Sep 21, 2026 10:42 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
قدیم وجدید سودی کاروبار کے رد میں اہم کتاب کی اشاعت پر

قدیم وجدید سودی کاروبار کے رد میں اہم کتاب کی اشاعت پر

16 Aug 2026
1 min read

قدیم وجدید سودی کاروبار کے رد میں اہم کتاب کی اشاعت پر

صاحب قرطاس و قلم حضرت مفتی کما ل احمد علیمی صاحب  نائب صدر شعبہ افتا جامعہ علیمیہ جمدا شاہی

عصرِ حاضر میں سودی نظامِ تجارت جس برق رفتاری کے ساتھ معاشرے میں اپنی جڑیں مضبوط کرتا جا رہا ہے، وہ اہلِ ایمان کے لیے نہایت تشویش ناک اور فکر انگیز صورتِ حال ہے۔ جدید تجارت اور مارکیٹنگ کی دنیا نے اپنی ظاہری چمک دمک، دل فریبی اور رنگینی کے ذریعے انسانی زندگی کو اس طرح اپنی گرفت میں لے لیا ہے کہ انسان بسا اوقات نفع و نقصان کی ظاہری کشمکش میں حلال و حرام کی حدود سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ مادیت پرستی کے بڑھتے ہوئے رجحان نے حصولِ زر کو زندگی کا مقصد بنا دیا ہے، نتیجتاً بہت سے لوگ اس بات کی پروا کیے بغیر کہ آمدنی کا ذریعہ جائز ہے یا ناجائز، صرف زیادہ سے زیادہ مال کمانے کی دوڑ میں شریک ہیں۔

یہ صورتِ حال اس امر کی متقاضی ہے کہ معاشرے میں اسلام کے پاکیزہ اور عادلانہ نظامِ تجارت کو عام کیا جائے، لوگوں کو حلال کمائی کی اہمیت اور رزقِ حلال کی برکتوں سے آگاہ کیا جائے، اور انہیں یہ باور کرایا جائے کہ اسلام نے تجارت و معیشت کے لیے ایسے جامع اور متوازن اصول عطا فرمائے ہیں جن میں فرد کی معاشی ضرورتوں کے ساتھ ساتھ معاشرے کے عدل و اعتدال اور اخلاقی پاکیزگی کی بھی مکمل رعایت رکھی گئی ہے۔

بالخصوص سود، جو قرآنِ کریم کی صریح نصوص کی روشنی میں حرام اور انسانی 

معاشرے کے معاشی و اخلاقی توازن کے لیے سخت نقصان دہ ہے، اس کی  مختلف صورتوں اور جدید کاروباری معاملات میں اس کے در آنے کے راستوں سے عوام کو آگاہ کرنا وقت کی اہم ترین ضرورتوں میں سے ہے۔ چنانچہ ضرورت ہے کہ سودی معاملات کی قباحت، اس کی شرعی ممانعت اور اس کے دینی و معاشرتی مضرات کو واضح کیا جائے، تاکہ مسلمان اپنے معاملات کو شریعتِ مطہرہ کے مطابق استوار کرنے کی کوشش کریں اور حرام کمائی کے مہلک انجام سے محفوظ رہ سکیں۔

 اسی احساسِ ذمہ داری اور اصلاحِ معاشرہ 

کے جذبے کے تحت محبِ مکرم، حضرت مولانا الحاج محمد شاہد القادری صاحب چیئر مین حجۃ الاسلام دارالتحقیق والتصنیف کلکتہ نے جدید نظامِ تجارت کے متعلق  اسلامی احکام و ضوابط کو یکجا کرنے کے لیے ایک مفید اور وقیع کتاب مرتب کرنے کا عزم فرمایا۔ حضرت نے ناچیز سے بھی اس موضوع پر ایک مقالہ تحریر کرنے کی خواہش کا اظہار فرمایا۔ موضوع کی اہمیت اور عصرِ حاضر کی شدید ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے اس پر باقاعدہ مطالعہ کا آغاز کیا۔ مطالعے کے دوران سب سے پہلے امامِ اہلِ سنت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کے خوان علم سے خوشہ چینی اور بحر معرفت سےاکتساب کی سعادت حاصل ہوئی۔ فتاویٰ رضویہ کے صفحات کی ورق گردانی کی تو معاملاتِ تجارت، سود اور جدید مالی مسائل سے متعلق امامِ اہلِ سنت کے  متعدد قیمتی ارشادات اور علمی افادات سامنے آئے۔ ان منتشر جواہر کو جمع و ترتیب دینے کی کوشش کی گئی تو بحمد اللہ ایک مستقل اور جامع مقالہ وجود میں آگیا، جسے حضرت مولانا شاہد القادریصاحب کی مرتب کردہ کتاب میں شامل کرکے شائع بھی کیا گیا۔

بعد ازاں دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ اگر اس مقالے کو ایک مستقل رسالے کی صورت میں شائع کردیا جائے تو اس

کی افادیت کا دائرہ مزید وسیع ہوسکتا ہے اور وہ ان حضرات تک بھی پہنچ سکتا ہے جو سودی معاملات کی حقیقت، شرعی حیثیت اور جدید تجارت کے اسلامی اصولوں سے واقفیت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ اسی مقصد کے پیشِ نظر مذکورہ مقالے کو ازسرِ نو ترتیب و تہذیب دے کر، قدرے توضیح و تفصیل کے ساتھ ایک مستقل رسالے کی صورت میں اہلِ علم اور عام قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

یہ کاوش اگرچہ اپنی حیثیت میں نہایت

معمولی ہے، لیکن نیت اصلاحِ معاشرہ اور مقصد حلال و حرام کی تمیز کا احیا ہے۔ امید ہے کہ قارئینِ کرام اسے محض ایک علمی تحریر کے طور پر نہیں، بلکہ اپنے روزمرہ معاملات اور تجارتی زندگی کی اصلاح کے مشعل راہ کے طور پر بھی ملاحظہ فرمائیں گے۔

دعا ہے کہ اللہ رب العزت اس حقیر کوشش کو شرفِ قبول بخشے، اسے مسلمانوں کے لیے نفع بخش اور ذریعۂ ہدایت بنائے، انہیں سودی معاملات کی قباحتوں سے محفوظ فرمائے، رزقِ حلال کی طلب و جستجو کا جذبہ عطا کرے، اور شریعتِ مطہرہ کے پاکیزہ اصولوں کے مطابق اپنے معاشی و تجارتی معاملات انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔

شاید یہ مختصر سی کاوش کسی ایسے دل تک پہنچ جائے جو سودی نظام کی ظاہری چمک سے مرعوب ہوچکا ہو؛ شاید کسی تاجر کے لیے اس میں راہِ نجات کی کوئی کرن نمودار ہوجائے؛ اور شاید کسی جستجو کرنے والے انسان کے لیے یہ تحریر شبِ تاریک میں چراغِ یقین ثابت ہو۔

وما توفيقي إلا بالله، عليه توكلت وإليه أنيب۔

کمال احمد علیمی نظامی 

دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی بستی یوپی

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)