اسرائیلی منصوبے شرمندۂ تعبیر نہ ہوگا!
*از:محمدتنزیل حیاتی
9631142335
شعر
*مقصد ہے ملوکیتِ انگریز کا کچھ اور*
*قصہ نہیں یہ شہد و فرنگستان کا!*
*عزیزو!اسرائیل مذہب کےنام پربننےوالادوسراملک ہےجو1948میں" اقوام متحدہ"کی سرپرستی میں اس کاقیام عمل میں آیا،مصنوعی طورپربنایاگیا،مقامات عرب پرقائم کیا گیا،دریں اثناکہ اس کاوجود جغرافیائی سیاسی اور تاریخی عوامل وعبقری نواہل کے لحاظ سے غیرمتزلزل ہے،باوجوداس کے،عالمی دنیاکےحکمرانوں پر کنٹرول حاصل ہے،مسلمان اسرائیلی آبادی کا 17.4٪ ہیں،سنہ1921ع میں سلطنتِ عثمانیہ کےاختتام اور برطانوی انتظام وانصرام کے بعد کئی قسطوں میں عربوں سےجنگیں ہوئی ہیں،جیسے 1948، 1967، اور 1973 فلسطین کی جنگ تاحال،مشہور 7اکتوبر2023غزہ کی جنگ لیبیا،سیریااور حالیہ اسرائیل/امریکہ اور ایران جنگ، منصوبہ بندایک ضرب شدیدہے،اوریہ سب ابراہیمی معاہدات (Abraham Accords) کی غمازی وعکاسی ہے،میراخیال ہے شاید 23مارچ 1918 میں القبلہ اخبار جو مکہ کا روزنامہ ہے، آرتھر بیلفور 1917 ء کے اعلامیہ کی حمایت میں چھپے جوجملےہیں وہ قابلِ افسوس ہے،ل گتاہےشایداسی وجہ سے تمام 58مسلم ممالک پر غنودگی اور سکتہ کی کیفیت طاری ہے،تاہم، حالیہ برسوں میں مسلم دنیا کی پالیسی میں دو واضح رجحانات سامنے آئے ہیں:تعلقات کی بحالی (معاہدات): متحدہ عرب امارات (UAE)، بحرین، مراکش اور سوڈان،صومالی لینڈجیسے ممالک نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات قائم کیے ہیں، جنہیں"ابراہیمی معاہدات" کہا جاتا ہے۔مخالفت اور بائیکاٹ: پاکستان، ایران، سعودی عرب، اور ملائیشیا وغیرہ تاحال تسلیم نہیں کیےحقیقت واللہ اعلم،حالیہ7اکتوبر2026سہ فریق مکہ معاہدہ پاکستان سعودی عرب ترکی بظاہر یہ پہل قابلِ تحسین ہے،لیکن کیااس سےمسلمانان عالم کوفائدہ ہوگایانہیں؟*
*اسی طرح8 دسمبر 2024عیسوی روزیک شنبہ شامی خون خواردرندہ صفت انسان ڈکٹیٹر"بشارالاسد" کی حکومت کےخاتمہ کےبعد "أحمدالشرح(الجولانی)" کادمشق کی فتح اور"جامع بنی امیۃ الکبیر"میں خطاب مسلمانان عالم کےلیےبےحدمسرت وشادمانی ہےاور ساتھ ہی شامی اپوزیشن کی جنگ،ترکی اوراسرائیل ودیگرخطۂ ارض ایک پیچیدہ سیاسی اورعسکری مسئلہ بن گیاہے،انبیاءکرام علیہم السلام کی سرزمین ایک بارپھرعالمی استعماری قوتوں امریکہ،برطانیہ،فرانس سمیت مغربی ممالک کی زدمیں ہےبلبلاتی ہوئی سرزمین "القدس"کاساتھ دینےبجائےصیہونی طاقت اور3منافق عرب ممالک نےیہودی کےمفادات کاساتھ دے
دیاہےاور'گریٹراسرائیل"کی نیم بھی رکھ دی گئی ہے ان کایہ خواب شایدحقیقت نہ بن جائےاس میں مصروف عمل ہیں،جمیع اہل خرد ودانش مندحضرات اپنانکتۂ نظربیان کررہےہیں،لیکن ان تمام ادوار کےباوجودحضرت داؤدعلی نبینا علیہ الصلوۃ والسّلام کی حکومت جن علاقوں پر قائم تھی،اورحضرت سلیمان علیہ السّلام کےبرسراقتدار آنےپرمزیدجن علاقوں پراستحکام ہوا،اب یہودی قوم سلطنت داؤدی(گریٹر اسرائیل)کےمشن کےلیے کوشاں ہیں، حضرت داؤدعلیہ السّلام کےدورمبارک میں قوم بنی اسرائیل کوبےانتہافتح حاصل ہوئی ہے اوراس وقت روئےزمین پراس سےبہترکوئی قوم نہ تھی، لیکن عصبیت کی وجہ سےقوم بنی اسرائیل قبائل کاشکار ہوئی اور رفتہ رفتہ عظیم الشان سلطنت ہونےکےباوجودتباہ وبربادہوگئی، کلدانیہ کےبخت نصرنے اسرائیل کی اخلاقی، پستی، جھوٹ، فریب،ظلم،سرکشی،فتنہ فساداورشرانگیزی کی وجہ سےبیت المقدس پرحملہ آور ہوااوربےشماراسرائیلیوں کویرغمالی بنایا اور۳۳۱میں مقدونیہ کا 20سالہ نوجوان سکندراعظم بیت المقدّس کوفتح کیااور168میں شاہ انطیوکس نےبیت المقدس پرحملہ کیااوربےشماریہودیوں کو قتل کیابہت سوکوجلاوطن کیالیکن تمام ترشدائدکےباوجودبھی انہیں کوئی متزلزل نہ
کرسکااوراسی لیےیہ "شیطان رجیم" کےذہن میں آج بھی یہ احساس تفاخر زندہ ہے کہ وہ اللہ کی پسندیدہ قوم ہےاور دنیا پرحکمرانی کاحق صرف انہیں کوحاصل ہے،موجودہ دورکےقوم بنی اسرائیل خداوندمتعال کےارشادباری "یبنی اسرائیل اذکرونعمتی التی أنعمت علیکم وأنی فضلتکم علی العلمین"ترجمہ :اےبنی اسرائیل!میری ان نعمتوں کویادکروجومیں نےتم کوعطاکیااورتم کوتمام جہانوں پرفضیلت بخشی ہے،کوذہن میں رکھتی ہے،لیکن افسوس! یہ قوم بجائےان نعمتوں اورفضیلتوں پرشکرگزاربنتی اوراپنےفرض منصبی کواداکرتی لیکن رب ذوالجلال والاکرام کی عزت وجلال کی قسم !اس نظامِ کائنات کوتباہ وبربادکرنےپرتل گئی اورہت دھرمی کی تمام حدوں
کوپارکرگئی،تقریبا18000ہزارسےزائدنبیوں کوقتل کردیا اورشیطان کےنقش قدم پرچلتےہوئے "أنظرنی الایوم یبعثون"کوسچ دکھانےمیں جٹ گئی بالآخر رب العالمین کےجانب سے"غیرالمغضوب علیھم" کےمصداق گرداناگیا۔1947میں اقوام متحدہ نےفلسطین کودوالگ الگ یہودی اورعرب ریاستوں میں تقسیم کرنے کی منظور ی دی اوربیت المقدس کوایک بین الاقوامی شہرقراردیارات10بجے14مئی 1948کےجنگ کےبعدقبضہ شدہ علاقہ اس کےعلاوہ اس میں سینائی شمالی اسرائیل اور گولان کی پہاڑیاں شامل ہیں،صیہونیت کےبانی تھیوڈورہرزلی کےمطابق پرومسڈلینڈیاگریٹراسرائیل کےنقشےمیں مصرمیں دریائے نیل سےلےکرعراق میں نہرفرات تک کےعلاقے شامل ہیں،یہودی مذہب کی مقدس کتاب"توراۃ"میں ہےشام،فلسطین،عراق،اردن،لبنان،سعودی عرب اورمصرسمیت دیگرعرب ممالک شامل ہیں حضرت داؤد علیہ السّلام کےزمانہ میں عظیم تراسرائیل میں جوعلاقےتھےاب یہودیوں کےمطابق یہ علاقہ ان کاموروثی علاقہ ہےاس علاقہ پران کاحق ہے،غیریہوداقوام سےان علاقہ کولےکراس پرسلطنت دواؤدی کی بنیاد رکھی جائےگی،چناں چہ ! حضرت یوسف علیہ السّلام کےدورمبارک میں یہودی قوم مصرمیں آبادہوئی تب ان کی حکومت شام تک تھی اس کوذہن میں رکھتےہوئےخیال کیاکہ گریٹراسرائیل کاتصورکوسچ کردکھاناہے خداکرےکہ ظالم کاخواب حقیقت نہ ہو، عصرحاضرمیں دنیاکاسب سےبڑادہشت گردملک اسرائیل اپنی بقااور تحفظ کےلیےامن کےنام پرمعصوم عربوں کی جان سےکھیل رہاہےسلطنت داؤدی کی بحال یہودی پرٹوکولزکےمنصوبوں کی ایک کڑی ہے یہودی نےارض فلسطین میں صیہونی ریاست کی تشکیل دےدی ہے صیہونی اکابرین نےپرٹوکولزنمبر8گراف کےنمبر 1میں واضح منصوبہ بندی کی ہے ہمیں ان تمام ہتھیاروں سےخودکومسلحہ کرناہوگا۔
