مدھیش پردیش میں مدرسہ تعلیمی بل پر خاموشی، مسلم تعلیمی حقوق پھر نظرانداز
نمائندہ نیپال اردوٹائمز
احمدرضاابن عبدالقادراویسی
جنک پور
جنک پور مدھیش پردیش اسمبلی کے ہفتہ کو منعقدہ اجلاس میں مدرسہ تعلیمی بل کو فوری طور پر منظور کرنے کا پرزور مطالبہ سامنے آیا۔ سابق وزیر اعلیٰ مدھیش پردیش اور نیپال کمیونسٹ پارٹی (ایمالے) کے رکن صوبائی اسمبلی سروج یادو نے ایوان میں حکومت سے اس اہم بل پر اپنا واضح اور دوٹوک مؤقف پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔سروج یادو نے کہا کہ مسلم برادری کے تعلیمی نظام کے نظم و نسق اور اس کی مضبوطی کے لیے مدرسہ تعلیمی بل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی قیادت میں قائم حکومت نے اس بل کو اصولی منظوری دے دی تھی، تاہم موجودہ حکومت کا اس معاملے پر مسلسل خاموش رہنا باعث تشویش ہے۔انہوں نے ایوان میں سوالاٹھاتے ہوئے کہا:کیا مسلم برادری اس صوبے کے باسی نہیں؟ کیا وہ اس ملک کے شہری نہیں؟ پھر آخر اس بل کو کیوں روکے رکھا گیا ہے؟ حکومت کو اس پر اپنی واضح پالیسی پیش کرنی چاہیے۔”مدرسہ تعلیمی بورڈ سے متعلق اس بل کا بنیادی مقصد مدرسہ تعلیم کو ریاست کے مرکزی تعلیمی دھارے میں شامل کرنا ہے۔ بل میں تعلیمی طور پر پسماندہ مسلم بچوں کو جدید تعلیم سے جوڑنے پر خاص زور دیا گیا ہے، تاکہ مدارس میں نیپالی زبان، سائنس، انگریزی، کمپیوٹر اور دیگر عصری مضامین کی تدریس ممکن ہوسکے۔بل کے مطابق یہ بورڈ صوبے کے اندر قائم مدارس کی نگرانی کرے گا، مدرسہ طلبہ کے امتحانات منعقد کرے گا اور نئے مدارس کو اجازت دینے کا اختیار بھی رکھے گا۔ مزید برآں، بورڈ کو اپنے نام پر جائیداد خرید و فروخت کرنے اور ملکی و غیر ملکی امدادی اداروں سے تعاون حاصل کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔تنظیمی اعتبار سے بورڈ میں ایک صدر سمیت 4 اراکین شامل ہوں گے، جبکہ سماجی بہبود کی وزارت کے نائب سچیو بطور پدین رکن شامل ہوں گے۔
