Sep 21, 2026 09:54 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
عصر حاضر میں سنیت کی پہچان امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ

عصر حاضر میں سنیت کی پہچان امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ

16 Aug 2026
1 min read

عصر حاضر میں سنیت کی پہچان امام احمد رضا خان رحمۃ اللّٰہ علیہ

 محمد حسن علیمی،استاذ مدرسہ قمر العلوم لہرولی،  نول پراسی نیپال

للہ تعالیٰ نے ہر دور میں ایسے علمائے کرام کو پیدا کیا ہے جنہوں نے دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات کو محفوظ رکھا، باطل نظریات کا علمی جواب دیا اور امت کو قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فراہم کی۔ برصغیر کی تاریخ میں ان عظیم شخصیات میں ایک نمایاں نام امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، آیة من آیات اللّٰہ کنز الکرامت، فقیہِ اعظم، عاشقِ رسول، امام عشق و محبت سیدی سرکار اعلیحضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے۔ آپ نے ایسے دور میں اسلام کی خدمت انجام دی جب مختلف فکری فتنے جنم لے رہے تھے اور عوام کے عقائد میں انتشار پیدا ہو رہا تھا۔ آپ نے قرآن، احادیث، تحقیق، فقہ، تصنیف، عشقِ رسول ﷺ اور دفاعِ عقیدہ کے ذریعے اہلِ سنت کی شناخت کو مضبوط کیا۔ اسی لیے موجودہ دور میں بھی سنیت کی پہچان امام احمد رضا خان کی علمی اور فکری خدمات سے وابستہ نظر آتی ہے۔امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی ولادت با سعادت 14 جون 1856ء 10 شوال 1272ھ کو بریلی (ہندوستان) 

میں ہوئی۔ آپ کے والد حضرت مولانا نقی علی خان رحمۃ اللہ علیہ اپنے وقت کے جلیل القدر عالم تھے۔ امام احمد رضا خان نے کم عمری ہی میں قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر، منطق، فلسفہ، ریاضی، علمِ ہیئت اور دیگر علوم میں مہارت حاصل کر لی۔ صرف تیرہ برس کی عمر میں آپ نے فتویٰ نویسی کا آغاز کیا اور پوری زندگی لاکھوں مسلمانوں کے شرعی مسائل میں رہنمائی فرمائی۔

امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی پوری زندگی محبتِ رسول اکرم ﷺ سے لبریز تھی۔ آپ نے مسلمانوں کو یہ

آج کا دور فکری انتشار، سوشل میڈیا کی یلغار اور مذہبی غلط فہمیوں کا دور ہے۔ ایسے حالات میں امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات امت کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ آپ نے تحقیق، دلیل، اخلاق، اعتدال اور شریعت کی پابندی پر زور دیا۔ موجودہ دور میں آپ کی علمی میراث کا مطالعہ نوجوان نسل کو دین کے بنیادی اصولوں سے جوڑنے اور علمی انداز میں مسائل کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔

سنیت کی پہچان صرف کسی شخصیت سے وابستگی نہیں بلکہ قرآن، سنت، اجماعِ امت اور ائمۂ اہلِ سنت کی تعلیمات پر عمل ہے۔ برصغیر کے تناظر میں امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے ان تعلیمات کی تشریح، ترویج اور دفاع میں نمایاں کردار ادا کیا، اسی وجہ سے بہت سے اہلِ سنت آپ کی خدمات کو اپنی فکری شناخت کا اہم حصہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک امام احمد رضا خان کی فکر، عشقِ رسول ﷺ، فقہی بصیرت اور علمی استقامت سنیت کی 

نمایاں علامتوں میں شمار ہوتی ہے۔امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ برصغیر کی عظیم علمی، فقہی اور دینی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دینِ اسلام کی خدمت، قرآن و سنت کی تعلیم، فقہی رہنمائی اور محبتِ رسول ﷺ کے فروغ میں صرف کی۔ ان کی تصانیف، فتاویٰ اور علمی خدمات آج بھی اہلِ علم کے لیے قابلِ استفادہ ہیں۔ موجودہ دور میں بھی ان کی زندگی ہمیں علم، تحقیق، اخلاص، حسنِ اخلاق اور دین کی خدمت کا درس دیتی ہے۔

آپ کی نعتیہ شاعری عشق مصطفیٰ ﷺ کا ایسا درس دیتی ہے کہ جس کو پڑح کر قلب و روح کو سکون ملتا ہے 

آُپ نے نبی کریم ﷺ کی شان میں  اپنی شاعری سے جو عشق رسول کا جام پلایا ہے وہ پوری دنیا کے سامنے عشق و محبت کا انمول تحفہ نظر آتا ہے ۔

 اللہ تعالیٰ ہمیں دینِ اسلام کو صحیح طور پر سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور امتِ مسلمہ میں محبت، اتحاد اور خیر خواہی کو فروغ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)