غزل
انضمام کٹیہاری
7250931856
یہ دل لگی بھی عجیب ہے اِس دل لگی کا پتہ نہیں
وہ کس گلی میں دغا کرے مُجھے اُس گلی کا پتہ نہیں
وہ جو زخم دے کے ہنس پڑا پھر دوسرے سے گلے لگا
جسے دردِ دل ہی ملا نہیں، اُسے عاشقی کا پتہ نہیں
ابھی محفلیں بھی عجیب ہیں، ابھی شاعری بھی غریب ہے
وہ ہے میر بن کے اُبھر رہا، جسے شاعری کا پتہ نہیں
کبھی مسجدوں کا بھی رُخ کرو کبھی رب کو بھی منا تو لو
تُجھے آرزوئے بہشت تو ہے بندگی کا پتہ نہیں
شبّیر دکھ کسی کو تم کسی گھڑی نہ دیا کرو
یہ جو زندگی کا ہے سلسلہ، اِس زندگی کا پتہ نہیں
