غزل
اے میرے ہمنشیں مُجھکو کیا ہو گیا
میں ترے عشق میں اب فنا ہو گیا
پیار و الفت سے ڈرتا رہا میں مگر
آج لفظِ وفا سے وفا ہو گیا
عمر میری نہ تھی کہ محبت کروں
پھر قیامت یہ کیسے بپا ہو گیا
دل اسی سے لگا کرکے سونچوں سدا
مجھ سے یہ کیسا یارو خطا ہو گیا
جس نے باغوں کو دی ایک دورِ خزاں
وہ محبت بھی مجھ کو عطا ہو گیا
تیری یادوں میں آنہیں بھروں رات بھر
جو خطا تھی مری وہ سزا ہو گیا
جس کی خاطر تو گُمنام ہے اے ثمیرؔ
آج وہ پیار کیوں بے وفا ہو گیا
ثمیرؔ سعید کٹیہاری
