(قاری) محبوب الحسن محبوؔب مظفرنگری
غزل
لب پہ رکھو تم سوال تھوڑا سا
دل میں رہنے دو خیال تھوڑا سا
وقت کی دھوپ چھین لیتی ہے
چہرے کا سب جمال تھوڑا سا
لوگ اب دیکھتے نہیں مڑ کر
بدلا اپنا بھی حال تھوڑا سا
تیری محفل میں آ تو بیٹھے ہیں
اب تو ہو جائے کمال تھوڑا سا
اے خدا! دے ہمیں سکونِ دل
دور کر دے یہ زوال تھوڑا سا
دیکھنا اس کی بے رخی اک دن
کر نہ دے گی نڈھال تھوڑا سا
تم جو آئے تو دور ہو جائے
میرے دل کا ملال تھوڑا سا
زندگی کے سفر میں محبوؔب
اپنا رکھیے گا خیال تھوڑا سا
محبوب الحسن محبوؔب مظفرنگری
استاذ مدرسہ بیت العلوم گوکل پور کمال پور میرٹھ (یوپی)
