شاعرِ حساس مدہوش بلگرامی: روایت، احساس اور عصرِ حاضر کا سنگم
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ازقلم: معظّم ارزاں شاہی دوست پوری
اردو غزل کی تاریخ میں بلگرام شریف کی سرزمین کو ہمیشہ ایک امتیازی اور تقدس بھری حیثیت حاصل رہی ہے۔ یہ وہ بستی ہے جہاں لفظ نے ہمیشہ تہذیب کی آغوش میں پرورش پائی ہے۔ اسی روشن اور قدیم ادبی روایت کا ایک معتبر، فعال اور زندہ حوالہ جناب محمد راشد خاں مدہوش بلگرامی صاحب کی ذاتِ گرامی ہے۔ مدہوش صاحب کی شاعری محض الفاظ کی جگالی نہیں، بلکہ ایک زندہ انسان کے دل کی دھڑکن ہے۔ ان کی ذات میں شاعر اور انسان میں کوئی دوئی نہیں، یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام سیدھا دل میں اترتا ہے۔
سوانحی خاکہ
اسمِ گرامی محمد راشد خاں، ادبی تخلص مدہوش بلگرامی، والدِ گرامی صوفی منش شاعر جناب عزیز احمد خاں کیفی بلگرامی مرحوم۔ آپ کی پیدائش 4 جون 1969ء کو بلگرام شریف، ضلع ہردوئی میں ہوئی۔ آپ نے بی-اے تک تعلیم حاصل کی اور کاروبار و تجارت کو ذریعہ معاش بنایا۔ آپ نے باقاعدہ طور پر 1989ء میں، 20 سال کی عمر میں شاعری کا آغاز کیا اور معروف استادِ سخن جناب اختر شاہجہاں پوری صاحب سے شرفِ تلمذ حاصل کیا۔ آپ کا کلام 1990ء سے ہند و پاک کے تمام موقر و معیاری ادبی جرائد کے علاوہ لندن، جرمنی، امریکہ اور اسپین کے اردو رسائل میں مسلسل شائع ہو رہا ہے۔ 1992ء سے آپ کے شخصی و ادبی
مضامین بھی شائع ہو رہے ہیں۔ آپ کا کلام اے ٹائمز ویژن ٹی وی چینل اور آل انڈیا ریڈیو لکھنؤ سے بھی نشر ہو چکا ہے۔
آپ کی مطبوعہ تصنیفات نو ہیں:
1۔ تلاش و تعبیر (2006ء)، 2۔ ترسیل (2009ء)، 3۔ حرفِ آگہی (2011ء)، 4۔ مہرباں کیسے کیسے (2016ء)، 5۔ احساس (2018ء)، 6۔ بزمِ چراغاں (2019ء)، 7۔ حرف بہ حرف (2021ء) ۔ (2024) الف کے بعد۔ (2025)تجزیہ۔ اس کے علاوہ آپ کی نعتیہ آڈیو کیسٹ "دل مدینے میں ہے" (1990ء) بھی منظرِ عام پر آ چکی ہے۔ آپ کو اتر پردیش اردو اکادمی اور ملک کی متعدد ادبی تنظیموں نے اعزازات سے نوازا ہے۔
فکر و فن کا تفصیلی جائزہ:
مدہوش صاحب کی غزل گوئی میں چار بڑے رنگ نمایاں ہیں۔
1۔عشق کی پاکیزگی اور وارداتِ قلبی:
ان کے یہاں عشق محض جسمانی نہیں، ایک روحانی واردات ہے۔ انتظار کو وہ عبادت بنا دیتے ہیں:> مری وفا کے تعلق سے واسطے رکھنا
> اور انتظار میں ہر گام پر دیے رکھنا
اور محبوب کے سامنے ضبط کا یہ عالم ہے:
میں اس کے ضبطِ غم کو آزما کر دیکھ لیتا ہوں
جب اس کے سامنے آنسو بہا کر دیکھ لیتا ہوں
ان کے یہاں محبوب کا لمس اتنا پاکیزہ ہے کہ:
> پاکیزگیِ حسن کا عالم عجیب تھا
> چھونا پڑا ہے اس کو مگر باوضو مجھے
2۔عصرِ حاضر کا کرب اور سماجی شعور:
وہ اپنے عہد کے نباض ہیں۔ آج کے انسان کی وحشت اور خود غرضی پر ان کا یہ شعر پوری تہذیب کا نوحہ ہے:
کوئی عقل و خرد کی بات کیا اس پر اثر ڈالے
جو وحشت میں خود اپنا ہی گریباں چاک کر ڈالے
اور آج کی مصنوعی دنیا پر:
ہر طرف شمعیں فروزاں ہیں یہاں
> کاش اس بستی میں گھر میرا بھی ہو
اور بازار میں انسان کی قیمت پر:
کسی یوسف کی قیمت کیا لگے گی
ہمیں بھی آگیا بازار پڑھنا
3۔امید اور مزاحمت کا چراغ:
مایوسی ان کے ہاں آخری سچ نہیں۔ وہ اندھیرے میں بھی روشنی کی بات کرتے ہیں:
> سرد ماحول میں شعلوں کو جگائے رکھے
> یعنی بیتے ہوئے لمحوں کو جگائے رکھے
اور آرزو کی کیفیت دیکھیے:
رقص کرتی ہے، سنبھلتی ہے، بہک جاتی ہے> آرزو شوق میں آ آ کے بھٹک جاتی ہے
یہی امید ان کی شاعری کو زندگی بخشتی ہے۔
4۔زبان و بیان کی سادگی اور فنِ غزل پر
گرفت:
ان کی زبان میں بلگرام کی مٹی کی چاشنی اور لکھنؤ کی تہذیب کی نزاکت دونوں ہیں۔ وہ مشکل الفاظ نہیں لاتے، بلکہ سادہ لفظوں میں گہرے معانی پیدا کرتے ہیں۔ ان کے اشعار میں روانی اور موسیقیت ہے:
مل گیا ضبطِ غم کا جب سے گہوارا مجھے
فکرِ مستقبل نہ ہے اندیشۂ فردا مجھے
اور
ان کی ہوجائے اگر مجھ پہ نظر شام ڈھلے
اشک ہوجائیں پھر آنکھوں کے گہر شام ڈھلے
اور تغزل کی انتہا:
> پیکرِ شعر میں تم ڈھال لو اس کو ورنہ
> وادیِ ذہن سے یادوں کی مہک جاتی ہے
بالآخر یہی کہوں گا کہ مدہوش بلگرامی صاحب کی شاعری اس بات کا ثبوت ہے کہ غزل آج بھی زندہ ہے، کیونکہ اسے ایسے شعراء کا خونِ جگر میسر ہے جو شہرت کے پیچھے نہیں، بلکہ لفظ کی حرمت کے پیچھے چلتے ہیں۔ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ پاکیزگی اور شرافت کے ساتھ بھی بڑی اور دیرپا شاعری کی جا سکتی ہے۔میں اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ وہ محترم مدہوش بلگرامی صاحب کے قلم کو مزید رفعت و توانائی عطا فرمائے اور ان کا سایہ اردو ادب پر دیر تک قائم و دائم رکھے تاکہ اردو ادب کے خزانے میں بیش بہا اضافہ جاری رہے ۔
