Sep 21, 2026 09:54 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
شناسا نہ کسی کا میں نہ میرا آشنا کوئی

شناسا نہ کسی کا میں نہ میرا آشنا کوئی

27 Aug 2026
1 min read

غزل

 

شاعر : شکیل احمد قمر

…………………………………….

رہا نہ اب کسی سے واسطہ نہ رابطہ کوئی 

شناسا نہ کسی کا میں نہ میرا آشنا کوئی 

 

یقیں نہ کر کسی پہ نہ بنا ہم راز دنیا کو 

کہاں ملتا ہے اس دنیا میں ہمدم باوفا کوئی 

 

میں کھوتا جا رہا ہوں دن بدن اس کے خیالوں میں 

اسے اب بھول جانے کا بتائے راستہ کوئی 

 

ابھی اک شخص کی میں جستجو میں ہوں مگن جاناں 

ترے جانے پہ مجھ سے ہو گیا ہے لاپتا کوئی 

 

دعا میں کیوں اثر ہوتا نہیں، ہو بھی بھلا کیسے 

کسی کو مانگتا ہوں میں، مجھے بھی دوسرا کوئی 

 

کسی بھی راستے میں برملا چلتا رہا ہوں میں 

مری امی دعا گو ہے نہ ہوگا حادثہ کوئی 

 

ہمیشہ زخم دے گا فیصلہ جذبات کا گہرا 

نہ لینا بھول کر جذبات میں تم فیصلہ کوئی 

 

قمر نہ کھل رفیقوں پر خدارا تم کبھی 

کہیں نہ مار دے تجھ کو ترا ہی ہم نوا کوئی

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)