امریکی وزیر دفاع کے خلاف مواخذے کی تیاری، ایران جنگ کے درمیان مشکلات میں اضافہ
واشنگٹن:(ایجنسیاں )ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکی سیاست میں ہلچل تیز ہو گئی ہے، جہاں اپوزیشن ڈیموکریٹک پارٹی نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایوان نمائندگان میں اس حوالے سے باضابطہ تجویز پیش کیے جانے کے بعد ان کی سیاسی پوزیشن کمزور ہوتی دکھائی دے رہی ہے، اگرچہ فی الحال اپوزیشن کے پاس مطلوبہ اکثریت موجود نہیں ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹ اراکین نے وزیر دفاع پر پانچ بڑے الزامات عائد کیے ہیں۔ رکن کانگریس یاسمین انصاری کی جانب سے پیش کیے گئے سات صفحات پر مشتمل مواخذہ مسودے پر آٹھ دیگر ارکان نے بھی دستخط کیے ہیں۔ ان الزامات میں سب سے اہم یہ ہے کہ وزیر دفاع نے کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف جنگی کارروائی شروع کی، جس سے نہ صرف آئینی اصولوں کی خلاف ورزی ہوئی بلکہ امریکی فوجیوں کی جان کو بھی
خطرہ لاحق ہوا۔مزید برآں، ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ انہوں نے جنگ کے دوران شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اجازت دی، جس سے عالمی سطح پر امریکہ کی ساکھ متاثر ہوئی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ مواخذے کی تجویز میں ایک اور اہم معاملہ 'سگنل گیٹ' کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیر دفاع کی مبینہ غفلت کے باعث حساس خفیہ معلومات لیک ہوئیں، جس سے قومی سلامتی کو خطرہ لاحق ہوا۔ ساتھ ہی یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پینٹاگون نے کانگریس کے دونوں ایوانوں کو ضروری معلومات فراہم نہیں کیں اور کئی اہم تفصیلات کو دانستہ طور پر چھپایا گیا۔ ڈیموکریٹ لیڈروں نے وزیر دفاع پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وہ فوج کے اندر تنوع اور شمولیت کی پالیسیوں کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے امریکی فوج کی
کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف ادارہ جاتی توازن کے خلاف ہیں بلکہ عوامی مفاد کے بھی منافی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں وزیر دفاع کو عہدے سے ہٹانے کے لیے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں بڑی اکثریت درکار ہوگی۔ اطلاعات کے مطابق اس عمل کے لیے سینیٹ میں تقریباً 75 اور ایوان نمائندگان میں 325 ارکان کی حمایت ضروری ہے، جو فی الحال ڈیموکریٹس کے پاس موجود نہیں۔
تاہم اگر حکمران ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت کے کچھ ارکان بھی اپوزیشن کا ساتھ دیتے ہیں تو وزیر دفاع کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بھی زیر بحث ہے کہ حالیہ دنوں میں ایران سے متعلق پالیسی کی ذمہ داری وزیر دفاع پر ڈالے جانے کے بعد ان پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ فی الحال یہ معاملہ امریکی سیاست میں ایک نئے بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے اور آنے والے دنوں میں اس کے اثرات مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔
