Sep 21, 2026 09:54 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مصیبت سے منزل تک: نیپالی مسلمان

مصیبت سے منزل تک: نیپالی مسلمان

16 Aug 2026
1 min read

مصیبت سے منزل تک: نیپالی مسلمان 

راقم الحروف: محمد ارشد رضا امجدی فیضی ممبر آف علماء فاؤنڈیشن نیپال

نیپال میں مسلمانوں کو درپیش مشکلات، ظلم و ناانصافی اور آزمائش کی خبریں یقیناً ہر صاحبِ ایمان کے دل کو مضطرب کر دیتی ہیں۔ کسی بے گناہ انسان پر ظلم ہو، اس کے حقوق پامال ہوں یا اسے محض اس کے مذہب کی بنیاد پر تکلیف پہنچائی جائے تو یہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ اسلام ظلم کی اجازت نہیں دیتا، خواہ ظلم کسی پر بھی ہو۔

لیکن ایسے حالات ہمیں صرف دوسروں کے ظلم پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت بھی دیتے ہیں۔ قرآنِ کریم ہمیں متنبہ کرتا ہے:

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ (السورۃ الشوریٰ : 30) یعنی اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرما دیتا ہے۔ وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُم اس آیتِ کریمہ میں ان مکلف مؤمنین سے خطاب ہے جن سے بشری تقاضے کے تحت گناہ سرزد ہو جاتے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ دنیا میں اہلِ ایمان کو پہنچنے والی اکثر تکالیف و مصائب اُن کے اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں اُن کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے، اور کبھی یہی آزمائشیں مومن کے درجات کی رفعت اور قربِ الٰہی کا ذریعہ بھی بن جاتی ہیں چنانچہ ہر مصیبت کو گناہ کی سزا قرار دینا درست نہیں۔

 (ماخوذ از تفسیر صراط الجنان)

اس آیتِ کریمہ سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اہلِ ایمان پر وارد ہونے والی بہت سی مصیبتوں کا ایک سبب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور گناہوں کا ارتکاب بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا بندگانِ خدا اگر اطاعت و تقویٰ کو اپنا شعار بنائیں، گناہوں سے دامن بچائیں اور اللہ 

تعالیٰ کے احکام پر کاربند رہیں تو وہ بہت سی آزمائشوں اور مصیبتوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، حضور پُر نور سرکار مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’بندے کو جو چھوٹی یا بڑی مصیبت پہنچتی ہے وہ کسی گناہ کی وجہ سے پہنچتی ہے اور جو گناہ اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہوتے ہیں ۔پھر رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی   ’’وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ‘‘

 (ترمذی شریف)

جب کسی قوم میں نماز کی بے قدری، حلت و حرمت کی تمیز سے بے اعتنائی، باہمی حسد و بغض، حقوق العباد کی پامالی، جھوٹ، خیانت، بددیانتی اور دنیا پرستی عام ہونے لگے تو اسے اپنے انجام سے بے فکر نہیں ہونا چاہیے۔ 

اور سب سے بڑھ کر اہلِ علم کی ذمہ داری ہے۔ جب علماء اپنے منصب کی عظمت کو سمجھتے ہوئے قوم کی اصلاح، اخلاق کی تربیت اور شریعت کی صحیح رہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں تو معاشرے میں خیر کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔ لیکن اگر عالم بھی دنیا کی محبت و منصب کے خواہاں ، باہمی نزاع، گروہی تعصب اور ذاتی مفادات کا اسیر ہو جائے تو پھر اصلاح کا وہ چراغ مدھم پڑنے لگتا ہے جس سے پوری قوم کو روشنی ملنی چاہیے۔

اسی لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ قوم کی اصلاح صرف عوام کی نہیں، خواص اور اہلِ علم کی بھی ذمہ داری ہے۔ علماء کو منبر و محراب سے امت کو صرف مسائل نہیں، بلکہ تقویٰ، اخلاص، اخلاق، اتحاد، حقوق العباد اور خوفِ خدا کا درس دینا ہوگا اور عوام کو بھی علماء کی نصیحت قبول کرتے ہوئے اپنے کردار کو بدلنا ہوگا۔

ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ کسی قوم کی کمزوری صرف بیرونی دشمنوں سے پیدا نہیں ہوتی کبھی اس کے اندر کا انتشار، اخلاقی زوال اور باہمی بے اعتمادی بھی اسے کمزور کر دیتی ہے۔ لہٰذا نیپال کے مسلمانوں کو موجودہ حالات میں مایوسی کے بجائے توبہ، اصلاح، اتحاد، علم، کردار اور صبر کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے سے پہلے خود کو بدلنے کی فکر کریں۔ اپنے گھروں میں دین زندہ کریں، اپنی مساجد کو آباد کریں، اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت کریں، ایک دوسرے کے حقوق ادا کریں، باہمی اختلافات کو کم کریں اور اللہ تعالیٰ سے اپنے تعلق کو مضبوط کریں۔

کیونکہ قوموں کی تقدیر صرف نعروں سے نہیں بدلتی بلکہ کردار بدلنے سے بدلتی ہے، اعمال بدلنے سے بدلتی ہے، اور جب دل اللہ کی طرف پلٹتے ہیں تو حالات کے بدلنے کی امید بھی پیدا ہوتی ہے۔

لہٰذا موجودہ آزمائش کو صرف شکایت کا عنوان نہ بنایا جائے، بلکہ اسے محاسبۂ نفس، تجدیدِ ایمان، اصلاحِ اعمال اور اتحادِ امت کا پیغام سمجھا جائے۔ ظلم کرنے والوں کو ظلم سے روکنا بھی ضروری ہے اور مظلوموں کا ساتھ دینا بھی ضروری ہے لیکن ساتھ ہی اپنے اعمال کی اصلاح کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک منتشر قوم کو دوبارہ عزت و وقار اور استقامت کی منزل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

ظلم کا سدِّباب

اسلام نے ظلم کے سدِّباب کو محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بنایا، بلکہ اسے ایمان، تقویٰ اور اجتماعی ذمہ داری کا مسئلہ قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ (السورۃالنحل : 90) یعنی بے شک 

 

اللہ تعالیٰ عدل اور احسان

کا حکم فرماتا ہے۔ اور دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے: وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى٘ (السورۃالمائدۃ : 8) یعنی اور تم کو کسی قوم کی عداوت اس پر نہ اُبھارے کہ انصاف نہ کرو، انصاف کرو، وہ پرہیزگاری سے زیادہ قریب ہے 

 (تفسیر صراط الجنان)

یہ اسلام کا وہ بے مثال تصورِ عدل ہے جس میں دشمن کے ساتھ بھی انصاف کا حکم ہے۔ گویا مسلمان کا کردار حالات کا محتاج نہیں، بلکہ اصول کا پابند ہے۔ یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ معاشرے میں ظلم اس وقت طاقت پکڑتا ہے جب لوگ اسے دیکھ کر خاموش ہو جائیں۔ نبی کریم ﷺ نے برائی کو اپنی استطاعت کے مطابق روکنے کا حکم دیا:

«مَنْ رَأٰى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهٖ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهٖ فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهٖ، وَذٰلِكَ أَضْعَفُ الإِيْمَانِ

جو تم میں سے برا کام دیکھے تو اسے ہاتھ سے روک دے اگر اس کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے اگر اس کی بھی نہیں رکھتا تو دل سے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔

 مرآۃ المناجیح شرح مشکوٰۃ المصابیح

لہٰذا ظلم کے سدِّباب کے لیے ہر طبقے کو اپنی ذمہ داری ادا کرنی ہوگی حکمران عدل قائم کریں علماء حق بات بیان کریں والدین اولاد کی تربیت کریں اور عام مسلمان ظلم کے خلاف اپنے دائرۂ اختیار میں آوازِ حق بلند کریں۔

پس موجودہ حالات ہمیں مایوسی نہیں، بلکہ بیداری، محاسبۂ نفس اور اصلاح کا پیغام دیتے ہیں۔ ہمیں مظلوم کا ساتھ دینا، ظالم کو ظلم سے روکنا، اپنے گناہوں سے توبہ کرنا اور قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا ہوگا۔ یقیناً قوموں کے حالات صرف شکووں سے نہیں، بلکہ توبہ، تقویٰ، اتحاد، عدل اور اصلاحِ اعمال سے بدلتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں سچی توبہ، باہمی اتحاد اور ظلم کے خاتمے کی جدوجہد کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)