غزل
ان میں ان کا کوئی قصور نہیں
جن ستاروں میں کوئی نور نہیں
وقت نے آزما کے یہ سمجھا
ہر کوئی صاحب شعور نہیں
کل بچھڑنا مرا مقدر تھا
اس میں اسکا کوئی قصور نہیں
جھوٹ ہو جائے گا اگر کہہ دیں
انتظار آپ کا حضور نہیں
رب سے ملتا ہوں روز سجدوں میں
میرے رستے میں کوہ طور نہیں
سیر جنت کی خواب میں کی ہے
اس میں فیصل کی کوئی حور نہیں
از قلم محمد فیضان فیصل
جمال نگر سہرسہ بہار انڈیا
