*حالاتِ حاضرہ اور مسلمانانِ نیپال
_از: محمد عمران ندوی_
قوموں کی زندگی میں بعض اوقات ایسے موڑ آتے ہیں جب انہیں اپنے گرد و پیش کے حالات سے زیادہ اپنے باطن کی خبر لینے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسے مواقع تاریخ میں بار بار نہیں آتے۔ اگر قوم اس لمحۂ احتساب کو پہچان لے تو اس کی تقدیر کا دھارا بدل جاتا ہے، اور اگر وہ اسے بھی دوسروں کے سہارے گزار دے تو پھر زمانہ اس پر رحم نہیں کرتا۔ آج وطنِ عزیز نیپال کے مسلمان بھی ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑے ہیں، جہاں جذبات سے زیادہ بصیرت، نعروں سے زیادہ حکمت، اور احتجاج سے زیادہ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ یہ وقت صرف دوسروں کی کوتاہیوں کا ماتم کرنے کا نہیں، بلکہ اپنے وجود، اپنی ترجیحات، اپنی نسلوں اور اپنے مستقبل پر سنجیدگی سے غور کرنے کا ہے۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ حالیہ برسوں میں نیپال کے حالات نے ایک نئی کروٹ لی ہے۔ بعض ایسے واقعات رونما ہوئے جنہوں نے مسلمانوں کے دلوں میں اضطراب پیدا کیا، مساجد و مدارس کے تحفظ، مذہبی آزادی، باہمی اعتماد اور قومی ہم آہنگی کے حوالے سے بہت سے سوالات کو جنم دیا۔ ایسے ماحول میں فطری طور پر جذبات ابھرتے ہیں، شکوے جنم لیتے ہیں اور انسان دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے لگتا ہے، لیکن قرآنِ مجید نے اہلِ ایمان کو اس سے بلند تر فکر عطا کی ہے۔ قرآن ہر بحران کے موقع پر سب سے پہلے انسان کو اپنے نفس کے سامنے کھڑا کرتا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:
﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ﴾۔
خشکی اور تری میں فساد لوگوں کے اپنے اعمال کے سبب ظاہر ہوا تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا مزہ چکھائے، شاید وہ رجوع کرلیں۔
یہ آیت صرف ایک تلاوت نہیں، امتِ مسلمہ کے لیے ایک دائمی آئینہ ہے۔ جب بھی حالات بدلیں، جب بھی آزمائش آئے، جب بھی زمین تنگ محسوس ہونے لگے تو سب سے پہلے اپنے اعمال، اپنے رویوں اور اپنی اجتماعی زندگی کا جائزہ لیا جائے۔ یہی انبیاء کی دعوت رہی ہے، یہی قرآن کا
مزاج ہے اور یہی صالحین کا طریقہ رہا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے اس
قرآنی مزاج کو ترک کر دیا ہے۔ ہم ہر مسئلے کی جڑ دوسروں میں تلاش کرتے ہیں، مگر اپنے گریبان میں جھانکنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
میں یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر آج مسلمانانِ نیپال مختلف آزمائشوں سے دوچار ہیں تو اس کا ایک بڑا سبب ہماری اپنی داخلی کمزوریاں بھی ہیں۔ یہ بات کسی کو تلخ محسوس ہو سکتی ہے، مگر تلخی ہمیشہ دشمنی کی علامت نہیں ہوتی، کبھی یہی تلخی شفا بھی بن جاتی ہے۔ قرآن کا انداز بھی یہی ہے کہ وہ امت کو اس کی کمزوریوں سے آگاہ کرتا ہے تاکہ وہ سنبھل جائے، نہ کہ مایوسی میں ڈوب جائے۔
ذرا ٹھنڈے دل سے سوچئے، کیا ہم نے اپنی نسلوں کے ساتھ انصاف کیا؟ کیا ہم نے اپنے بچوں کو صرف مسلمان بنانا کافی سمجھا یا انہیں اچھا مسلمان بنانے کی فکر بھی کی؟ کیا ہم نے انہیں قرآن پڑھایا یا قرآن سمجھایا بھی؟ کیا ہم نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت صرف سنائی یا اس سیرت کو ان کی شخصیت کا حصہ بنانے کی کوشش بھی کی؟ کیا ہم نے انہیں یہ بتایا کہ اسلام مسجد کی چار دیواری تک محدود مذہب نہیں، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں انسان کو ذمہ داری، دیانت، علم، انصاف اور حسنِ اخلاق کا پابند بناتا ہے؟
بدقسمتی سے ہم نے دین کو بھی رسموں میں محدود کر دیا اور دنیا کو بھی دوسروں کے حوالے کر دیا۔ ہماری مسجدیں آباد رہیں مگر ہمارے تعلیمی ادارے کمزور ہوتے گئے۔ ہمارے اجتماعات بڑھتے رہے مگر ہمارے علمی مراکز سکڑتے گئے۔ ہم نے اختلافات کو محفوظ رکھا مگر اپنی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ نہ رکھ سکے۔ ہم نے اپنے بچوں کو یہ تو بتایا کہ وہ کس مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، مگر یہ کم بتایا کہ وہ اس ملک کے ذمہ دار شہری بھی ہیں، انہیں علم کے ہر میدان میں آگے بڑھنا ہے، انہیں قوم کی عزت اور وطن کی تعمیر دونوں میں اپنا حصہ ادا کرنا ہے۔
اسلام نے کبھی اپنے ماننے والوں کو جہالت کی زندگی نہیں سکھائی۔ پہلی وحی کا پہلا لفظ "اقرأ" ہے، اور یہی اس امت کی شناخت ہے۔ جس امت کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کو
عبادت کا درجہ دیا، جس امت کے علماء نے دنیا کی تہذیب، طب، فلکیات، ریاضی، قانون اور فلسفے کو نئی جہتیں عطا کیں، اگر وہی امت علم سے بے نیاز ہو جائے تو اس سے بڑھ کر المیہ کیا ہو سکتا ہے؟ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ قرآن کی تعلیم اور زمانے کے نافع علوم ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے معاون ہیں۔ وہ ہاتھ جو قرآن اٹھاتا ہے، اگر قانون کی کتاب بھی اٹھائے، اگر سائنس کی تحقیق بھی کرے، اگر صحافت کے ذریعے حق کی آواز بھی بلند کرے، اگر عدلیہ میں انصاف کا عَلَم بھی تھامے اور اگر ریاستی اداروں میں دیانت داری کے ساتھ خدمت بھی انجام دے تو یہی اسلام کے جامع تصورِ حیات کا عملی اظہار ہے۔
آج ہماری سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کا ازسرِنو تعین کریں۔ ہم نے مدتوں اپنے مسائل کا حل دوسروں کے دروازوں پر تلاش کیا، حالانکہ قرآن ہمیں اپنے اندر جھانکنے کا سبق دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ﴾
اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کا فیصلہ نہ کر لے۔
یہ آیت محض تسلی نہیں، بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک دائمی منشور ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے حالات بدلیں تو سب سے پہلے ہمیں اپنی سوچ بدلنی ہوگی۔ ہمیں اپنے بچوں کی پرورش کا انداز بدلنا ہوگا، اپنی تعلیم کی سمت بدلنی ہوگی، اپنی اجتماعی ترجیحات بدلنی ہوں گی اور اپنے کردار کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنا ہوگا۔
ذرا ایک لمحے کے لیے رک کر اپنے آپ سے چند سوال کیجیے۔ نیپال کے ریاستی ڈھانچے میں ہماری نمائندگی کہاں ہے؟ کتنے مسلمان ایسے ہیں جو قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مؤثر حیثیت رکھتے ہوں؟ کتنے مسلمان انسپکٹر ہیں؟ کتنے ڈی ایس پی ہیں؟ کتنے ایس پی ہیں؟ کتنے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر (CDO) ہیں؟ کتنے اعلیٰ سرکاری افسر، سیکریٹری، جج،قانون داں، صحافی، پروفیسر اور پبلک پالیسی کے ماہرین ہیں جو ایوانِ حکومت تک ہماری بات دلیل، قانون اور حکمت کے ساتھ پہنچا سکیں؟ اگر یہ تعداد نہ ہونے کے برابر ہے تو پھر ہمیں صرف شکوہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس خلا کو پُر کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔ جس قوم نے ریاستی اداروں میں اپنی جگہ خالی چھوڑ دی، اس کی آواز بھی کمزور ہو جاتی ہے۔
یہ ہرگز مراد نہیں کہ مسلمان اقتدار کے حصول کو اپنا مقصد بنا لیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ وہ اس ملک کی تعمیر، استحکام اور عدل و انصاف کے قیام میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ اسلام ہمیں گوشہ نشینی نہیں سکھاتا، بلکہ ذمہ داری سکھاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں ایک ایسا معاشرہ قائم کیا جہاں ایمان کے ساتھ نظم تھا، عبادت کے ساتھ قانون تھا، روحانیت کے ساتھ ریاست تھی، اور اخلاق کے ساتھ انتظام بھی تھا۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسی جامع تصور کو لے کر دنیا کے سامنے ایک ایسی تہذیب پیش کی جس میں مسجد بھی تھی، عدالت بھی، مدرسہ بھی تھا، بازار بھی، عبادت بھی تھی، حکومت بھی۔
افسوس کہ ہم نے اسلام کو چند عبادات تک محدود کر دیا اور اس کے اجتماعی پہلوؤں کو تقریباً فراموش کر دیا۔ ہم نے اپنے بچوں سے یہ تو کہا کہ نماز پڑھو، لیکن یہ کم بتایا کہ ایک اچھا مسلمان بہترین ڈاکٹر بھی ہوتا ہے، بہترین انجینئر بھی، بہترین وکیل بھی، بہترین جج بھی، بہترین صحافی بھی، بہترین سپاہی بھی اور بہترین سرکاری افسر بھی۔ ہم نے انہیں یہ کم سمجھایا کہ اگر نیت اللہ کی رضا اور مخلوق کی خدمت ہو تو ملک کی خدمت بھی عبادت بن جاتی ہے۔
آج وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنے گھر میں ایک خاموش انقلاب برپا کرے۔ ہر باپ یہ عہد کرے کہ وہ اپنے بچے کو صرف روزگار کے لیے نہیں بلکہ قیادت کے لیے تیار کرے گا۔ ہر ماں یہ خواب دیکھے کہ اس کا بیٹا قرآن کا بھی امین ہوگا اور قانون کا بھی ماہر، دین کا بھی خادم ہوگا اور وطن کا بھی وفادار سپوت۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو قانون (Law)، صحافت (Journalism)، پبلک پالیسی (Public Policy)، سول سروس،عدلیہ، فوج، پولیس، طب، انجینئرنگ، معیشت اور جدید علوم کے ہر میدان میں آگے بڑھانا ہوگا۔ قوموں کی عزت صرف نعروں سے نہیں بنتی، بلکہ تعلیم، صلاحیت اور کردار سے بنتی ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم نے اپنی بہت سی توانائیاں ایسے اختلافات میں ضائع کر دیں جن کا ہماری اجتماعی زندگی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ فرقہ واریت نے ہمیں کمزور کیا، باہمی نزاع نے ہماری قوت منتشر کی اور بے مقصد مباحث نے ہماری نئی نسل کو اصل مسائل سے غافل کر دیا۔ قرآن نے ہمیں ایک امت بنایا تھا، مگر ہم نے خود کو چھوٹے چھوٹے دائروں میں تقسیم کر لیا۔ دشمن کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہوتی ہے کہ وہ کسی قوم کو باہر سے نہیں، اندر سے کمزور کر دے، اور افسوس کہ ہم نے بہت سے مواقع پر یہ کام خود اپنے ہاتھوں سے کیا۔
اس حقیقت سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ ایک قوم کی اصل قوت اس کے جلسوں، نعروں اور جذباتی نعروں میں نہیں، بلکہ اس کے کردار، علم، نظم اور اجتماعی شعور میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ جو قومیں اپنی نسلوں کو صرف ماضی کے قصے سناتی ہیں مگر مستقبل کی تیاری نہیں کرتیں، وہ تاریخ میں زندہ نہیں رہتیں، صرف تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ اسلام نے ہمیں ماضی پر فخر کرنا ضرور سکھایا ہے، مگر ماضی پر جینا نہیں سکھایا، اس نے ہمیں اسلاف کی عظمت کا تذکرہ اس لیے دیا کہ ہم ان کے نقشِ قدم پر چلیں، نہ کہ صرف ان کے ناموں پر ناز کرتے رہیں۔
آج اگر ہم اپنے اسلاف کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان کی عظمت کا راز صرف عبادت کی کثرت میں نہیں تھا، بلکہ ان کے ایمان نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ان کے کردار کو سنوارا، ان کے کردار نے معاشرے کو سنوارا اور ان کے معاشرے نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔
پاس نہ دنیاوی جاہ و جلال تھا اور نہ کسی سلطنت کا غرور، مگر صداقت ایسی کہ قیامت تک ان کا نام سچائی کا استعارہ بن گیا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی عظمت صرف اس لیے نہیں کہ وہ خلیفۂ وقت تھے، بلکہ اس لیے کہ عدل ان کی شناخت بن گیا۔ ان کی عدالت میں امیر و غریب، عرب و عجم اور حاکم و محکوم سب ایک ہی میزان میں کھڑے ہوتے تھے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے امت کو یہ سبق دیا کہ دولت اگر اللہ کی راہ میں صرف ہو تو وہ عبادت بن جاتی ہے، اور حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے اپنے علم، حکمت، شجاعت اور انصاف سے ثابت کیا کہ اقتدار کا حسن تلوار کی دھار میں نہیں بلکہ انصاف کی روشنی میں ہے۔
یہی وہ نفوسِ قدسیہ تھے جنہوں نے قرآن و حدیث کو صرف سینوں میں محفوظ نہیں رکھا بلکہ اپنی عملی زندگی میں اس کا زندہ نمونہ بن کر دکھایا۔ پھر انہی کے نقشِ قدم پر چلنے والے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین دنیا کے مختلف گوشوں میں پہنچے۔ کسی نے تجارت کے ذریعے اسلام کا تعارف کرایا، کسی نے عدل کے ذریعے، کسی نے علم کے ذریعے اور کسی نے اپنے حسنِ اخلاق کے ذریعے۔ انہوں نے انسانوں کے دل فتح کیے، صرف شہر فتح نہیں کیے۔ ان کی سب سے بڑی دعوت ان کا کردار تھا۔ اسی لیے دنیا نے ان کے ہاتھوں میں تلوار سے پہلے قرآن دیکھا، حکومت سے پہلے دیانت دیکھی اور طاقت سے پہلے رحم و انصاف دیکھا۔
پھر اہلِ بیتِ اطہار کی زندگی ہمارے سامنے ہے۔ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے امت کے اتحاد کے لیے وہ قربانی پیش کی جس کی مثال تاریخ میں کم ملتی ہے۔ انہوں نے اپنے ذاتی حق سے دست بردار ہو کر یہ پیغام دیا کہ اگر مسلمانوں کی جانیں بچانے اور امت کو انتشار سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنی خواہش قربان کرنی پڑے تو یہی ایمان کا تقاضا ہے۔ دوسری طرف حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے میدانِ کربلا میں اپنے خون سے یہ اعلان کیا کہ باطل کے سامنے سر جھکایا نہیں جاتا، خواہ اس کیقیمت جان ہی کیوں نہ ہو۔ ان دونوں مقدس ہستیوں نے امت کو دو ایسے اصول عطا کیے جن پر پوری اسلامی تاریخ کھڑی ہے، ایک اتحاد کی حفاظت اور دوسرا حق پر استقامت۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا آج ہماری زندگیوں میں صدیق کی صداقت، فاروق کا عدل، عثمان کی سخاوت، علی کی حکمت، حسن کی بصیرت، حسین کی استقامت اور صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اخلاص دکھائی دیتا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر صرف ان کے ناموں سے محبت کا دعویٰ ہماری نجات کے لیے کافی نہیں ہو سکتا۔ محبت کا سب سے سچا ثبوت اتباع ہے۔ جنہیں ہم اپنا مقتدا مانتے ہیں، ان کے اخلاق، ان کے علم، ان کی دیانت، ان کی قربانی اور ان کی فکر کو بھی اپنی زندگیوں میں جگہ دینی ہوگی۔
اسی لیے میں مسلمانانِ نیپال سے پورے درد کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کو صرف وراثت کا وارث نہ بنائیے، انہیں کردار کا وارث بنائیے۔ انہیں صرف اپنے خاندان کا سہارا نہ بنائیے، بلکہ ملت کا سرمایہ اور وطن کا معمار بنائیے۔ انہیں اس مقام تک پہنچائیے کہ کل وہ عدالت میں انصاف کے علمبردار ہوں، انتظامیہ میں دیانت کی مثال ہوں، صحافت میں سچائی کی آواز ہوں، پارلیمان میں خیر و انصاف کے داعی ہوں، پولیس اور فوج میں وطن کی حفاظت کرنے والے باکردار افسر ہوں، اور تعلیمی اداروں میں علم و اخلاق کے چراغ روشن کرنے والے معلم ہوں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے ایک کمزور قوم دوبارہ اپنے قدموں پر کھڑی ہوتی ہے، اور یہی وہ سرمایہ ہے جسے نہ کوئی فسادات چھین سکتے ہیں، نہ کوئی تعصب اور نہ کوئی وقتی آزمائش۔
یہ حقیقت بھی ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اسلام نے مسلمانوں کو کسی قوم یا مذہب سے نفرت کا درس نہیں دیا، بلکہ عدل، احسان اور حسنِ معاشرت کا راستہ دکھایا ہے۔ قرآن کریم نے واضح الفاظ میں فرمایا: ﴿لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ﴾،
یعنی جو لوگ تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کرتے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالتے، اللہ تمہیں ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور انصاف کرنے سے نہیں روکتا۔ نیپال کی سرزمین صدیوں سے مذہبی رواداری، باہمی احترام اور بقائے باہمی کی علامت رہی ہے۔
اس ورثے کی حفاظت بھی ہماری ذمہداری ہے۔ اگر ہم اس ملک کے وفادار شہری ہیں تو ہمیں اس کی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے بھی اسی اخلاص سے کام کرنا ہوگا جس اخلاص سے ہم اپنی عبادت انجام دیتے ہیں۔ ایک سچا مسلمان جہاں اپنے دین کا امین ہوتا ہے، وہیں اپنے وطن کا بھی خیر خواہ ہوتا ہے۔
لیکن اس خیر خواہی کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی شناخت، اپنے حقوق یا اپنی ذمہ داریوں سے غافل ہو جائیں۔ اسلام نہ بزدلی سکھاتا ہے اور نہ فساد، نہ ظلم کا ساتھ دینے کی اجازت دیتا ہے اور نہ ظلم سہتے رہنے کو فضیلت قرار دیتا ہے۔ اسلام کا راستہ یہ ہے کہ انسان حکمت، صبر، قانون اور اتحاد کے ساتھ اپنے جائز حقوق کے لیے کھڑا ہو، اور اپنے کردار سے یہ ثابت کرے کہ وہ انصاف کا طالب ہے، انتشار کا نہیں، امن کا داعی ہے، کمزوری کا نہیں۔
یہاں ایک اور حقیقت بھی ہمارے غور و فکر کی مستحق ہے۔ ہم اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ ہماری بات حکومت تک نہیں پہنچتی، ہماری مشکلات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا اور ہمارے مسائل پر فیصلہ کرتے وقت ہماری رائے شامل نہیں ہوتی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ہماری نمائندگی کہاں ہے؟ کیا ہم نے اس کے لیے منصوبہ بندی کی؟ کیا ہم نے اپنی نئی نسل کو اس مقام تک پہنچانے کی کوشش کی جہاں وہ اس ملک کے انتظامی، قانونی، تعلیمی اور پالیسی ساز اداروں میں مؤثر کردار ادا کر سکے؟ اگر نہیں، تو پھر ہمیں آج ہی سے اس کمی کو پورا کرنے کا عزم کرنا ہوگا۔ آنے والے بیس یا تیس برسوں کی منصوبہ بندی آج کے مدارس، آج کے اسکولوں اور آج کے گھروں میں ہوگی، کل نہیں۔
میں یہ بات پوری ذمہ داری کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ مسلمانانِ نیپال کی حقیقی طاقت نہ ان کے نعروں میں پوشیدہ ہے، نہ ان کے جذباتی ردِ عمل میں، بلکہ ان کے اسکولوں، مدارس، لائبریریوں، جامعات اور ان گھروں میں ہے جہاں ایک ماں اپنے بچے کے دل میں قرآن کی محبت بھی ڈالتی ہے اور علم کی عظمت بھی، جہاں ایک باپ اپنے بیٹے کو صرف روزگار کمانا نہیں، بلکہ قوم کی خدمت کرنا سکھاتا ہے، جہاں ایک استاد کتاب کے اسباق کے ساتھ کردار کی تعمیر بھی کرتا ہے، اور جہاں ایک عالمِ دین منبر سے صرف احکام ہی نہیں، بلکہ امت کا مستقبل بھی بیان کرتا ہے۔ جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔
