اورنگ آباد، مہاراشٹر
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
آپ کا محبت بھرا مکتوب موصول ہوا، جس میں آپ نے نیپال اردو ٹائمز کے حالیہ شمارے کے حوالے سے جس خلوص، شفقت اور حوصلہ افزائی کا اظہار فرمایا، اس پر ہم دل کی گہرائیوں سے آپ کے شکر گزار ہیں۔
یقیناً آپ جیسے صاحبِ علم و دانش کی جانب سے اس نوعیت کے تاثرات ہمارے لیے باعثِ فخر بھی ہیں اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ بھی۔ آپ نے اخبار کے مختلف پہلوؤں،خبروں کی جامع کوریج، اداریہ، اصلاحی مضامین اور ادبی مواد،پر جس باریک بینی سے روشنی ڈالی، وہ ہمارے لیے رہنمائی کا درجہ رکھتی ہے۔
ہماری بھرپور کوشش یہی ہے کہ نیپال اردو ٹائمز کو ایک ایسا معیاری پلیٹ فارم بنایا جائے جہاں صحافت کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ زبان و ادب، معاشرتی اصلاح، مذہبی آگہی اور سائنسی شعور کو بھی متوازن انداز میں پیش کیا جا سکے۔ آپ کی قیمتی آراء یقیناً ہمیں اپنے کام کو مزید بہتر بنانے میں مدد دیں گی۔ آپ نے سائنسی موضوعات کی شمولیت کی طرف جو توجہ دلائی ہے، وہ نہایت اہم اور بروقت ہے۔ ان شاء اللہ ہم آئندہ شماروں میں اس پہلو کو مزید نمایاں کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ قارئین کو متنوع اور مفید مواد فراہم کیا جا سکے۔دعا ہے کہ آپ کی سرپرستی اور رہنمائی ہمیں آئندہ بھی حاصل رہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو صحت و عافیت کے ساتھ مزید علمی و ادبی خدمات انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ ایک بار پھر آپ کی محبتوں اور دعاؤں کا تہہ دل سے شکریہ۔
والسلام عبدالجبار علیمی نیپالی چیف ایڈیٹر، نیپال اردو ٹائمز کاٹھمانڈو، نیپال
غلام جیلانی قمر
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ:اردو دنیا کے علمی و ادبی حلقوں میں وہی ادارے قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں جو معیار، سنجیدگی اور فکری بصیرت کو اپنا شعار بنائیں۔ نیپال اردو ٹائمز نے قلیل مدت میں اپنی متوازن، باوقار اور ذمہ دار صحافت کے ذریعے اہلِ ذوق کے مابین منفرد شناخت قائم کر لی ہے، جس کی بنیاد پر ادارہ علمی و ادبی حلقوں میں اعتماد و احترام کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔
یہ امر قابل ستائش اور لائقِ تحسین ہے کہ نیپال اردو ٹائمز نوجوان علماء، فضلاء اور اہلِ ذوق کی علمی و فکری تحریروں کو ترجیحی بنیادوں پر شائع کرتا ہے۔ نئی نسل کے قلم کاروں کی یہ حوصلہ افزائی نہ صرف علم و ادب کے فروغ کا ذریعہ ہے بلکہ اردو صحافت کے روشن مستقبل کی نوید بھی ہے۔میں ادارے کی علمی بصیرت، کارکنان کی جاں فشانی اور اس کی گراں قدر خدمات کو قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت اس جریدے کو مزید ترقی، مقبولیت اور دوام عطا فرمائے، اور اسے حق و صداقت کی توانا آواز بنائے رکھے۔ باری تعالیٰ آپ تمام حضرات کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے۔ آمین۔
غلام جیلانی قمریکم مئی 2026
