نیپال حکومت کی تعلیمی اصلاحات اور مدارس کے لیے قابلِ غور پیغام
ڈاکٹر سلیم انصاری جھاپا نیپال
نیپال حکومت نے تعلیم ضابطہ، ۲۰۵۹ (ترمیم) کے ذریعے ملک کے تعلیمی نظام کو مزید شفاف، منظم اور جوابدہ بنانے کی سمت ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ ان اصلاحات سے واضح ہوتا ہے کہ حکومت صرف اسکولوں کی تعداد بڑھانے پر توجہ نہیں دے رہی، بلکہ تعلیم کے معیار، بہتر نظم و نسق، اساتذہ کی کارکردگی، طلبہ کے حقوق اور مقامی سطح پر مؤثر نگرانی کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کر رہی ہے۔ اگر ان اصلاحات پر مؤثر انداز میں عمل درآمد کیا گیا تو یہ نیپال کے تعلیمی شعبے کو مزید مضبوط اور جدید بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
ان اصلاحات کا ایک نمایاں پہلو اسکول مینجمنٹ کمیٹی (VMC) سے متعلق ہے۔ اب سیاسی جماعتوں کے فعال ارکان، وارڈ چیئرمین، وارڈ ممبران، اساتذہ اور اسکول کے ملازمین اس کمیٹی کے رکن نہیں بن سکیں گے۔ اسی طرح بدعنوانی، انسانی اسمگلنگ، منشیات، نسلی امتیاز، اغوا اور دیگر سنگین جرائم میں سزا یافتہ افراد بھی اس
کمیٹی کا حصہ نہیں بن سکیں گے۔ اس کا مقصد تعلیمی اداروں کو غیر ضروری سیاسی اثر و رسوخ سے محفوظ رکھنا اور شفاف انتظام کو فروغ دینا ہے۔
حکومت نے مقامی حکومتوں کو بھی زیادہ اختیارات دیے ہیں۔ اب وہ نئے اسکول کھولنے، اسکولوں کی منظوری دینے، نئی جماعتوں کی اجازت دینے، نگرانی کرنے اور پرنسپل کی تقرری جیسے اہم فیصلے کر سکیں گی۔ اس سے مقامی سطح پر جوابدہی اور انتظامی کارکردگی میں بہتری آنے کی توقع ہے۔
پرنسپل کی تقرری کے لیے بھی واضح معیار مقرر کیے گئے ہیں۔ بنیادی سطح کے پرنسپل کے لیے گریجویشن اور ثانوی سطح کے لیے پوسٹ گریجویشن کے ساتھ مستقل استاد ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے، تاکہ تعلیمی اداروں کی قیادت اہل اور تجربہ کار افراد کے ہاتھ میں ہو۔
اساتذہ کے تبادلوں کو بھی ایک منظم نظام کے تحت لایا گیا ہے۔ کم از کم تین سال کی مدت پوری کیے بغیر تبادلہ نہیں ہوگا، خالی
اسامیوں کی بروقت اطلاع دینا لازمی ہوگا اور تبادلے کے لیے آن لائن یا عوامی اطلاع جاری کی جائے گی۔ حاملہ خواتین، معذور اساتذہ اور کم عمر بچوں کی ماؤں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کے ساتھ سینیارٹی، تعلیمی قابلیت اور تربیت کی بنیاد پر نمبرات کا نظام بھی نافذ کیا گیا ہے تاکہ فیصلے شفاف اورمنصفانہ ہوں۔
اسکولوں کے انضمام، تدریسی دنوں، نجی اسکولوں کی نگرانی، خصوصی تعلیم، طلبہ کے حقوق، وظائف اور ای۔پنشن جیسے شعبوں میں بھی جامع اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں۔ خاص طور پر طلبہ پر جسمانی یا ذہنی تشدد، تضحیک اور امتیازی سلوک پر پابندی
اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومت محفوظ اور باوقار تعلیمی ماحول فراہم کرناچاہتی ہے۔
ان اصلاحات سے ایک اہم سبق مدارس بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ اگرچہ مدارس کا اپنا دینی اور تعلیمی تشخص ہے، لیکن بہتر نظم و نسق، شفاف انتظام، میرٹ پر تقرری، اساتذہ کی مسلسل تربیت، مالی شفافیت، طلبہ
کے حقوق کا تحفظ اور جدید انتظامی طریقوں کو اختیار کرنا ایسے اقدامات ہیں جو ہر تعلیمی ادارے کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ اصول دینی تعلیم کے بنیادی مقاصد سے بھی ہم آہنگ ہیں۔
نیپال کے مدارس اگر اپنے دینی تشخص کو برقرار رکھتے ہوئے انتظامی اصلاحات، معیاری تعلیم، جدید ریکارڈ مینجمنٹ، باقاعدہ نگرانی، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی اور طلبہ کی فلاح پر مزید توجہ دیں تو وہ معاشرے میں
اپنا کردار مزید مؤثر انداز میں ادا کر سکتے ہیں۔ اس سے والدین کا اعتماد بڑھے گا تعلیمی معیار بہتر ہوگا اور مدارس نئی نسل کی
، دینی و عصری رہنمائی زیادہ مضبوط بنیادوں پر کر سکیں گے۔
تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ اس لیے حکومت، تعلیمی اداروں، مدارس، اساتذہ، والدین اور معاشرے کے تمام طبقات کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایسی اصلاحات کا خیرمقدم کریں جو شفافیت، معیار، انصاف اور طلبہ کی بہتری کو فروغ دیں۔ یہی راستہ ایک مضبوط، تعلیم یافتہ اور خوشحال نیپال کی تعمیر میں مددگار ثابت ہوگا۔
