Apr 21, 2026 04:00 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
دارین اکیڈمی، جمشید پور میں “رئیس القلم سیمینار ہال” کا پروقار افتتاح

دارین اکیڈمی، جمشید پور میں “رئیس القلم سیمینار ہال” کا پروقار افتتاح

16 Apr 2026
1 min read

دارین اکیڈمی، جمشید پور میں “رئیس القلم سیمینار ہال” کا پروقار افتتاح

نیپال اردو ٹائمز

پریس ریلیز

مؤرخہ 13 اپریل 2026ء، ملک کی معروف و منفرد اقامتی درسگاہ دارین اکیڈمی، جمشید پور میں “رئیس القلم سیمینار ہال” کا نہایت شاندار اور روح پرور افتتاح عمل میں آیا۔ یہ سعادت مترجمِ قرآن، جانشینِ رئیس القلم، حضرت علامہ مولانا ڈاکٹر غلام زرقانی صاحب قبلہ (سربراہِ اعلیٰ جامعہ فیض العلوم، جمشید پور و بانی الحجاز انٹرنیشنل کالج امریکہ) کے دستِ مبارک سے حاصل ہوئی۔

افتتاحی تقریب بانیٔ دارین اکیڈمی، حضور معمارِ ملت، الحاج حضرت علامہ مولانا مفتی عبدالمالک مصباحی صاحب قبلہ کی سرپرستی میں منعقد ہوئی، جب کہ نظامت کے فرائض نہایت حسنِ اسلوب کے ساتھ حضرت ڈاکٹر نعمت اللہ مصباحی اور مفتی بدر عالم فیضی نظامی نے انجام دیے۔تقریب کا آغاز تلاوت کلام اللہ کے بعد طلبۂ دارین اکیڈمی کی جانب سے ادارہ کے تعارف سے ہوا، جو عربی و انگریزی زبانوں میں نہایت مؤثر انداز میں پیش کیا گیا۔ اس کے بعد شاعرِ اسلام حضرت ابرار قیصر اورنگ آبادی نے اپنی دلنشیں نعتیہ پیشکش سے محفل کو نورانیت و سرور سے معمور کر دیا۔

بعد ازاں، مہمانِ خصوصی حضرت علامہ مولانا مفتی ڈاکٹر غلام زرقانی صاحب قبلہ نے نہایت بصیرت افروز خطاب فرمایا۔ آپ نے دارین

اکیڈمی کی امتیازی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کامیابی کے تین درجات بیان فرمائے:

(1) آخرت کی کامیابی جو سب سے اعلیٰ و ارفع ہے،(2) دنیاوی کامیابی جو اگر تنہا مقصد بن جائے تو انسان کو ہلاکت کی راہ پر ڈال دیتی ہے،

(3) دین و دنیا کی جامع کامیابی  جس کی تعلیم خود ربِ کائنات نے ان الفاظ میں عطا فرمائی:

*رَبَّنَا آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَفِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ* ۔آپ نے واضح فرمایا کہ یہی وہ متوازن فکر ہے جس پر دارین اکیڈمی کی بنیاد رکھی گئی ہے، اور بانیٔ ادارہ حضرت مفتی عبدالمالک مصباحی صاحب قبلہ اسی عظیم مشن کے علمبردار ہیں۔ بلاشبہ، اس ادارہ کو دیکھ کر یہ احساس جاگزیں ہوتا ہے کہ علم کے بیکراں سمندر کو بھی ایک کوزے میں سمیٹا جا سکتا ہے۔

مزید برآں، آپ نے اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا کہ دینی و عصری تعلیم کے حسین امتزاج کی ضرورت ہمیشہ سے رہی ہے، اور اس میدان میں علامہ ارشد القادری رحمہ اللہ کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے، جنہوں نے جامعہ حضرت نظام الدین اولیاء دہلی کے قیام کے ذریعے اس فکر کو عملی جامہ پہنایا۔

خطاب کے دوران ایک نہایت معنی خیز نکتہ بھی پیش کیا کہ: *منزل تک پہنچ کر نئی منزل کی جستجو ہی اصل کام ہے* ،اسی تناظر میں حضرت مفتی عبدالمالک مصباحی صاحب کی جدوجہد کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایک منزل کے حصول کے بعد بھی نئی بلندیوں کی تلاش میں مصروف ہیں۔

آپ نے مستقبل کے حوالے سے یہ پیش گوئی بھی فرمائی کہ آنے والے 20 تا 25 سالوں میں 

ایسے تعلیمی اداروں کی شدید ضرورت ہوگی جہاں دینی اور عصری علوم کا حسین امتزاج ہو، 

اور الحمد للہ دارین اکیڈمی اس سمت میں پہلے ہی ایک مضبوط قدم جما چکی ہے۔ البتہ، اس کے ساتھ یہ بھی تاکید فرمائی کہ کچھ مدارسِ اسلامیہ اپنی اصل ہیئت پر

برقرار رہیں، تاکہ دینی روایت کا تسلسل محفوظ رہ سکے۔

آخر میں دعائیہ کلمات کے ساتھ یہ بابرکت اور علمی و روحانی محفل اپنے اختتام کو پہنچی۔

تقریب میں شرکت کرنے والے معزز علماء و احباب میں خصوصی مہمان حضرت شہزادۂ قائد اہل سنت مولانا غلام ربانی صاحب قبلہ وبرادر اصغر مترجم قرآن حضرت مولانا غلام شعرانی صاحب قبلہ ،

حضرت مولانا محمد عاشق حسین، حافظ و قاری مولانا محمد شمیم رضا مصباحی،حافظ و قاری آفاق عالم منیجر دارین اکیڈمی حافظ و قاری مزمل صاحب، حافظ و قاری محمد ظفیر صاحب، حافظ و قاری محمد کلیم صاحب، حافظ و قاری محمد فرید اخلاقی صاحب، مہتمم حافظ و قاری محمد آفاق صاحب، حافظ محمد مصدق صاحب، مولوی محمد انور صاحب، ماسٹر محمد غزالی، ماسٹر محمد صغیر صاحب، محمد رمضان صاحب، ماسٹر محمد سہیل صاحب، ماسٹر محمد انوار الحق صاحب ،ماسٹرسوپر سورین اور ماسٹر ہیمنت صاحب بطورِ خاص قابلِ ذکر ہیں۔

اللہ تعالیٰ دارین اکیڈمی کو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی عطا فرمائے، اور اسے دین و ملت کی خدمت کا ایک عظیم مرکز بنائے۔

آمین ثم آمین۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383