Sep 21, 2026 09:55 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
بچوں کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت ، اور  والدین کی  ذمہ داریاں

بچوں کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت ، اور والدین کی ذمہ داریاں

10 Sep 2026
1 min read

بچوں کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت ، اور  والدین کی  ذمہ داریاں

ازـ

 علی احمد نظامی

دارالعلوم اہلسنت مصباح العلوم بلوکھ سدھارتھ نگر

   بچے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی ایک عظیم نعمت اور امانت ہیں۔ ان کی صحیح دینی و اخلاقی تربیت کرنا ہر مسلمان والدین کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ موجودہ دور میں، جہاں جدید ٹیکنالوجی اور مغرب زدہ ثقافت کے اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، بچوں کو دین کی بنیادی تعلیمات اور اسلام کی روح سے روشناس کروانا اور بھی زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

اسلام میں اولاد کی تربیت کو بنیادی فرض قرار دیا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے

،اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔

" (سورۃ التحریم: 6)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور اس سے اس کی رعیت (زیر کفالت لوگوں) کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔" (صحیح بخاری)

اگر ہم بچوں کو بچپن ہی سے دینی ماحول دیں گے تو ان کے عقائد مضبوط ہوں گے، وہ اچھے اخلاق کے مالک بنیں گے اور معاشرے کے بہترین اور کارآمد شہری ثابت ہوں گے۔

بچوں کو دین سکھانا صرف چند کتابیں پڑھانے کا نام نہیں، بلکہ ان کی شخصیت کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کا نام ہے۔ اس کے لیے درج ذیل طریقے اپنائے جا سکتے ہیں:

  خود نمونہ بنیں کیوں کہ بچے نصیحت سے زیادہ عمل سے سیکھتے ہیں۔ اگر والدین خود نماز کے پابند، سچے، بااخلاق اور تلاوت کرنے والے ہوں گے تو بچے بھی وہی عادتیں اختیار کریں گے۔

 جب بچہ بولنا شروع کرے تو اسے اللہ کا نام اور کلمہ طیبہ سکھائیں۔ اسے پیار سے بتائیں کہ ہمارا خالق اور مالک کون ہے اور حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں۔   سات سال کی عمر سے ہی بچوں کو پیار اور نرمی کے ساتھ اپنے ساتھ نماز کے لیے کھڑا کریں۔ مسجد لے جائیں تاکہ ان میں باجماعت نماز اور دینی ماحول سے محبت پیدا ہو۔

 بچوں کو ناظرہ قرآن کے ساتھ ساتھ اس کی چھوٹی سورتوں کا ترجمہ اور مفہوم بھی ان کی عمر کے مطابق سمجھائیں۔

بچوں کو کارٹون یا بے مقصد کہانیوں کے بجائے انبیاء علیہ السلام، صحابہ کرامؓ اور اسلامی ہیروز کی سچی اور سبق آموز کہانیاں سنائیں۔ اس سے ان کا ذہن مضبوط ہوگا اور وہ اسلامی تاریخ سے روشنی حاصل کریں گے۔

  کھانا کھانے کی دعا، سونے اور جاگنے کی دعا، اور گھر میں داخل ہونے کی دعائیں بچوں کو یاد کروائیں اور خود بھی ان کا اہتمام کریں۔

دین کی تعلیم میں سب سے اہم بات نرمی اور صبر ہے۔ بچوں پر سختی کرنے یا ڈرانے دھمکانے سے وہ دین سے دور ہو سکتے ہیں۔

 حوصلہ افزائی کریں: جب بچہ کوئی اچھا کام کرے مثلاً نماز پڑھے یا کسی کی مدد کرے تو اس کی تعریف کریں اور چھوٹا موٹا تحفہ دیں۔

  آج کے دور میں بچوں کے ذہن میں بہت سے سوالات آتے ہیں۔ ان کے سوالات پر غصہ ہونے کے بجائے حکمت اور پیار سے دینی روشنی میں جواب دیں۔

بچوں کو دین سکھانا ایک مسلسل سفر اور محنت کا کام ہے۔ اگر ہم بچپن ہی سے ان کے دلوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت، اور دین کا احترام پیدا کر دیں، تو یہی اولاد ہمارے لیے دنیا میں عزّت اور آخرت میں صدقہ جاریہ اور مغفرت کا ذریعہ بنے گی۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)