درود ان پر سلام ان پر
اللہ کے نبی ﷺپر درود سلام بھیجنا مرض نفاق سے محفوظ رہنا ہے
محمد عبدالحفیظ اسلامی
خطیب مسجد صالحہ قاسمؒ وسینئر کالم نگار حیدرآباد
9849099228
إِنَّ اللَّہَ وَمَلَائِکَتَہُ یُصَلُّونَ عَلَی النَّبِیِّ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَیْْہِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیْماً (الاحزاب: 56)
اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں ‘ اے لوگو جو ایمان لائے ہو‘ تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔
محترم قارئیں! مذکورہ بالاآیتِ درود‘ آنحضرت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان و عظمت کا سارے عالمین میں چرچابلند کرنے کا اللہ تعالی عزوجل کی طرف سے بہت بڑااعلان ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود وسلام بیھجنا نفاق ( منافقت) سے نجات کا ایک بہترین اور مجرب ذریعہ ہےاور اس عمل سے دل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت جاگتی اور پروان چڑھتی ہے۔ چنانچہ مالک کائنات وحدہ لاشریک لہ نےسب سے پہلے اپنی طرف سے اسکا اعلان فرما رہا ہے کہ دیکھو! ’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے درود بھیجتے ہیں نبیؐ پر ‘‘ آیت کریمہ کا ابتدائی حصہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان و عظمت اللہ کی نظر میں انتہائی بلند تر ہے۔ لہٰذا آگے اس بات کی تاکید کی جارہی ہے کہ” اے لوگو جو ایمان لائے ہو۔ (یعنی اللہ الہ واحد‘ رب العالمین کے بھیجے ہوئے دین پر چلنے کا دل و جان سے پختہ ارادہ کرلینے ‘ اور اسی کے عبادت و بندگی کرنے کا فیصلہ کرچکنے ‘ اور مرتے دم تک اسی پر قائم رہنے کا اعلان کرنےوالے، اپنے بندوں کو اللہ کی طرف سے حکم دیا جارہا ہےکہ دیکھو! میں اور میرے ملائکہ، (ساری نوع انسانی کیلئے مبعوث فرمائے گئے) نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں۔ لہٰذاتم بھی اپنے نبیؐ رحمت پر درود وسلام بھیجو چنانچہ یوں فرمایا: ”صَلَوا عَلَیہِ وَسَلِّمُوا تَسْلِیْماً “۔
حضرت علامہ پیر محمد کرم شاہ علیہ الرحمہ نے اس آیتِ درود کے تین فاعل بتلائے ہیں۔ اس کا جاننا ہر مسلمان کیلئےضروری ہے تاکہ شعورو اخلاص کے ساتھ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پیش کئےجانے کی عظمت واہمیت واضح ہوجائے۔ ”اس آیت کریم کی جلالت شان کو زیادہ سے زیادہ سمجھنے کیلئے پہلے اس کے کلمات طیبات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔
آیت کریمہ میں فعل صلوٰۃ (درود) کے تین فاعل ہیں۔
(1) اللہ تعالیٰ (2) فرشتے (3)اہل اسلام۔ مختصر طور پراسکے چند اقتباسات نقل کیے جا تے ہیں۔
(1) جب اسکی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتو اس کا معنی یہ ہوتاہےکہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کی بھری محفل میں اپنے محبوب کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف وثنا کرتا ہے۔ علامہ آلوسیؒ اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:(ترجمہ ) اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے کا یہ مفہوم ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنےمحبوب کے ذکر کو بلند کرکے ‘ اس کے دین کو غلبہ دے کر اور اس کی شریعت پر عمل برقرار رکھ کے اس دنیا میں حضور کی عزت وشان بڑھاتا ہے اور روز محشر امت کے لئے حضور کی شفاعت قبول فرماکر اور حضور کو بہترین اجر و ثواب عطاکرکے اور مقام محمود پر فائز کرنے کے بعد اولین وآخرین کے لئے حضور کی بزرگی کو نمایاں کرکے اور تمام مقربین پر حضور کو سبقت بخش کر حضور کی شان کو آشکارا فرماتا ہے۔(اقتباس)
(2)’’اورجب اس کی نسبت ملائکہ کی طرف ہو تو صلوٰۃ کے معنی دعا ہے کہ ملائکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کے پیارے رسول کےدرجات کی بلندی اور مقامات کی رفعت کے لئے دست بدعا ہیں‘‘ (اقتباس)
3)’’جب اللہ تعالیٰ اپنے مقبول بندے پر ہمیشہ اپنی برکتیں نازل فرماتا رہتا ہے اور اس کے فرشتے اس کی ثناءگستری (مدح خوانی) میں زمزمہ سنج (نغمہ سرائی) رہتے ہیں اور اس کی رفعت شان کے لئے دْعائیں مانگتے رہتے‘ تو اے اہل ایمان تم بھی میرے محبوب کی رفعت شان کیلئے دعامانگا کرو‘‘۔ (اقتباس)
’’اگرچہ صلوٰۃ بھیجنے کا ہمیں حُکم دیاجارہا ہے لیکن ہم نہ شانِ رسالت کو کماحقہ‘جانتے ہیں اور نہ اس کاحق ادا کرسکتے ہیں۔ اس لئے اعتراف عجز کرتے ہوئے ہم عرض کرتے ہیں: اللہم صلی الخ۔۔۔ یعنی مولاکریم توہی اپنے محبوب کی شان کواور قدر منزلت کوصحیح طور پر جانتا ہےاسلئے تو ہی ہماری طرف سے اپنے محبوب پر درود بھیج جو اس کے شان کے شایان ہے‘‘ (اقتباسات‘ تفسیر ضیاء القرآن جلد چہارم صفحہ: 88 تا 89) (آیت درود) سورہ احزاب کی56 ویں آیت مبارکہ ہے۔ اور اس میں کل آیات 73 آے ہیں اور اس کا نزول 5 ہجری مدینہ منورہ میں ہوا۔نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنےکا ،اہل ایمان کر جو حکم دیا گیا ہے۔اسےاچھی طرح سمجھنےکیلئےاس کے نزول کے وقت کےاحوال ہماری نگاہوں میں رہنے چاہیےتاکہ درود و سلام کی اہمیت وعظمت ہمارے دل ودماغ میں کامل خلوص و
ادراک Sincerity and Perception کے ساتھ بیٹھ جائے۔ چنانچہ جیسے جیسے بتدریج اسلام کا نور عرب کی وادیوں کہساروں اور قبیلوں و برادریوں کو اپنی آغوش میں لے رہا تھا ویسے ویسے‘اسلام سے عدوات Enmity رکھنے والے یہود ونصاریٰ مشرکین و منافقین Hypocrites کے دلوں میں حسد کی آگ بھڑک رہی تھی‘ اس حسد کی آگ میں مبتلا ہوکر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام بلند کی قدر نہ جانی، جیسا کہ باطل طاقتوں کے پاس حق سے مقابلےکیلئےانکے ترکش سے تیروں کا ذخیرہ ختم ہوجاتا ہے تو پھر وہ حق کے خلاف ہر زہ گوئی و بداخلاقی پر اتر آتے ہیں گویا ان کا یہ آخری حربہ ہوتا ہے۔اورآج کی نام نہاد تہذیب کے علمبردار بھی اسلام سے عداوت میں اتنے اندھےہوگئے ہیں کہ وہ بھی پہلےزمانے کےجاہلوں کی طرح نبی رحمت شافیِ محشرصلی اللہ علیہ وسلم کواپنے لیے زحمت سمجھتے ہوئے آپؐ پر رکیک قسم کے الزامات لگاتےاوردنیا میں آپؐ کو نیچا دکھانے کی ناکام کوشش کرتے اور گستاخانہ کلمات ادا کرتے ہیں، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے اذن سے اپنی امت کی بخشش کے لئے ” شفاعت کبریٰ“ فرمائینگے، مگر یہ لوگ اس حقیقت کو نہیں جانے۔۔۔! اللہ تبارک تعالیٰ عزوجل نے اپنے محبوب بندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی بابرکت پر عالم بالا وعالم ملکوت The Celestial World سے لیکر دنیائے فانی The mortal world اور عالم خاکی (مٹی کی دنیا) تک کےذرہ ذرہ میں آپؐکی نغمہ سرائی Reciting یعنی آپ کے مقام بلند کو،خوبصورت آواز میں نعت بیان کرنے کا انتظام فرمادیا ہے جسکی کوئی انتہا نہیں، شاعرؔ شاہ عبدالحقؒ دہلوی یا عبدالعزیزؒ دہلوی یا بعض روایات میں شیخ سعدی اورمولانا جامی رحمہ اللہ‘ کہتے ہیں: لَا یُمکِنُ الثناء کما کان حقہ۔
بعد از خدا بزرگ توئ قصہ مختصر....
یعنی بات کو مختصر الفاظ میں عرض کیا جاے تو بس اتنا کہنا کافی ہےکہ کائنات میں خدا تعالی بلند وبرتر کے بعد سب سے اعلی مقام ومرتبہ صرف آپ سید البشر صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔
چنانچہ آج بھی نبی رحمتؐ کے بارے میں یہودو نصاریٰ مشرکین ومنافقین میں سے جو کچھ گستاخیاںکی جارہی ہیں اس کے جواب میں معقول طریقہ پر اہل ایمان اپنے نبیؐ کی شان میں وہی دعائیہ کلمات ادا کرتے رہیں جو اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو آیت درود کی صورت میں سکھلائے ہیں۔ اب یہ جتنا کچھ نبی کی شان میں گستاخی بے و ادبی ”lnsultingtheProphet“ کریں گے وہ یقیناً اپنے کیفر کردار تک پہنچ جائیں گے ، کیونکہ زمین وآسمان بھی اس بات پر گواہ ہےکہ وہ سارے بے ادب سابق میں کس طرح انجام بد کو پہنچ چکے ہیں !!!۔ لیکن اب ہمارا کام یہ ہے کہ آپؐ پر درود وسلام پڑھتےرہیں اوراس کے تقاضوں کے مطابق نبیؐ کے لائے ہوئے دین کی حفاظت کریں،اس کےحامی و مدد گار بنے رہیں اور عصمت رسول و رسالت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے اعتقادی فکری اور علمی وعملی طور پر متحد United to safeguard to prophet,s honor ہوجائیں۔
مذکورہ آیتِ درود کی تشریح کے چند اقتباسات نقل کیے جاتے ہیں جسے پڑھنے سے یقیناً ہمارے قلوب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و الفت سے سرشارو شاداب ہوتے ہیں اور آپ کی والہانہ اطاعت وپیروی کی طرف ہمارے قدم ان شاء اللہ آگے ہی آگے بڑھتے رہیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے موجودہ مسائل کا حل اللہ تعالی پر کامل ایمان و یقین کے ساتھ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی محبت اور وابستگی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔۔۔!
حضرت مولانا سید ابولاعلی مودودی رحمہ اللہ نے اس سلسلہ میں دلنشین تشریح فرمائی وہ لکھتے ہیں کہ:جب دشمنان اسلام اس دین مبین کے فروغ پر اپنے دل کی جلن نکالنے کے لیے حضورؐ کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کررہے تھے‘ اور اپنے نزدیک یہ سمجھ رہے تھے کہ اس طرح کیچڑ اچھال کر وہ آپؐ کے اس اخلاقی اثر کو ختم کردیں گے‘ جس کی بدولت اسلام اور مسلمانوں کے قدم روز بروز بڑھتے چلےجارہے تھے۔ان حالات میں(سورہ احزاب کی) یہ آیت نازل کرکے اللہ تعالیٰ نے دنیا کو بتایا کہ کفارو مشرکین میرے نبیؐ کو بدنام کرنے اور نیچادکھانے کی جتنی چاہے کوشش کر دیکھیں‘ آخرکار وہ منہ کی کھائیں گے۔ اس لیے کہ میں اس پر مہربان ہوں اور ساری کائنات کا نظم و نسق جن فرشتوں کے ذریعے سے چل رہا ہے وہ سب اس کے حامی اور ثناخواں ہیں (اسلام کے دشمن) اس کی مذمت کرکےکیاپاسکتے ہیں، جبکہ میں اس کا نام بلند کررہا ہوں اور میرے فرشتے اس کی تعریفوں کے چرچے کررہے ہیں۔وہ اپنے اوچھے ہتھیاروں سے اس کا کیا بگاڑ سکتے ہیں، جبکہ میری رحمتیں اور برکتیں اس کے ساتھ ہیں اور میرے فرشتے شب و روزدعاکررہے ہیں کہ رب العالمین محمدؐ کا مرتبہ اورزیادہ اونچاکر اور ان کے دین کواور زیادہ فروغ دے۔
دوسرے الفاظ میں اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’اے لوگو‘ جن کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بدولت راہ راست نصیب ہوئی ہے‘ تم ان کی قدر پہچانو اور ان کے احسان عظیم کا حق ادا کرو۔ تم جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے‘ اس شخص (نبیؐ) نے تمہیں علم کی روشنی دی، تم اخلاق کی پستیوں میں گرے ہوئے تھے‘ اس شخص(میرے رسولؐ) نے تمہیں اٹھایا اور اس قابل بنایا کہ آج محسود خلائق بنے ہوئے ہو۔ تم وحشت اور حیوانیت میں مبتلا تھے‘ اس شخص (رحمت اللعلمینؐ) نے تم کو بہترین انسانی تہذیب سے آراستہ کیا۔کفرکی دنیا اسی لیے اس شخص(داعیِ حقؐ) پر خار کھا رہی ہے کہ اس نے یہ احسانات تم پر کیے‘ ورنہ اس نے کسی کے ساتھ ذاتی طورپر کوئی برائی نہ کی تھی۔
اس لیے اب تمہاری احسان شناسی کا لازمی تقاضا یہ ہےکہ جتنابغض وہ اس خیر مجسمؐ کےخلاف رکھتے ہیں‘ اسی قدر بلکہ اس سے زیادہ محبت تم ان سے رکھو۔ جتنی وہ ان سے نفرت کرتے ہیں اتنے ہی بلکہ اس سے زیادہ تم اس کے گرویدہ ہوجاؤ۔
جاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔
