Sep 22, 2026 11:42 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
دل کی اجڑی ہوئی بستی کو پھر آباد نہ کر

دل کی اجڑی ہوئی بستی کو پھر آباد نہ کر

27 Aug 2026
1 min read

غزل

اے غمِ  عاشقی!  اس  طرح  تو  برباد نہ کر 

دل کی اجڑی ہوئی بستی کو پھر آباد نہ کر 

 

یوں ستم کر لیا تُم نے جو میرے دل پہ بہت 

اب  نیا  اور  کوئی  بھی ستم  ایجاد نہ کر

 

تیری آنکھوں کی طلب آج بھی باقی ہے مگر

اپنی نظروں سے مرے دل پہ تو بیداد نہ کر

 

تو نے جو زخم دیا اُن سب کو بھلا بیٹھا ہوں 

گزرے اس وقت، اُس لمحے کو اور یاد نہ کر 

 

سیکھ لے  خوش تو  اکیلا  ہی   رہنا اے ثمیرؔ

جا چکا جو بھی ہے اب اُس کی تو فریاد نہ کر

 

 

ثمیرؔ سعید کٹیہاری

 

متعلم ؛ جامعہ امام ابنِ تیمیہ مشرقی چمپارن، بہار الہند

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)