سرہا اوڑھی،بنینیا میں مسلم بستی پر حملہ؛ مساجد میں توڑ پھوڑ،نذرِ آتش، مقدس کتابوں کی بے حرمتی
احمد رضا ابن عبدالقادر اویسی نمائندہ نیپال اردو ٹائمز
مدھیش پردیش نیپال کے ضلع دھنوشہ کی اوڑھی کاؤپالیکا کے وارڈ نمبر ۲ بنینیا میں گزشتہ روز مسلمانوں کے گھروں اور مساجد کو نشانہ بنانے کے واقعات پیش آئے ہیں۔ مشتعل افراد نے گھروں میں توڑ پھوڑ کی، آتش زنی کی اور مساجد سے مقدس کتابوں کو نکال کر نذرِ آتش کر دیا۔ ذرائع کے مطابق منگل کی شام بنینیا-۲ میں کچھ لوگوں کے درمیان تلخ کلامی کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ اس کے بعد مشتعل ہجوم نے مسلمانوں کی بستی کا رخ کیا۔ حملہ آوروں نے ٤ سے ۵ مسلم گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور ۲ گھروں کو آگ لگا دی۔ گھریلو سامان جل کر خاکستر ہو گیا۔سب سے زیادہ دردناک پہلو یہ رہا کہ مقامی مسجد میں گھس کر مقدس کتابوں اور دینی کتب کو نکال کر سڑک پر جلا دیا گیا۔ اس واقعے سے پورے علاقے کے مسلمانوں میں شدید رنج و غم اور خوف پایا جا رہا ہے۔اطلاع ملنے پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کی ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔ صورتحال کو کنٹرول کرنے کے لیے علاقے میں اضافی پولیس نفری تعینات کی گئی ہے۔ ضلع افسر نے واقعے کی تحقیقات کے لیے ۳ رکنی کمیٹی بنا دی ہے۔پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ "ہم نے کچھ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ نقصان کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔ امن بحال کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ ۲۰ سال سے اس علاقے میں امن سے رہ رہے ہیں۔ ایک متاثرہ رہائشی نے کہا "ہمارے گھر جلا دیے گئے، ہماری مقدس کتابوں کی بے حرمتی کی گئی۔ ہم حکومت سے انصاف چاہتے ہیں۔مقامی مسلم رہنماؤں اور سماجی تنظیموں نے مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا: ۱:ملوث افراد کی فوری گرفتاری اور سخت کارروائی ۲:متاثرہ خاندانوں کو مالی معاوضہ اور گھروں کی تعمیر نو میں مدد ۳: مساجد اور مدارس کی ٢٤ گھنٹے حفاظت ٤: علاقے میں امن کمیٹی کا قیام "پس منظر" گزشتہ ہفتے سنسری اور سرہا اضلاع میں بھی اسی طرح کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ جس کے بعد پوربی نیپال میں مسلمانوں کے تحفظ کا مسئلہ دوبارہ سر اٹھا ہے
