ملک عزیز نیپال کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی!
محمد حسن علیمی : خادم مدرسہ قمرالعلوم لہرولی نول پراسی نیپال
نیپال ایک ایسا خوبصورت ملک ہے جسے قدرت نے بلند و بالا پہاڑوں، سرسبز وادیوں، بہتے دریاؤں، دلکش ثقافت اور مختلف مذاہب و قوموں کے حسین امتزاج سے نوازا ہے۔ دنیا بھر کے سیاح اس ملک کو امن محبت اور قدرتی حسن کی علامت سمجھتے ہیں۔ صدیوں سے نیپال اپنی سادگی مہمان نوازی اور باہمی رواداری کی وجہ سے پہچانا جاتا رہا ہے۔ مگر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اس پر مشکلات کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے ملکِ عزیز نیپال کو نہ جانے کس کی بدنظر لگ گئی ہو۔
نیپال نے اپنی تاریخ میں بے شمار آزمائشوں کا سامنا کیا ہے۔ کبھی شدید زلزلوں نے ہزاروں خاندانوں کو بے
گھر کیا، کبھی سیلاب اور کرونا وائرس نے دیہات اور شہروں کو نقصان پہنچایا تو کبھی معاشی مشکلات نے عوام کی زندگی کو دشوار بنا دیا۔ ان آفات کے باوجود نیپالی عوام نے ہمیشہ صبر محنت اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا اور اپنے وطن کو دوبارہ کھڑا کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سیاسی عدم استحکام بھی ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ حکومتوں کی بار بار تبدیلی مختلف سیاسی اختلافات اور پالیسیوں میں تسلسل کی کمی نے ترقی کی رفتار کو متاثر کیا۔ حالیہ دنوں نیپال کے مشرقی حصوں میں قوم مسلم کو نشانہ بناکر ان کے گھروں کو نذر آتش کردیا گیا حد تو یہ ہے کہ ہماری عبادت گاہوں میں بھی آگ زنی کی گئی اللّٰہ سبحانہ تعالیٰ عناصر سر
پسندوں سے ملک عزیز کی حفاظت فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللہ علیہ وسلم۔
جب سیاسی استحکام کمزور ہو تو اس کے اثرات معیشت تعلیم صحت آپسی اتحاد سرمایہ کاری اور روزگار سمیت ہر شعبے پر پڑتے ہیں۔ عوام کی امیدیں اسی وقت پوری ہو سکتی ہیں جب قومی مفاد کو ذاتی اور جماعتی مفادات پر ترجیح دی جائے۔
نیپال کی اصل طاقت اس کے عوام ہیں۔ مختلف زبانوں ثقافتوں اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ صدیوں سے ایک
دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ قومی اتحاد باہمی احترام اور برداشت ہی وہ اقدار ہیں جو ملک کو مضبوط بناتی ہیں۔ اختلافِ رائے جمہوریت کا حق ہے لیکن نفرت تشدد اور ظلم و بربریت آپسی ستبھاؤ کو بگاڑنا کسی بھی معاشرے کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس لیے ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن قانون کی پاسداری اور قومی یکجہتی کو فروغ دے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ نیپال کا مستقبل
تاریک ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ یہ قوم ہر مشکل کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھری ہے۔ آج بھی اگر حکومت سیاسی
قیادت نجی شعبہ سماجی تنظیمیں اور عوام مشترکہ طور پر دیانت داری محنت اور اخلاص امن و امان کے ساتھ کام کریں تو نیپال ترقی،م خوشحالی اور استحکام کی نئی منزلیں طے کر سکتا ہے۔
اگرچہ آج ملک مختلف آزمائشوں سے گزر رہا ہے مگر یہ مشکلات مستقل نہیں ہیں۔ قوموں کی تقدیر اس وقت بدلتی ہے جب ان کے افراد امید اتحاد محنت اور ذمہ داری کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ ملکِ عزیز نیپال ہر قسم کی مشکلات سے محفوظ رہے امن و استحکام قائم ہو معاشی ترقی کا سفر تیز ہو اور یہ خوبصورت وطن دوبارہ اپنی خوشحالی رواداری اور قدرتی حسن کے ساتھ دنیا بھر میں ایک روشن مثال بن کر ابھرے۔
ان شاءاللہ عزوجل
