غزل
اے غمِ عاشقی! اس طرح تو برباد نہ کر
دل کی اجڑی ہوئی بستی کو پھر آباد نہ کر
یوں ستم کر لیا تُم نے جو میرے دل پہ بہت
اب نیا اور کوئی بھی ستم ایجاد نہ کر
تیری آنکھوں کی طلب آج بھی باقی ہے مگر
اپنی نظروں سے مرے دل پہ تو بیداد نہ کر
تو نے جو زخم دیا اُن سب کو بھلا بیٹھا ہوں
گزرے اس وقت، اُس لمحے کو اور یاد نہ کر
سیکھ لے خوش تو اکیلا ہی رہنا اے ثمیرؔ
جا چکا جو بھی ہے اب اُس کی تو فریاد نہ کر
ثمیرؔ سعید کٹیہاری
متعلم ؛ جامعہ امام ابنِ تیمیہ مشرقی چمپارن، بہار الہند
