Sep 21, 2026 09:55 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
خانقاہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات

خانقاہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات

27 Aug 2026
1 min read

خانقاہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات

ٹی ایم ضیاء الحق

نبوت رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی، مگر کارِ نبوت ختم نہیں ہوا۔ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی آئے گا اور نہ نبوت کا سلسلہ جاری رہے گا۔ لیکن جس عظیم مقصد کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام تشریف لاتے رہے، یعنی انسانوں کو اللہ کی طرف بلانا، دلوں کی اصلاح کرنا، اخلاق سنوارنا، خیر و بھلائی کو فروغ دینا، مخلوقِ خدا کی خدمت کرنا اور انسان کو اس کے رب سے جوڑنا، اس کارِ نبوت کی ذمہ داری امتِ محمدیہ کے اہلِ علم، صالحین، مصلحین اور اہلِ دل کے ذریعے جاری رہی۔

اسی کارِ نبوت کی روحانی اور اخلاقی روایت کو برصغیر میں خانقاہوں نے بڑی حد تک اپنے اندر محفوظ رکھا۔ خانقاہ محض ایک عمارت، کسی بزرگ کی رہائش گاہ یا ذکر و اذکار کی ایک مجلس کا نام نہیں۔ اپنے حقیقی مفہوم میں خانقاہ تزکیۂ نفس، اصلاحِ باطن، تعلیمِ دین، محبتِ رسول ﷺ، خدمتِ خلق، دعوتِ خیر اور اتحادِ انسانیت کا مرکز رہی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے انسانوں کو اللہ کی طرف بلایا، ان کے دلوں کو ایمان سے روشن کیا، اخلاق کو سنوارا، نفرتوں کو محبت سے بدلا اور ایک منتشر معاشرے کو اخوت کے رشتے میں جوڑا۔ خانقاہی روایت نے اسی نبوی مزاج کو اپنی روحانی تربیت کا محور بنایا۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا

یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو۔

یہ صرف ایک مذہبی ہدایت نہیں بلکہ امت کی اجتماعی زندگی کا بنیادی اصول ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کو باہمی محبت، خیر خواہی  اور اخوت کی تعلیم دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

یہی وہ نبوی اخلاق ہے جسے خانقاہوں نے اپنی تربیت، صحبت اور خدمت کے ذریعے زندہ رکھنے کی کوشش کی۔ خانقاہ میں آنے والے سے پہلے یہ نہیں پوچھا جاتا تھا کہ وہ کس علاقے سے آیا ہے، کس طبقے سے تعلق رکھتا ہے یا اس کی سماجی حیثیت کیا ہے۔ اصل سوال یہ تھا کہ وہ ایک انسان ہے، اللہ کا بندہ ہے اور اصلاح، محبت اور ہدایت کا محتاج ہے۔

یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں بہت سی خانقاہیں صرف ذکر و فکر کے مراکز نہیں رہیں بلکہ مہمان نوازی، لنگر، تعلیم، خدمتِ خلق اور دعوتِ دین کے مراکز بھی بنیں۔

صوفیاء نے انسان کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن کی اصلاح پر توجہ دی۔ ان کے نزدیک تکبر، حسد، بغض، کینہ، خود پسندی اور دوسروں کو حقیر سمجھنا بھی روحانی بیماریاں ہیں۔ اس لیے خانقاہی تربیت میں دل کی صفائی کو بنیادی مقام حاصل ہوا۔

انسان کو بتایا گیا کہ اللہ کی محبت صرف دعوے کا نام نہیں۔ اس محبت کا اثر اللہ کی مخلوق کے ساتھ برتاؤ میں بھی ظاہر ہونا چاہیے۔جس دل میں اللہ کی محبت ہو، اس میں بندگانِ خدا کے لیے رحم، شفقت اور خیر خواہی پیدا ہونی چاہیے۔

یہی نبوی مزاج تھا اور یہی خانقاہی تربیت کی اصل روح بھی رہی۔

رسول اللہ ﷺ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ بن کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ کی دعوت میں رحمت تھی، حکمت تھی، حسنِ اخلاق تھا اور انسانیت کے لیے خیر خواہی تھی۔ قرآن نے آپ ﷺ کے اخلاق کو عظیم قرار دیا اور آپ ﷺ کو بہترین نمونہ بتایا۔

لہٰذا محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا صرف نعت، ذکر اور جذباتی وابستگی نہیں بلکہ آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنی زندگی میں پیدا کرنا بھی ہے۔

اگر زبان پر درود ہو لیکن دل میں نفرت ہو، ذکر ہو مگر تکبر ہو، نسبت ہو مگر اخلاق نہ ہوں تو انسان کو اپنے باطن کا جائزہ لینا چاہیے۔ خانقاہ کا مقصد یہی تھا کہ ذکر زبان سے دل تک پہنچے، محبت دل سے کردار تک پہنچے اور روحانیت زندگی کے معاملات میں ظاہر ہو۔

برصغیر میں چشتی، سہروردی، قادری، منعمی اور دیگر صوفی سلسلوں کی خانقاہوں نے اسی روح کے ساتھ مختلف علاقوں میں اثر پیدا کیا۔ یہاں علم بھی تھا، ذکر بھی، صحبت بھی، لنگر بھی، مہمان نوازی بھی اور خدمتِ خلق بھی۔

اسلام کی دعوت محض مناظرے اور بحث سے نہیں بلکہ کردار سے بھی دی گئی۔ ایک فقیر کو کھانا کھلانا، ایک مسافر کو جگہ دینا، ایک پریشان شخص کی بات سن لینا، ایک محتاج کی مدد کرنا اور کسی دل شکستہ انسان کو امید دینا بھی دعوتِ دین کی ایک صورت بن سکتی ہے۔

اسی لیے خانقاہ کا دروازہ بہت سے لوگوں کے لیے صرف ایک مذہبی دروازہ نہیں بلکہ امید، محبت اور سکون کا دروازہ تھا۔

یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اسلامی تاریخ میں فقہی اور علمی اختلاف ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ ائمۂ کرام کے درمیان بھی متعدد مسائل میں اختلاف ہوا، لیکن اختلاف نے ہمیشہ اخوت کو ختم نہیں کیا۔

 

اصل مسئلہ اختلاف نہیں بلکہ اختلاف کا اخلاق ہے۔

جب علمی اختلاف دلیل، تحقیق اور ادب کے ساتھ ہو تو وہ علمی زندگی کا حصہ ہے۔ لیکن جب اختلاف نفرت، تحقیر، الزام، تکفیر اور باہمی دشمنی میں بدل جائے تو وہ امت کے لیے نقصان دہ بن جاتا ہے۔

برصغیر میں مختلف مذہبی و مسلکی شناختیں اپنے اپنے تاریخی، علمی اور اصلاحی پس منظر کے ساتھ سامنے آئیں۔ بریلوی، دیوبندی، اہلِ حدیث اور دیگر حلقوں کے درمیان مختلف اعتقادی، فقہی اور فکری مسائل میں اختلافات موجود رہے ہیں۔ ان اختلافات کا علمی مطالعہ اپنی جگہ اہم ہے، مگر عام مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کرنا اور ایک دوسرے کو دشمن سمجھنا کسی بھی دینی مقصد کی خدمت نہیں کرتا۔یہاں خانقاہی مزاج ہمیں ایک بنیادی سبق دیتا ہے۔

اختلاف ہوسکتا ہے، مگر محبت ختم نہیں ہونی چاہیے۔رائے مختلف ہوسکتی ہے، مگر احترام باقی رہنا چاہیے۔مسلکی شناخت ہوسکتی ہے، مگر اسلامی اخوت اس سے بڑی ہے۔خانقاہ کا اصل کام کسی دوسرے مسلمان کو شکست دینا نہیں بلکہ اپنے نفس کو شکست دینا ہے۔

اپنے اندر کے تکبر کو ختم کرنا، حسد کو نکالنا، کینہ مٹانا، غصے پر قابو پانا، عاجزی پیدا کرنا، محتاج کی مدد کرنا اور مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا، یہ وہ تربیت ہے جس کے بغیر روحانی نسبت ادھوری رہ جاتی ہے۔

اسی لیے خانقاہ کو محض سجادہ، عمارت یا سلسلے کی نسبت تک محدود کرنا اس کے تاریخی مفہوم کو محدود کرنا ہے۔

خانقاہ دراصل محبت کا مدرسہ، تزکیۂ نفس کی تربیت گاہ، اخلاق کی درسگاہ، خدمتِ خلق کا مرکز اور دعوتِ خیر کا میدان رہی ہے۔

آج کے دور میں اس ذمہ داری کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے۔

سوشل میڈیا نے اختلاف کو بہت آسان اور نفرت کو 

بہت تیز کردیا ہے۔ ایک مختصر ویڈیو، ایک اشتعال انگیز جملہ یا ایک مسلکی الزام چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسے ماحول میں خانقاہوں کو اپنے اصل ورثے کی طرف مزید سنجیدگی سے متوجہ ہونا ہوگا۔

نوجوان نسل کو صرف یہ نہیں بتایا جانا چاہیے کہ ہمارا مسلک کیا ہے، بلکہ یہ بھی بتایا جانا چاہیے کہ ہمارا دین ہمیں کیسا انسان بنانا چاہتا ہے۔

انہیں قرآن پڑھایا جائے، سیرتِ رسول ﷺ سے جوڑا جائے، اخلاق سکھائے جائیں، علم کی قدر پیدا کی جائے، اختلاف کے آداب بتائے جائیں، خدمتِ خلق کی ترغیب دی جائے اور یہ سمجھایا جائے کہ مسلمان ہونا کسی دوسرے مسلمان سے نفرت کرنے کا نام نہیں۔

خانقاہوں کو چاہیے کہ وہ امت کے زخموں پر مرہم رکھیں، مزید زخم نہ دیں۔ وہ دلوں کو جوڑیں، دیواریں نہ بنائیں۔ وہ محبت کو عام کریں، نفرت کو نہیں۔ وہ اصلاحِ نفس کی طرف بلائیں اور دوسروں کی تردید کو مقصد نہ بنائیں۔

وہ رسول اللہ ﷺ کی رحمت کا پیغام عام کریں، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی امت کے سامنے آج سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ ہم ایک دوسرے کو شکست کیسے دیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کو سمجھیں، برداشت کریں اور اللہ و رسول ﷺ کے رشتے میں دوبارہ کیسے جوڑیں۔

نبوت رسول اللہ ﷺ پر ختم ہوگئی، مگر کارِ نبوت جاری ہے۔ نبوت ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ دعوت ختم ہوگئی، اصلاح ختم ہوگئی، خیر خواہی ختم ہوگئی، اخلاق ختم ہوگئے یا انسانوں کو اللہ کی طرف بلانے کا عمل ختم ہوگیا۔ بلکہ اب یہ ذمہ داری امت کے ان لوگوں پر ہے جو علم، تقویٰ، اخلاص، حکمت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ دین کی خدمت کرتے ہیں۔

اسی کارِ نبوت کے اخلاقی پہلو کو خانقاہی روایت نے صدیوں تک اپنے اندر سنبھالنے کی کوشش کی۔اس لیے آج خانقاہوں کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنے تاریخی ورثے کو صرف ماضی کی یاد نہ بننے دیں بلکہ اسے عصرِ حاضر کی ضرورت بنائیں۔

خانقاہ کا پیغام کسی سے نفرت نہیں بلکہ اپنے نفس کی اصلاح ہے۔

خانقاہ کا پیغام کسی کو توڑنا نہیں بلکہ دلوں کو جوڑنا ہے۔

خانقاہ کا پیغام صرف ذکر نہیں بلکہ ذکر سے کردار بنانا ہے۔

خانقاہ کا پیغام صرف نسبت نہیں بلکہ نسبت کے تقاضے پورے کرنا ہے۔

اور خانقاہ کا سب سے بڑا پیغام یہی ہے کہ اللہ سے محبت کرو، رسول اللہ ﷺ سے محبت کرو اور اللہ کی مخلوق کے ساتھ خیر خواہی کرو۔

فرقہ وارانہ عصبیت سے بچیے، اختلاف کے آداب سیکھیے، دلوں کو جوڑیے اور رسول اللہ ﷺ کے رحمت، محبت اور حسنِ اخلاق کے پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیے۔

اور آخر میں ایک وضاحت ضروری ہے۔ یہاں گفتگو خانقاہوں کی ہو رہی ہے، ان خانقاہوں کی جو واقعی رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات، تزکیۂ نفس، محبت، خدمت اور اصلاحِ انسان کے مشن کو آگے بڑھاتی ہیں۔

کیونکہ ہر دور میں کچھ خواہ مخواہیاں بھی وجود میں آجاتی ہیں، جنہیں خانقاہ کا نام تو مل جاتا ہے، مگر خانقاہ کی روح، اس کی ذمہ داری اور اس کا اخلاقی ورثہ نصیب نہیں ہوتا۔

ٹی ایم ضیاء الحق 

T M Zeyaul Haque 

+91-9718043174 / 9971143174

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)