Sep 21, 2026 09:06 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
ماں کی گود بحیثیت تربیت گاہ

ماں کی گود بحیثیت تربیت گاہ

18 Sep 2026
1 min read

ماں کی گود بحیثیت تربیت گاہ 

محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی نائب ایڈیٹر، نیپال اردو ٹائمز

دنیا میں بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں جن کی عظمت کو الفاظ کا لباس پہنانا ممکن نہیں، والدین کا رشتہ انہی عظیم رشتوں میں سے ہے۔ یہ وہ ہستیاں ہیں جن کے وجود سے انسان کی زندگی کو سہارا ملتا ہے، جن کی دعاؤں سے راستے آسان ہوتے ہیں اور جن کی قربانیاں اولاد کے مستقبل کی بنیاد بنتی ہیں۔اللہ رب العزت نے قرآنِ کریم میں اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا۔ ارشاد فرمایا:

’’وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا‘‘(سورۃ الإسراء: 23)

اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو. (کنز الایمان)

نیز والدین کے بڑھاپے کی حالت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

’’فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ وَلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا‘‘(ایضا)

اور ان سے ہوں نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔ (کنز الایمان)

اور پھر والدین کے لیے یہ دعا سکھائی:

’’رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا‘‘(ایضا، 24)’’اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا‘‘۔ (کنز الایمان)

خصوصاً ماں کی قربانیوں کو قرآنِ مجید نے نہایت خوبصورت انداز میں بیان فرمایا:

’’حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْنًا عَلَىٰ وَهْنٍ‘‘(سورۃ لقمان: 14)اس کی ماں نے اسے کمزوری پر کمزوری برداشت کرتے ہوئے اپنے پیٹ میں اٹھائے رکھا۔

گویا قرآن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماں کا حق محض اس لیے عظیم نہیں کہ وہ ماں ہے، بلکہ اس لیے بھی کہ اس نے اولاد کے لیے جسمانی، ذہنی اور جذباتی طور پر بے شمار قربانیاں دی ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی ماں کے مقام کو غیر معمولی اہمیت عطا فرمائی۔ 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: ’’یا رسول

اللہ! میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟‘‘آپ ﷺ نے فرمایا:تمہاری ماں۔

اس نے پوچھا: پھر کون؟ فرمایا:تمہاری ماں۔

پھر پوچھا: پھر کون؟ فرمایا:تمہاری ماں۔‘‘

پھر پوچھا: پھر کون؟ فرمایا: تمہارا باپ۔

(صحیح البخاری، کتاب الأدب؛ صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب)

یہ تین مرتبہ ’’ماں‘‘ کہنا اس کے مقام، قربانی اور خدمت کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔

ماں کا کردار پہلی درس گاہ

بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو وہ ایک ایسے مسافر کی مانند ہوتا ہے جسے راستوں کا کوئی علم نہیں۔ اسے زبان نہیں آتی، آدابِ زندگی معلوم نہیں ہوتے، اچھے اور برے کی تمیز نہیں ہوتی۔ وہ سب کچھ اپنے ماحول سے سیکھتا ہے۔ 

اور اس ماحول کا سب سے پہلا، سب سے قریبی اور سب سے مؤثر کردار ماں کا ہوتا ہے۔

بچہ سب سے پہلے ماں کا چہرہ دیکھتا ہے، ماں کی آواز سنتا ہے، ماں کی گود میں سکون پاتا ہے اور ماں کے ذریعے دنیا سے تعارف حاصل کرتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا بالکل بجا ہے:

’’ماں بچے کی پہلی درس گاہ ہے، ماں کی گود اس کا پہلا مدرسہ اور ماں کا کردار اس کا پہلا نصاب ہے‘‘۔اس درس گاہ میں نہ بلیک بورڈ ہوتا ہے، نہ چاک، نہ گھنٹی اور نہ ہی امتحانی پرچہ؛ لیکن یہاں ہر لمحہ تعلیم جاری رہتی ہے۔ ماں کا ہر لفظ ایک سبق، ہر عمل ایک مثال اور ہر رویہ بچے کے لیے ایک خاموش پیغام ہوتا ہے۔

ماں کے کردار کا  اثر

ماں کے کردار کا سب سے زیادہ دل کو چھو لینے والا واقعہ وہ ہے جو قرآنِ کریم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ کے حوالے سے بیان فرمایا ہے۔ ایک ماں اپنے شیر خوار بچے کو اپنے سینے سے جدا کرکے دریا کے حوالے کر رہی ہے، مگر اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کے وعدے پر کامل یقین ہے۔ ( طٰہٰ: 39،  القصص: 7)

یہ واقعہ ہر ماں کو یہ پیغام دیتا ہے کہ اولاد کی محبت کے ساتھ اللہ  پر توکل اور اس کے فیصلے پر اعتماد بھی ضروری ہے۔ اللہ نے حضرت موسی علیہ السلام کو ان کی والدہ کی طرف واپس لوٹا دیا، تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کریں۔

نیز اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ اولاد کی تربیت صرف ظاہری اسباب اور اپنی قوت پر بھروسہ کرنے کا نام نہیں، بلکہ اللہ  سے مضبوط تعلق اور اس پر کامل توکل بھی تربیت کا اہم حصہ ہے۔ خود بھی توکل کرے، اور بچوں کو بھی توکل علی اللہ کا درس دے۔

حضور نبی کریم ﷺ کی پاکیزہ سیرت و کردار نے بچپن ہی سے اہلِ عرب کو متاثر کیا، اور آپ ﷺ کے اعلیٰ اخلاق کا اثر آپ کی پوری زندگی میں نمایاں رہا۔

اسی طرح حضرت فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا کی تربیت اور پاکیزہ کردار کا اثر حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کی زندگیوں میں نمایاں نظر آتا ہے۔ صبر، تقویٰ، شجاعت، عبادت، سخاوت، امانت و دیانت اور استقامت جیسی عظیم صفات ان کی شخصیت کا حصہ بنیں۔

حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے اپنی پوری زندگی صبر، حلم اور تقویٰ کا نمونہ پیش کیا، جبکہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے حق و صداقت کی خاطر اپنی جان اور اہل و عیال تک قربان کر دیے، مگر ظلم و باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ ماں کی گود میں دی جانے والی تربیت کا اثر صرف بچپن تک محدود نہیں رہتا، بلکہ وہ پوری زندگی انسان کے کردار، فیصلوں اور کردارِ عمل میں نمایاں ہوتا ہے۔

امام شافعی رضی اللہ عنہ کی ماں کی تربیت کااثر

جلیل القدر  امام، بلند پائے کے فقیہ و مجتہد حضرت امام محمد بن ادریس شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کی ابتدائی زندگی بھی ہمیں ماں کی قربانی اور تربیت کا سبق دیتی ہے۔

ان کے والد کا انتقال بچپن ہی میں ہوگیا تھا۔ ان کی والدہ نے انہیں لے کر مکہ مکرمہ کا سفر اختیار کیا تاکہ وہ اپنے خاندان اور علمی ماحول میں پرورش پائیں۔ غربت کے باوجود امام شافعی رضی اللہ عنہ علم حاصل کرنے میں آگے بڑھتے گئے اور کم عمری میں قرآنِ کریم حفظ کرلیا۔

سوانحی روایات میں آتا ہے کہ غربت کے سبب انہیں کاغذ میسر نہ تھا، چنانچہ وہ ہڈیوں اور دیگر دستیاب چیزوں پر اپنے اسباق لکھا کرتے تھے۔

 ( سیر اعلام النبلاء ،ج8،ص377 - 79، و تاریخ دمشق، ج51،ص397 ملخصاً)

یہ واقعہ بتاتا ہے کہ وسائل کی کمی اگر ارادہ مضبوط ہو تو کامیابی کی راہ نہیں روک سکتی۔

 اور اس کامیابی کے پیچھے ایک ایسی ماں تھی جس نے اپنے بیٹے کی اچھی تربیت اور اس کے مستقبل کے لیے  بہت مشکلات برداشت کیں۔

حضور غوثِ پاک رضی اللہ عنہ اور والدۂ ماجدہ کی تربیت

اسلامی تاریخ میں ماں کی تربیت کا ایک روشن اور قابلِ ذکر نمونہ حضور غوثِ اعظم، شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی میں نظر آتا ہے۔

آپ کی والدۂ ماجدہ کا نام سیدہ اُم الخیر فاطمہ بیان کیا جاتا ہے۔ آپ ایک نیک، متقی اور صالح خاتون تھیں۔ سوانحی مصادر میں آپ کی والدہ کی تربیت اور کفالت کا خصوصی ذکر ملتا ہے۔

آپ کے والد کا انتقال آپ کے بچپن میں ہوگیا، جس کے بعد آپ کی پرورش اور کفالت میں والدہ کا کردار مزید نمایاں ہوگیا۔ بعض سوانحی روایات کے مطابق آپ کی والدہ نے آپ کی تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام کیا اور آپ کو علم و دین کی راہ پر گامزن کیا۔

آپ کی شخصیت میں صدق، تقویٰ، علم، عبادت اور اللہ پر اعتماد کی جو صفات نمایاں ہوئیں، ان کے ابتدائی ماحول اور والدہ کی تربیت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ (ماخوذ از بہجۃالاسرار، ص:167)

مشہور سوانحی روایت میں آتا ہے کہ جب آپ بغداد کے سفر پر روانہ ہوئے تو آپ کی والدہ نے آپ کو ہمیشہ سچ بولنے کی نصیحت فرمائی۔ اس سفر میں جب ڈاکوؤں نے قافلے کو لوٹا تو حضرت عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس موجود رقم کے بارے میں سچ بیان کردیا۔ ڈاکوؤں کو حیرت ہوئی کہ جب جان و مال کا خطرہ ہے تو یہ نوجوان جھوٹ کیوں نہیں بولتا؟ آپ نے والدہ کی نصیحت کا حوالہ دیا۔ اس واقعے سے ڈاکوؤں کے دل متاثر ہوئے اور انہوں نے توبہ کی۔ (مفہوم از: بہجۃ الاسرار، ص 256، قلائد الجواہر، ص:9)

یہ روایت سوانحی کتب میں مشہور ہے، اگرچہ اسے صحیح حدیث کے درجے کی روایت کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔لیکن اس کا تربیتی پیغام نہایت عظیم ہے:ماں کی زبان سے بچپن میں نکلی ہوئی سچی نصیحت کبھی کبھی انسان کی پوری زندگی کا دستور بن جاتی ہے۔

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل  بریلوی،اور والدہ کی تربیت

برصغیر کی علمی و دینی تاریخ میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان فاضل  بریلویرحمۃ اللہ علیہ کا نام علم، فقہ، عشقِ رسول ﷺ، تصنیف، تحقیق اور دینی بصیرت کے حوالے سے نمایاں ہے۔

آپ کے والد حضرت مولانا نقی علی خان خود ایک جلیل القدر عالم تھے، لیکن ایک عظیم عالم کی شخصیت سازی صرف مدرسے میں نہیں ہوتی؛ اس کے پیچھے گھر کا ماحول اور والدین کی تربیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

اعلیٰ حضرت کی سوانح میں ان کے والدین کی محبت، دینی ماحول اور تربیت کا ذکر ملتا ہے۔ ان کی شخصیت میں بچپن ہی سے دین سے وابستگی، علم کی محبت، رسول اللہ ﷺ سے گہری عقیدت اور دینی غیرت نمایاں ہوئی۔ (حیات اعلی حضرت، ص 34)

یہاں اصل سبق یہ ہے کہ عظیم شخصیات کی تعمیر گھر کے ماحول سے شروع ہوتی ہے۔

اگر گھر میں  دین کی محبت ہو، سچائی کا ماحول ہو اور والدین اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے فکر مند ہوں تو بچے کی شخصیت میں وہ اوصاف پیدا ہوسکتے ہیں جو آگے چل کر معاشرے کے لیے روشنی بن جاتے ہیں۔

یوں ہی بچے کے دل میں اللہ تعالی کی محبت پیدا کرنا ماں کی سب سے اہم ذمہ داریوں میں سے ہے۔

بچہ جب کھانا کھائے تو اسے بسم اللہ سکھائی جائے، نعمت ملے تو الحمدللہ، کسی سے ملے تو السلام علیکم، غلطی کرے تو معذرت اور کسی کی مدد کرے تو احسان نہ جتانے کی تربیت دی جائے۔

اسے قرآنِ کریم کی چھوٹی سورتیں، مسنون دعائیں، نبی کریم ﷺ کے اخلاق اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے واقعات، اولیائے کرام کے حقائق محبت بھرے انداز میں سنائے جائیں۔

نماز کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’مُرُوا أَوْلَادَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ‘‘(سنن ابی داؤد، کتاب الصلاة)

اپنی اولاد کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دو۔یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ بچوں کی دینی تربیت آخری عمر تک مؤخر کرنے کے بجائے بچپن ہی سے شروع ہونی چاہیے۔

ماں کی تربیت: نصیحت سے زیادہ عمل

ماں بچے کی پہلی درس گاہ اور پہلی مربیہ ہوتی ہے۔ بچے صرف ماں کی باتوں سے نہیں، بلکہ اس کے عمل اور کردار سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ ماں نماز کی پابند، قرآن سے وابستہ، سچی، صابر اور بڑوں کا احترام کرنے والی ہو تو یہی اوصاف بچوں کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔

بیٹی اپنی ماں سے حیا، خودداری، سلیقہ، علم اور ذمہ داری سیکھتی ہے، جبکہ بیٹا رحم، عدل، شرافت، خدمت، والدین کی اطاعت اور خواتین کے احترام کا درس پاتا ہے۔ اس لیے بیٹی اور بیٹے دونوں کی تربیت میں ماں کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

آج موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے دور میں ماں کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے۔ اسے بچوں کو صرف غلط چیزوں سے روکنا نہیں، بلکہ صحیح اور غلط میں فرق سمجھانا، ان کی بات سننا اور محبت و اعتماد کا ماحول فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ اور ماں کا کردار اس کی پہلی کتاب ہے۔ ایک نیک، باکردار اور باشعور ماں نہ صرف اپنے بچوں بلکہ آنے والی نسلوں کی بھی بہترین تربیت کر سکتی ہے۔

ماں کی گود سے قوموں کی تعمیر

ایک ماں بظاہر اپنے گھر کی چار دیواری میں رہتی ہے، مگر اس کا اثر چار دیواری تک محدود نہیں ہوتا۔

وہ جس بچے کو گود میں لے کر لوری سناتی ہے، وہی بچہ کل عالم، فاضل، محقق، مدبر، استاد، ڈاکٹر، انجینئر، قائد، سپاہی یا معاشرے کا ایک اہم فرد بن سکتا ہے۔

اس لیے ماں کی گود میں صرف ایک بچہ نہیں پل رہا ہوتا؛ ایک مستقبل پل رہا ہوتا ہے۔

 

ماں اگر ایک صالح انسان تیار کرتی ہے تو وہ دراصل ایک صالح خاندان کی بنیاد رکھتی ہے، اور صالح خاندان مل کر صالح معاشرہ بناتے ہیں۔

اسی مفہوم کو شاعر حافظ ابراہیم نے خوبصورت انداز میں کہا:

الأم مدرسة إذا أعددتها ۔۔۔أعددت شعبا طيب الأعراق

یعنی ماں ایک مدرسہ ہے، اگر تم نے اسے اچھی تربیت دی تو گویا تم نے پاکیزہ نسلوں والی ایک پوری قوم تیار کردی۔

ہماری ذمہ داری کیا ہے؟

اگر ہمیں باکردار نسل چاہیے تو ماؤں کی تعلیم، تربیت اور کردار سازی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ قرآن سے محبت، نماز کی پابندی، سچائی، والدین کا احترام اور اچھے اخلاق بچوں کو صرف نصیحت سے نہیں بلکہ عملی نمونے سے سکھائے جا سکتے ہیں۔

ماں صرف بچے کو جنم نہیں دیتی، بلکہ اس کے اندر انسان، کردار اور شعور کو جنم دیتی ہے۔ ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ اور اس کا کردار پہلی کتاب ہے۔

ماں کی اصلاح، نسل کی اصلاح ہے؛ ماں کی تعلیم، نسل کی تعلیم ہے؛ اور ماں کا کردار، نسل کا کردار ہے۔

آج کی ماں کی گود میں بیٹھا بچہ ہی کل کا معاشرہ ہے۔ اگر اس گود میں ایمان، علم، اخلاق اور محبتِ رسول ﷺ ہوگی تو یہی اوصاف معاشرے میں پروان چڑھیں گے۔

لہٰذا ماں اپنی ذمہ داری پہچانے اور اپنی گود کو ایمان، علم، اخلاق اور محبت کی درس گاہ بنائے۔

ماں سنورے گی تو گھر سنورے گا، گھر سنورے گا تو نسل سنورے گی، اور نسل سنورے گی تو قوم کا مستقبل روشن ہوگا۔

اللہ تعالی ہماری ماؤں کو صالح اور باکردار نسلوں کی بہترین مربی بنائے اور ہماری اولاد کو دنیا میں آنکھوں کی ٹھنڈک اور آخرت میں صدقۂ جاریہ فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

از قلم:

محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی

نائب ایڈیٹر، نیپال اردو ٹائمز

بنوٹا، مہوتری، نیپال

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)