Sep 21, 2026 09:04 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
بچوں کی تعلیم و تربیت والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری

بچوں کی تعلیم و تربیت والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری

10 Sep 2026
1 min read

بچوں کی تعلیم و تربیت والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری

ابن اشرف متعلم :مظاہر علوم سہارنپور

رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْؤُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ»

تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر شخص سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

یہ حدیثِ مبارک ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ اولاد اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک امانت ہے، اور اس امانت کے بارے میں والدین سے بھی سوال کیا جائے گا۔ اس لیے والدین کو صرف بچوں کے مستقبل، روزگار، ڈگری اور عہدے کی فکر نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ان کے ایمان، عقیدہ، اخلاق، کردار اور دینی تربیت کی بھی فکر کرنی چاہیے۔

آج ہم اپنے بچوں کے لیے اچھے سے اچھے اسکول، کالج اور یونیورسٹی تلاش کرتے ہیں، ان کی فیس کے لیے اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرتے ہیں، کوچنگ اور ٹیوشن کا انتظام کرتے ہیں، تاکہ ہمارا بچہ بڑا ہو کر ڈاکٹر، انجینئر، وکیل یا کسی بڑے عہدے پر فائز ہو؛ یہ سب اپنی جگہ ضروری ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس کے ایمان اور کردار کے لیے بھی اتنی ہی فکر کی؟

یاد رکھیے! اگر اللہ تعالیٰ نے ہمارے پاس وسائل دیے ہیں، ہمیں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کی استطاعت دی ہے، تو یہ ہماری خوش نصیبی ہے؛ لیکن ان وسائل کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ اگر ہم نے بچے کو ایک اچھے اسٹینڈرڈ کے انگلش اسکول میں داخل کرا دیا، پھر بہترین کالج اور یونیورسٹی تک پہنچا دیا، لیکن قرآن، عقیدہ، نماز، حلال و حرام

اور اسلامی اخلاق کی بنیادی تعلیم سے اسے دور رکھا تو ہم نے اس کی دنیا تو سنوارنے کی کوشش کی، مگر آخرت کو خطرے میں ڈال دیا۔

اور عصرِ حاضر میں اس غفلت کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔

آج ہمارے بعض نوجوان لڑکے اور لڑکیاں ایسے ماحول میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں جہاں انہیں مختلف مذاہب، نظریات، تہذیبوں اور فکری رجحانات سے واسطہ پڑتا ہے۔ یہ بذاتِ خود کوئی برائی نہیں؛ علم سے واقف ہونا ضروری ہے، لیکن اگر بچے کے اندر اپنے دین کی بنیادی سمجھ، اپنے عقیدے پر اعتماد اور حلال و حرام کا شعور ہی پیدا نہیں کیا گیا تو وہ مختلف فکری اور اخلاقی چیلنجز کے سامنے آسانی سے متاثر ہوسکتا ہے۔

ہم دیکھ رہے ہیں کہ بعض مسلم نوجوان دینی کم علمی اور کمزور تربیت کی وجہ سے اپنے مذہبی تشخص سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ بعض غیر مسلم افراد سے شادی کو معمولی بات سمجھنے لگتے ہیں، بعض ایسے تعلقات کو بھی قابلِ اعتراض نہیں سمجھتے جنہیں اسلام نے واضح طور پر حرام قرار دیا ہے، اور Living Relationship جیسی مغربی معاشرتی اصطلاحات بعض نوجوانوں کے ذہن میں اس حد تکمعمول بن رہی ہیں کہ انہیں اس کے

دینی اور اخلاقی انجام کا احساس تک نہیں رہتا۔

یہاں ہمیں ذرا رک کر سوچنا چاہیے کہ آخر یہ صورتِ حال کیوں پیدا ہوئی؟

کیا صرف بچے ہی قصوروار ہیں؟

یقیناً انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے، اور کوئی شخص اپنے گناہ کا بوجھ دوسرے پر نہیں ڈال سکتا؛ لیکن والدین اور معاشرے کی تربیتی ذمہ داری کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

اگر ہم بچوں کی لغزشوں اور انحرافات میں ان کی اپنی غلطی کو ساٹھ فیصد سمجھیں تو بعض حالات میں باقی چالیس فیصد ذمہ داری ہماری ناقص Parenting، کمزور تربیت اور والدین کی غفلت پر بھی آتی ہے۔ یہ کوئی شرعی یا سائنسی تناسب نہیں، بلکہ اپنی ذمہ داری کا احساس دلانے کے لیے ایک مثال ہے۔

ہم نے بچے کو موبائل دے دیا، 

انٹرنیٹ دے دیا، آزادی دے دی، مہنگے اسکول اور کالج میں داخلہ دے 

دیا، لیکن یہ نہیں بتایا کہ انٹرنیٹ پر کیا دیکھنا ہے اور کیا نہیں؛ کس سے دوستی کرنی ہے اور کس سے نہیں؛ کون سا نظریہ قبول کرنا ہے اور کون سا نہیں؛ حلال کیا ہے اور حرام کیا ہے؛ ایمان 

کیا ہے اور کفر کیا ہے؛ نکاح کیا ہے اور ناجائز تعلق کیا ہے۔

پھر جب بچہ بڑا ہو کر غلط راستے پر چل پڑتا ہے تو ہم کہتے ہیں:

"ہمیں تو معلوم ہی نہیں تھا کہ ہمارا بچہ ایسا بن جائے گا!"

والدین! بچے اچانک نہیں بدلتے، اکثر تبدیلیاں آہستہ آہستہ آتی ہیں۔ پہلے نماز چھوٹتی ہے، پھر قرآن سے تعلق کم ہوتا ہے، پھر دینی باتیں بوجھ محسوس ہونے لگتی ہیں، پھر غلط صحبت ملتی ہے، پھر غلط نظریات داخل ہوتے ہیں، اور آخرکار انسان کو صحیح اور غلط کے درمیان فرق بھی مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔

اسی لیے تربیت کا کام اس وقت شروع نہیں ہونا چاہیے جب بچہ بگڑ جائے؛ تربیت تو اس وقت شروع ہونی چاہیے جب بچہ آپ کی گود میں ہو۔

والدین کو اپنے بچوں کو یہ سمجھانا ہوگا:

بیٹا! ہم مسلمان ہیں، ہم اہلِ ایمان 

ہیں۔ ہمارا رب صرف اللہ تعالیٰ ہے، ہمارا دین اسلام ہے، ہماری کتاب قرآن مجید ہے اور ہمارے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ ہماری

زندگی کا مقصد صرف دنیا حاصل کرنا نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی حاصل کرنا ہے۔

بیٹی! تمہیں تعلیم حاصل کرنی ہے، دنیا میں آگے بڑھنا ہے، اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے، لیکن اپنی عزت، حیا، ایمان اور اسلامی شناخت کو قربان کرکے نہیں۔

بیٹا! تمہیں ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، پروفیسر یا افسر بننا ہے، لیکن اپنی کامیابی کی قیمت اپنا ایمان بنا کر نہیں چکانی۔

آج ہمیں اپنے بچوں کو صرف Career Education نہیں بلکہ Character Education بھی دینی ہے؛ صرف ڈگری نہیں، دین بھی دینا ہے؛ صرف زبانیں نہیں، اخلاق بھی سکھانے ہیں؛ صرف دنیا کے مقابلے کے لیے تیار نہیں کرنا بلکہ آخرت کے لیے بھی تیار کرنا ہے۔

الحمدللہ! ہمارے مدارس اس سلسلے میں ایک اہم کردار ادا کررہے ہیں۔ مدارس میں بچوں کو قرآن و حدیث، توحید، رسالت، آخرت، عبادات، 

اخلاق اور اسلامی تہذیب و اقدار کی تعلیم دی جاتی ہے۔ انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ دنیا کے علوم حاصل کرنا منع نہیں، بلکہ مفید علوم حاصل کرنا قوم کی ضرورت ہے؛ البتہ دنیاوی علم کے ساتھ ایمان اور کردار کی حفاظت بھی 

ضروری ہے۔

یہ بات بھی واضح رہنی چاہیے کہ دینی تعلیم کی اہمیت بیان کرنے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم انگلش تعلیم، سائنس، ٹیکنالوجی، کالج یا یونیورسٹی کے مخالف ہیں۔ ہماری قوم کو اچھے حفاظ اور علماء کی بھی ضرورت ہے، اور اچھے ڈاکٹروں، انجینئروں، وکلاء، سائنس دانوں، اساتذہ اور ٹیکنالوجی کے ماہرین کی بھی ضرورت ہے۔

ہم چاہتے ہیں کہ ہمارا بچہ دین بھی جانے اور دنیا بھی؛ قرآن بھی پڑھے اور سائنس بھی؛ اسلامی تاریخ سے بھی واقف ہو اور جدید ٹیکنالوجی سے بھی؛ اپنے عقیدے پر بھی مضبوط ہو اور زمانے کے تقاضوں کو سمجھنے والا بھی ہو۔

ہم اپنے بچوں کو بڑے سے بڑا عہدہ دیں، لیکن ان کے دل میں یہ بات ضرور بٹھائیں کہ:

میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں، مسلمان ہوں، اور حضرت محمد ﷺ کا امتی ہوں۔ یہی میری سب سے بڑی پہچان ہے۔

اگر وہ ڈاکٹر بنے تو ایمان والا ڈاکٹر بنے،اگر وکیل بنے تو دیانت دار وکیل بنے، اگر انجینئر بنے تو امانت دار انجینئر بنے، اگر پروفیسر بنے تو کردار بنانے والا پروفیسر بنے، اور اگر کسی بڑے منصب تک پہنچے تو اسے یہ احساس رہے کہ منصب اللہ تعالیٰ کی امانت ہے۔

دنیاوی تعلیم اسے روزگار دے سکتی ہے، عہدہ دے سکتی ہے، شہرت دے سکتی ہے؛ لیکن دینی تعلیم اسے زندگی کا مقصد، حلال و حرام کا شعور اور آخرت کی جواب دہی کا احساس دیتی ہے۔

بچے کے ہاتھ میں موبائل دینے سے پہلے اسے صحیح اور غلط کا شعور دیں۔ اسے آزادی دینے سے پہلے ذمہ داری کا احساس دیں۔ اسے کالج اور

یونیورسٹی بھیجنے سے پہلے دین کی بنیادی تعلیم دیں۔ اسے دنیا کے نظریات سے متعارف کرانے سے پہلے اپنے دین اور عقیدے کی بنیادی سمجھ دیں۔

کیونکہ آج کا بچہ کل کا صرف ایک فرد نہیں، کل کے معاشرے، قوم اور امت کا معمار ہے۔

علامہ اقبالؒ نے  کیا خوب کہا ہے:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)