Sep 21, 2026 09:54 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
یہ دل لگی بھی عجیب ہے اِس دل لگی کا پتہ نہیں

یہ دل لگی بھی عجیب ہے اِس دل لگی کا پتہ نہیں

27 Aug 2026
1 min read

غزل

انضمام کٹیہاری

7250931856

یہ دل لگی بھی عجیب ہے اِس دل لگی کا پتہ نہیں

وہ کس گلی میں دغا کرے مُجھے اُس گلی کا پتہ نہیں

 

وہ جو زخم دے کے ہنس پڑا پھر دوسرے سے گلے لگا 

جسے دردِ دل ہی ملا نہیں، اُسے عاشقی کا پتہ نہیں

 

ابھی محفلیں بھی عجیب ہیں، ابھی شاعری بھی غریب ہے 

وہ ہے میر بن کے اُبھر رہا، جسے شاعری کا پتہ نہیں

 

کبھی مسجدوں کا بھی رُخ کرو کبھی رب کو بھی منا تو لو 

تُجھے آرزوئے بہشت تو ہے بندگی کا پتہ نہیں

 

شبّیر دکھ کسی کو تم کسی گھڑی نہ دیا کرو

یہ جو زندگی کا ہے سلسلہ، اِس زندگی کا پتہ نہیں

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)