Sep 21, 2026 09:04 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
اپنا پھیلایا رائتہ خود ہی سمیٹنا  خودداری، ذمہ داری اور بالغ نظری کا معیار

اپنا پھیلایا رائتہ خود ہی سمیٹنا خودداری، ذمہ داری اور بالغ نظری کا معیار

10 Sep 2026
1 min read

اپنا پھیلایا رائتہ خود ہی سمیٹنا  خودداری، ذمہ داری اور بالغ نظری کا معیار

بختیار برکاتی

دارالحکومت دہلی ہند 

کبھی ایک لفظ، کبھی ایک فیصلہ، کبھی ایک غلط اندازہ اور کبھی ایک لمحے کی جلد بازی—بس اتنا ہی کافی ہوتا ہے کہ برسوں سے سنبھلا ہوا معاملہ بکھر جائے۔ پھر ہم اسے محاورے کی زبان میں کہتے ہیں: "رائتہ پھیل گیا۔"

مگر زندگی کا اصل سوال یہ نہیں کہ رائتہ کس نے پھیلایا؛ اصل سوال یہ ہے کہ اسے سمیٹنے کے لیے کون آگے بڑھتا ہے؟

یہیں سے انسان کے کردار کی پہچان شروع ہوتی ہے۔

غلطی انسان سے ہوتی ہے۔ کوئی بھی شخص زندگی میں ہر فیصلہ درست نہیں کر سکتا۔ اصل فرق غلطی سے نہیں، غلطی کے بعد اختیار کیے گئے رویے سے پیدا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ فوراً ذمہ داری سے بچنے کے لیے عذر تراشتے اور دوسروں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ خاموشی سے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہیں اور اسے درست کرنے میں

لگ جاتے ہیں۔

اپنی غلطی تسلیم کرنا کمزوری نہیں، ظرف کی علامت ہے۔

بالغ انسان یہ نہیں سوچتا کہ غلطی کا ملبہ کس کے سر ڈالا جائے؛ وہ یہ سوچتا ہے کہ جو نقصان ہوا ہے، اسے کم کیسے کیا جائے۔ وہ ضرورت پڑنے پر مدد ضرور لیتا ہے، مگر اپنی ذمہ داری دوسروں کے کندھوں پر نہیں ڈالتا۔

اپنی غلطی کی قیمت خود ادا کرنا ایک ایسا سبق ہے جو کتابوں سے نہیں ملتا۔ یہی تجربہ انسان 

کو آئندہ فیصلوں میں محتاط، متوازن اور ذمہ دار بناتا ہے۔ جو شخص اپنے بکھرے ہوئے معاملات خود سمیٹتا ہے، وہ صرف ایک مسئلہ حل نہیں کرتا بلکہ اپنے اندر خود اعتمادی، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور کردار کی پختگی پیدا کرتا ہے۔

خودداری کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کبھی کسی سے مدد نہ لے۔ حقیقی خودداری یہ ہے کہ وہ اپنے فیصلوں اور اعمال کی ذمہ داری قبول کرے۔ غلطی ہوئی ہے تو معذرت کرے، نقصان ہوا ہے تو ازالہ کرے، اور فیصلہ غلط ثابت ہوا ہے تو اسے بدلنے کا حوصلہ رکھے۔

کیونکہ انا کہتی ہے: "میں غلط نہیں ہوسکتا۔"

جبکہ بالغ نظری کہتی ہے: "اگر غلط ہوں تو خود کو درست کرلوں گا۔" زندگی میں رائتہ ہر کسی سے پھیلتا ہے؛ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی اسے چھپانے کے لیے دوسروں کو ڈھونڈتا ہے اور کوئی خاموشی سے جھک کر اسے سمیٹنا شروع کر دیتا ہے۔

غلطی انسان کو چھوٹا نہیں کرتی، مگر اپنی غلطی کی ذمہ داری سے بھاگنا ضرور چھوٹا کر دیتا ہے۔

کردار کی بلندی یہ نہیں کہ انسان کبھی نہ گرے؛ اصل بلندی یہ ہے کہ گرنے کے بعد وہ کسی کو دھکا دے کر خود کو کھڑا نہ کرے، بلکہ اپنے زخموں سمیت اٹھے، اپنی غلطی تسلیم کرے، بکھری ہوئی چیزیں سمیٹے اور دوبارہ چل پڑے۔

آخرکار انسان کی عظمت بے عیب ہونے میں نہیں، اپنی خطا کے بعد اپنے آپ کو سنوارنے میں ہے۔

رائتہ پھیل جانا شاید ایک لمحے کی لغزش ہو، مگر اسے سمیٹنا ایک شعوری فیصلہ ہے۔ اور یہی فیصلہ بتاتا ہے کہ انسان کے اندر انا زیادہ ہے یا اخلاق، بہانہ زیادہ ہے یا ذمہ داری، اور شکست کا خوف زیادہ ہے یا اصلاح کا حوصلہ۔اس لیے اگلی بار زندگی میں کچھ بکھر جائے تو یہ مت سوچیے کہ "کس نے پھیلایا؟"

ایک لمحے کے لیے خود سے پوچھیے: "اسے سمیٹنے والا کون ہوگا؟"اور اگر جواب آئے: "میں۔"تو سمجھ لیجیے کہ آپ نے صرف ایک مسئلہ حل کرنے کا فیصلہ نہیں کیا—آپ نے اپنے کردار کو ایک درجہ بلند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کیونکہ آخرکار زندگی ہم سے یہ نہیں پوچھتی کہ تم سے کتنی غلطیاں ہوئیں؛

وہ یہ دیکھتی ہے کہ اپنی غلطیوں کے بعد تم انسان کتنے بڑے ہوئے۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)