Sep 21, 2026 10:42 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مدارس کو سرکاری اسکول نہ بنائیں

مدارس کو سرکاری اسکول نہ بنائیں

16 Aug 2026
1 min read

مدارس کو سرکاری اسکول نہ بنائیں

ڈاکٹر سالم انصاری

 جھاپا نیپال

نیپال میں مسلمانوں کا اپنا دینی تعلیمی نظام صدیوں سے موجود ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں چھوٹے بڑے ہزاروں مدارس قائم ہیں، جہاں بالخصوص مسلمان بچوں کو دینی تعلیم فراہم کی جاتی ہے۔ مختلف اندازوں کے مطابق نیپال میں تقریباً 2,500 سے 3,000 کے درمیان چھوٹے بڑے مدارس موجود ہیں۔ ان مدارس نے مسلم معاشرے میں قرآن، حدیث، فقہ، عربی زبان اور اسلامی تعلیمات کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے باوجود ایک بنیادی سوال ہمارے سامنے کھڑا ہے کہ اگر مسلمانوں کے پاس اپنا تعلیمی نظام، اپنے مدارس اور دینی تعلیم کے مراکز موجود ہیں، تو پھر مسلم معاشرے میں شرحِ خواندگی اب بھی اتنی کمزور کیوں ہے؟

یہ سوال مدارس کے خلاف نہیں بلکہ مدارس کی کارکردگی، معیار، سمت اور مستقبل کے بارے میں سنجیدہ غور و فکر کی دعوت ہے۔ ہمیں جذبات کے بجائے اعداد و شمار، زمینی حقیقت اور گزشتہ تجربات کی روشنی میں یہ دیکھنا ہوگا کہ موجودہ نظام نے ہماری نئی نسل کو کہاں تک کامیاب بنایا ہے۔ صرف مدارس کی تعداد زیادہ ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ معاشرہ تعلیمی طور پر ترقی کر رہا ہے۔ اگر ہزاروں تعلیمی ادارے موجود ہوں لیکن ان سے نکلنے والے بچوں کی بڑی تعداد اعلیٰ تعلیم، روزگار، جدید علوم اور معاشی میدان میں آگے نہ بڑھ سکے تو ہمیں اپنے نظام کا ازسرِنو جائزہ لینا ہوگا۔

یہاں ایک اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ مسلمانوں کے تمام بچے صرف مدارس میں تعلیم حاصل نہیں کرتے۔ بہت سے مسلم بچے سرکاری اسکولوں میں پڑھتے ہیں، بہت سے نجی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور ایک بڑی تعداد مدارس کے ساتھ ساتھ اسکول کی تعلیم بھی حاصل کرتی ہے۔ یعنی ایک ہی معاشرے میں مدارس، سرکاری اسکول اور نجی اسکول تینوں تعلیمی راستے موجود ہیں۔ اس کے باوجود اگر مسلم معاشرے کی مجموعی شرحِ خواندگی اور تعلیمی 

معیار مطلوبہ سطح تک نہیں پہنچ رہا تو صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ مسلمانوں کے پاس مدارس موجود ہیں۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ ہمارے تعلیمی ادارے بچوں کو کس معیار کی تعلیم دے رہے ہیں، ان کی تعلیم کتنی مسلسل ہے، کتنے بچے بنیادی تعلیم کے بعد اعلیٰ تعلیم تک پہنچتے ہیں اور کتنے بچے تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار اور عملی زندگی کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

نیپال کی حکومت نے بھی وقتاً فوقتاً مدارس کو قومی تعلیمی نظام کے مین اسٹریم میں لانے کے لیے مختلف اصلاحات اور اقدامات کیے ہیں۔ جن مدارس نے رجسٹریشن کرایا، قانونی نظام کو قبول کیا اور مین اسٹریم کے نصاب و تعلیمی نظام کو اپنانے کی طرف قدم بڑھایا، ان کو حکومت کی جانب سے مالی اور دیگر معاونت بھی فراہم کی گئی۔ اس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مدارس کی دینی شناخت کو ختم کرنا نہیں بلکہ وہاں زیرِ تعلیم بچوں کو بھی بنیادی اور عصری تعلیم کے ان مواقع تک رسائی حاصل ہو جو ملک کے دوسرے بچوں کو حاصل ہیں۔ اس طرح مدرسے کے طالب علم کو دینی تعلیم کے ساتھ قومی تعلیمی نظام سے جڑنے کا موقع مل سکے اور مستقبل میں وہ اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے مختلف شعبوں میں بھی آگے بڑھ سکے۔ یہ بات بھی تسلیم کرنی چاہیے کہ حکومتی مالی امداد سے بہت سے مدارس نے اچھا فائدہ اٹھایا۔ کئی اداروں نے اپنے تعلیمی ڈھانچے کو بہتر کیا، اساتذہ کی تعداد اور معیار میں بہتری لائی، جدید مضامین کو جگہ دی اور سرکاری نظام کے ساتھ مربوط ہونے کی کوشش کی۔ ایسے مدارس اس بات کی مثال ہیں کہ اگر دینی ادارے اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے جدید تعلیمی تقاضوں کو قبول کریں تو وہ بہت مؤثر تعلیمی مراکز بن سکتے ہیں۔

لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بہت سے مدارس، خصوصاً دیہی اور دور دراز علاقوں میں موجود ادارے، اس مالی امداد اور مواقع کا مطلوبہ اور مؤثر استعمال نہیں کرسکے۔ کہیں انتظامی کمزوری رہی،

کہیں نگرانی کا فقدان رہا، کہیں وسائل کا درست استعمال نہیں ہوا اور کہیں صرف سرکاری امداد حاصل کرنا ہی مقصد بنتا چلا گیا۔ نتیجتاً بہت سے ایسے مدارس بھی جو کبھی اپنے مضبوط تعلیمی اور اخلاقی نظام کے لیے جانے جاتے تھے، آہستہ آہستہ ایک کمزور سرکاری اسکول کے ماڈل کے پیچھے چلنے لگے۔

یہاں اصل مسئلہ سرکاری اسکول ہونا نہیں بلکہ کمزور تعلیمی معیار کی نقل کرنا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں بھی بہت سے بہترین ادارے اور قابل اساتذہ موجود ہیں، لیکن جہاں کسی بھی تعلیمی ادارے میں حاضری کا کمزور نظام، اساتذہ کی غیر مؤثر کارکردگی، انتظامی بے قاعدگی، کمزور نگرانی، سیاسی مداخلت، وسائل کا غیر مؤثر استعمال اور نتائج کے لیے جواب دہی کا فقدان پیدا ہوجائے، وہاں ادارہ اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔ اگر مدارس نے ایسے کمزور پہلوؤں کو اپنایا تو یہ ان کے لیے ترقی نہیں بلکہ زوال کا راستہ ہوگا۔

اسی لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ مدارس کو سرکاری اسکول نہیں بننا چاہیے، بلکہ اچھے نجی اسکولوں سے مقابلہ کرنا چاہیے۔ نجی شعبے کے بہت سے تعلیمی اداروں نے محدود وسائل کے باوجود یہ ثابت کیا ہے کہ بہتر انتظام، قابل اساتذہ، والدین سے مسلسل رابطہ، طلبہ کی باقاعدہ نگرانی، انگریزی اور دیگر زبانوں پر توجہ، کمپیوٹر اور ٹیکنالوجی کا استعمال، نظم و ضبط اور تعلیمی نتائج پر توجہ کے ذریعے ایک چھوٹا ادارہ بھی ایک بڑا تعلیمی مرکز بن سکتا ہے۔

مدارس کو یہ دیکھنا چاہیے کہ ایک کامیاب نجی اسکول اپنے طلبہ اور والدین کا اعتماد کیسے حاصل کرتا ہے۔ وہ اپنے اساتذہ کا انتخاب کیسے کرتا ہے؟ اساتذہ کی تربیت کیسے کرتا ہے؟ طلبہ کی کارکردگی کیسے جانچتا ہے؟ والدین کو بچوں کی پیش رفت سے کیسے آگاہ کرتا ہے؟ اسکول کی مالیات اور انتظام کیسے چلاتا ہے؟

 طلبہ کو صرف کتابی معلومات کے بجائے عملی زندگی کے لیے کیسے تیار کرتا ہے؟ مدارس اگر ان سوالات کے جوابات تلاش کریں اور اپنے

ماحول کے مطابق ان اصولوں کو اپنائیں تو وہ اپنی دینی شناخت برقرار رکھتے ہوئے بہت بہتر نتائج حاصل کرسکتے ہیں۔

یہ بھی ضروری ہے کہ مدارس اپنی کامیابی کا معیار صرف طلبہ کی تعداد کو نہ بنائیں۔ ایک مدرسے میں پانچ سو بچے پڑھ رہے ہوں لیکن اگر ان میں سے بڑی تعداد بنیادی تعلیم بھی مکمل نہ کرسکے تو صرف تعداد کسی کامیابی کی علامت نہیں۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ مدرسے سے نکلنے والا طالب علم قرآن و حدیث کی بنیادی سمجھ رکھنے کے ساتھ ساتھ زبان، ریاضی، سائنس، کمپیوٹر، تحقیق، ابلاغ اور عملی زندگی کی بنیادی مہارتوں سے بھی آراستہ ہو۔ اسے آگے کالج اور یونیورسٹی جانے کا راستہ معلوم ہو، مختلف پیشوں میں داخل ہونے کی صلاحیت ہو اور معاشرے میں ایک باوقار اور مفید شہری کے طور پر اپنا کردار ادا کرنے کے قابل ہو۔

مدارس کی سب سے بڑی طاقت ان کی دینی شناخت ہے، اسے ختم کرنے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دینی تعلیم کو مزید معیاری بنایا جائے اور اس کے ساتھ عصری تعلیم کو مضبوط کیا جائے۔ قرآن، حدیث، فقہ، عربی اور اسلامی تاریخ کے ساتھ انگریزی، نیپالی، ریاضی، سائنس، کمپیوٹر، سماجی علوم، معاشیات اور دیگر ضروری مضامین بھی مناسب معیار کے ساتھ پڑھائے جائیں۔ اس طرح مدرسہ ایسا ادارہ بن سکتا ہے جہاں طالب علم اپنی دینی اور ثقافتی شناخت بھی برقرار رکھے اور جدید دنیا میں کامیاب ہونے کے لیے ضروری صلاحیتیں بھی حاصل کرے۔

خاص طور پر دیہی علاقوں کے مدارس کے لیے اس اصلاح کی ضرورت زیادہ ہے۔ دیہی علاقوں میں رہنے والے بچوں کے لیے مدرسہ اکثر تعلیم کا سب سے قریب اور قابلِ رسائی ادارہ ہوتا ہے۔ اگر وہاں موجود ادارہ کمزور ہوگا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور پسماندہ خاندانوں کے بچوں کو ہوگا۔ 

 

اس لیے سرکاری امداد کا مقصد صرف عمارت بنانا، فرنیچر خریدنا یا چند اساتذہ کی تنخواہ ادا کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس امداد کو تعلیمی نتائج، اساتذہ کی تربیت، طلبہ کی حاضری، تعلیمی معیار، شفاف انتظام اور مستقبل کی منصوبہ بندی سے جوڑنا

چاہیے۔

حکومت کو بھی اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ مدارس کو مین اسٹریم میں لانے کا مطلب صرف انہیں سرکاری امداد دینا نہیں ہونا چاہیے۔ امداد کے ساتھ واضح معیار، نگرانی، آڈٹ، تعلیمی جائزہ اور جواب دہی بھی ضروری ہے۔ جو مدرسہ اچھی کارکردگی دکھائے اسے مزید سہولت دی جائے، جو کمزور ہو اسے اصلاح کا موقع دیا جائے اور جہاں مسلسل بدانتظامی ہو وہاں مناسب قانونی کارروائی اور اصلاحی اقدامات کیے جائیں۔ اس طرح سرکاری وسائل بھی ضائع نہیں ہوں گے اور مدارس کے طلبہ کا مستقبل بھی محفوظ ہوگا۔

مدارس کی انتظامیہ کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سرکاری امداد کوئی مستقل حل نہیں بلکہ اصلاح اور ترقی کا ایک موقع ہے۔ اگر حکومت نے وسائل فراہم کیے ہیں تو ان کا مقصد ادارے کو مزید مضبوط بنانا ہونا چاہیے۔ مدرسہ اپنی آمدنی، عطیات، وقف، سابق طلبہ اور مقامی معاشرے کے تعاون کو بھی منظم کرے۔ مالی معاملات میں مکمل شفافیت، باقاعدہ حساب کتاب اور مناسب آڈٹ کو لازمی بنایا جائے۔ جب لوگوں کو یقین ہوگا کہ ان کا دیا ہوا چندہ اور حکومت کی دی ہوئی امداد واقعی بچوں کی تعلیم اور ادارے کی بہتری پر خرچ ہو رہی ہے تو مدارس کے لیے معاشرتی اعتماد بھی بڑھے گا۔

ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ مدارس اور سرکاری یا نجی اسکول ایک دوسرے کے مخالف نہیں ہیں۔ مسئلہ ادارے کی ملکیت یا نام کا نہیں، معیار کا ہے۔ ایک سرکاری اسکول بھی بہترین ہوسکتا ہے اور ایک نجی اسکول بھی کمزور ہوسکتا ہے؛ اسی طرح ایک مدرسہ بھی اعلیٰ معیار کا ہوسکتا ہے اور 

دوسرا مدرسہ انتہائی کمزور۔ اس لیے مدارس کو کسی ایک شعبے کی اندھی تقلید کرنے کے بجائے دنیا بھر کے کامیاب تعلیمی ماڈلز کا مطالعہ کرنا چاہیے اور اپنے مذہبی، سماجی اور مقامی حالات کے مطابق بہترین نظام تیار کرنا چاہیے۔

آخرکار ہمیں یہ سوال اٹھانا ہوگا کہ اگر ہزاروں مدارس موجود ہونے کے باوجود مسلمان تعلیمی میدان میں پیچھے رہ رہے ہیں تو کیا صرف مدارس کی تعداد بڑھانا کافی ہے؟ یقیناً نہیں۔ ہمیں مدارس کی تعداد نہیں، معیار بڑھانا ہوگا۔ ہمیں ایسے مدارس چاہئیں جو دینی تعلیم کے مراکز ہونے کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم، کردار سازی، تحقیق، زبانوں، ٹیکنالوجی اور روزگار کی تیاری کے بھی مضبوط مراکز ہوں۔ ہمیں ایسے مدارس چاہئیں جن کے فارغ التحصیل طلبہ صرف امام، خطیب یا مدرس ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر، انجینئر، استاد، وکیل، صحافی، مترجم، محقق، کاروباری شخصیت اور مختلف شعبوں کے ماہر بھی بن سکیں، جبکہ اپنی دینی شناخت اور اخلاقی اقدار کو بھی برقرار رکھیں۔

لہٰذا مدارس کو سرکاری اسکول بنانے کی بحث سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کا کام مدارس کو معیار، قانون، نگرانی اور ضروری تعاون فراہم کرنا ہے؛ مدارس کا کام اپنی دینی شناخت برقرار رکھتے ہوئے تعلیمی معیار بلند کرنا ہے؛ اور معاشرے کا کام ان اداروں سے جواب دہی، شفافیت اور بہتر نتائج کا مطالبہ کرنا ہے۔ مدارس کو کمزور سرکاری اسکولوں کی نقل نہیں کرنی چاہیے بلکہ کامیاب نجی تعلیمی اداروں، جدید تعلیمی ماڈلز اور اپنے بہترین دینی تعلیمی ورثے سے سیکھ کر اپنا منفرد نظام تیار کرنا چاہیے۔

مدرسے سرکاری اسکول نہ بنیں؛ مدرسے ایسے معیاری تعلیمی ادارے بنیں جنہیں دیکھ کر سرکاری اور نجی دونوں شعبے سیکھنے پر مجبور ہوں۔ یہی مدارس کے تحفظ، اصلاح اور ترقی کا زیادہ مضبوط راستہ ہے۔

ڈاکٹر سلیم انصاری 

جھاپا نیپال

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)