Sep 21, 2026 09:54 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
سرداردو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نوع انسانی کے لئے رحمتِ کامل ہے

سرداردو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نوع انسانی کے لئے رحمتِ کامل ہے

27 Aug 2026
1 min read

سرداردو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم نوع انسانی کے لئے رحمتِ کامل ہے

محمد عبدالحفیظ اسلامی،

 خطیب مسجد صالحہ قاسمؒ 

و سینئر کالم نگار۔حیدرآباد

9849099228 

نبیﷺ کی حیات طیبہ میں سیرت کے کئ پہلو ہیں..! جس میں ایک اہم پہلو ہمارے سامنے یوں آتا ہے کہ، مکہ والوں کی ضد اور ہٹ دھرمی اور آپﷺ کی دعوت حق کامسلسل انکار ہوتار ہا لیکن داعی حق آنحضور ﷺ نے کبھی بھی ہمت نہیں ہاری اور برابر دعوت دین و اقامت دین کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھی چنانچہ ایک مرتبہ آپ ﷺ نےاسی سلسلہ میں طائف کی طرف رخ فرمایا تا کہ طائف والوں تک اپنی بات پہنچائی جاسکے۔ نبی مکرم ﷺ نے اپنے ہمراہ زید  بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ساتھ لے کر پیدل سفر کرتے ہوئے طائف کی طرف چل پڑے جو کہ مکہ سے60 ساٹھ میل کی دوری پر واقع ہے۔ ازراہ سفر آپ ﷺ نے طائف سے قبل دو قبیلوں سے ملاقات فرمائی اور انہیں بھی دعوت پیش کی گئی لیکن ان قبیلوں نے بھی آپﷺ کا ساتھ دینے سےانکارکردیا۔ الغرض آپ ﷺ نے اپناسفر جاری رکھا یہاں تک کےآپﷺ طائف میں داخل ہوئے۔ آپ ﷺ وہاں پہنچ کر سب سے پہلے ان سرداروں سے ملاقات فرمائی جو اس علاقے میں اچھا اثر رکھتے تھے جو آج کی اصطلاح میں(VIP)کہا جاتا ہے، غرض کہ آپ ﷺ نے ان کے سامنے وہی بات رکھی کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ پرایمان لاؤاورمیری رسالت  کا اقرار کرو تا کہ خسران آخرت سے بچ سکو۔ لیکن ان سرداروں نےبھی آپ ﷺ کی دعوت کےجواب میں بڑاحقارت آمیز رویہ اختیار کیا اور آپ ﷺ کی بات نہ مانی پھرآپ ﷺ ان منکرین حق سے یوں گویا ہوئے کہ تم لوگ اپنے ان ناپاک اور نا معقول خیالات اپنے پاس ہی رکھویعنی اپنے ان خیالات سے لوگوں کو گمراہ مت کرو،یہ بات فرما کرآپ ﷺ نے سماج کے عام لوگوں کی طرف اپنی دعوت کارخ پھیردیا اور اس کام میں آپ ﷺ مصروف ہوگئےلیکن اس طرح نبی کریم ﷺ کا عوام الناس کو دعوت دین پیش کرنا طائف کے ان سرداروں کو ناگوار گزرا ،جیسا کہ باطل کامزاج ہوتا ہے!ان ظلم پسندوں اور باطل افکار کے اسیروں نےاپنے ابلیسی کردار کی انتہا کردی اور شقاوت قلبی کا

مظاہرہ کرتے ہوئے،آپ ﷺ کے پیچھےآوارہ اور بدماش لڑکوں کو لگادیا اور آپ ﷺ جہاں بھی جاتے یہ اوباش و نابکارلڑکے آپ کو گالیاں بکتے ہوئےآپﷺکا پیچھا کرتےاور پتھراؤکرتے،ان کی  اسطرح کی شدید سنگ باری کےدوران آپﷺ کے خادم حضرت زید بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر طرح سےڈھال بن کر آپﷺ کو زخمی ہونے سے بچاتے لیکن سرداران طائف کی طرف سے لگادیئے گئے ان بدمعاشوں کاانبوہ مسلسل پتھروں کی بارش کرتا ہوا آپﷺ کا پیچھا کرتے ہوئے آگے بڑھتا یہاں تک کے نبی ﷺ اور آپکے خادم حضرت زیدؓ (خادم 

رسول) بھی زخمی ہوگئے اور نبی کریم آقائےدوجہا ں صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت ہوچکی تھی کہ جسم اطہر سے نکلا ہواخون آپ ﷺ کے مبارک نعلین میں اس طرح جم چکا کہ آپ کے پیراقدس ان نعلین سے چمٹ گئے۔اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ظلم 

کرنے والوں نے اپنے ظلم کی   انتہاکردی۔ ایسے نازک موقع  پرآنحضؐو رحمت للعالمین      Mercy for all the worldsکےپاس ایک                                فرشتہ آتا ہے اور آپ ﷺ سے درخواست کرتاہے کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں پہاڑاٹھاکران اہل طائف پرق ڈال دوں لیکن آپ ﷺ کو جو کہ رحمت عالم  بناکر مبعوث فرمایا گیا تھا اسی لئے آپ ﷺ نے فرشتہ کی درخواست کو قبول نہیں فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ یہ قوم مجھے نہیں سمجھ رہی ہے۔آئندہ ان کی نسلوں میں میری دعوت قبول کرنے والے پیدا ہوں گے! بعد میں ایساہی ہوا، چنانچہ ہم دیکھتےہیں کہ آج طائف میں ہرطرف مسلمان پائے جاتے ہیں، اوروہاں کی فضاوؤںAtmosphere میں ہر طرف کلمہ توحید اور شہادت رسالت بنیؐ کی گونج سنائ دیتی ہے۔ ہم  الحمدللہ ،آپؐ کی امت ہیں! اس بات پر غور کریں کہ یہ دین کتنی مشکلات طے کرتے ہوئے ہم تک پہچا ہے۔ 

اسلام سے بغض رکھنے والوں کی طرف سے آپ ﷺ پر مصائب و آلام کا لامتنائی سلسلہ جاری رہا ہے۔ یعنی اس دین رحمت کی خاطر آپؐ پتھر کھائے اور اسی دین حنیف کے غلغلہ کیلئےآپ ﷺ نےاپنے وطن عزیز ”شہر مکہ“ کو چھوڑا اور ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے گئے اور اسی دین فطرت کی خاطر منکرین حق،قریش کی طرف سے جنگ مسلط کردی گئی تھی،آپ ﷺ اور آپؐ کے اصحابؓ کو مدینے میں بھی چین سے رہنے نہ دیا گیا۔ لیکن داعی اعظم، رحمت عالم محمد ﷺ نے خدا کے دین کوخدا کے بندوں تک پہنچانے اور اس کے احکام اس کی زمین پر نافذ کرنے،کلمہ حق کو بلند کرنے اور کلمہ ناشکر کو پست اوراس کا خاتمہ کرنے کیلئے اور اسی کی اقامت کی خاطر صبح وشام جد وجہد حکیمانہ انداز سے  جاری رکھااور اس پرجمے رہے اور اپنے اصحابؓ کو بھی اسی کی تلقین فرماتے رہے کہ صبر کے ساتھ حق پر جمے رہو اللہ ہمارا حامی  ومددگار ہے۔اتنی مشکلات اور مصائب جھیلنے کے باوجود آپ ﷺ اور آپ کے صحابہؓ کی استقامت میں ذرہ برابر فرق نہیں آیا۔

تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ نبی ﷺ کی 23 سالہ انتھک جدوجہد کے نتیجہ میں اللہ نے سرزمین عرب سے شرک کا خاتمہ کردیا اورتوحید کا بول بالا ہوگیا، نبی کریم ﷺ کی مقدس و عظیم قیادت میں اسلامی تحریک کا قافلہ روز بروز آگے بڑھتا گیااور اس راستہ میں اہل ایمان ہرطریقے سے  آزمائےگئے اوراپنی قربانیاں پیش کرتے رہے اور اللہ کی طرف سے جو بھی آزمائش ہوتی رہی اس میں ثابت قدم رہے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح مبین عطا کی۔۔۔  یعنی زمین وآسمان اس بات پر شاہد ہیں کہ، ایک دن وہ بھی آچکاکہ جو لوگ محض اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کی پاداش میں مکہ مکرمہ سے نکالے گئے تھے وہی لوگ اپنے عظیم قائد سرکار دو جہاں ﷺ کے ساتھ فاتحانہ حیثیت سے مکہ شہر میں داخل ہوئے۔ خالص مرکز توحید کعبۃاللہ کے اندر جتنے اصنام نصب کردئے گئے تھے یہ سب کے سب نکال دیئےگئے۔ ایک وہ وقت بھی آگیاکہ دنیا کا ایک بڑا حصہ اللہ کے پسندیدہ دین رحمت کےپرچم تلےجمع ہوگیا۔ 

 ”ایک لمحہ فکریہ“آج شیطان ملعون پھر وہی مشرکانہ عقائد و اعمال کو نیا لبادہ پہنا کر اولاد آدم کے سامنے پیش کررہا ہے،باطل طاقتیں اسلام کے خلاف کچھ اس طرح کی نامسعود و مکروہ حکمت عملیاں اپنائے ہوئے ہیں جو سادی آنکھ سے نظر نہیں آتیں۔

زر پرستی علانیہ ہورہی ہے،مقابلہ حسن کے حسین نام پر قومو ںکی بیٹیاں برہنہ کردی جارہی ہیں، جہیز کی لعنت کی بنا پر روز انہ سینکڑوں خواتین کو تیل ڈال کر آگ لگائی جاری ہے اور دیگر طریقوں سے ان معصوموں کی جان لی جارہی ہے،دختر کشی کا عمل بھی ہورہا ہے،خواتین و لڑکیوں کی عزت و آبرو لوٹی جارہی ہے،زنا بالجبر کے واقعات عام سی بات ہوکر رہ گئی ہے،فحاشی و زنابالرضا اور عریانیت انسانی سماج میں پائی جارہی ہے،بنائو سنگھار کے بیجا اظہار نے صنف نازک کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے، مخلوط تعلیمی ادارہ جات نے نوجوانوں کو اخلاقی پستی کی طرف ڈھکیل رہے ہیں،صرف بڑی عمر ہی کے نہیں بلکہ نوجوان طبقہ بھی شراب نوشی کا عادی ہوچکا ہے۔ علاوہ ازیں،اونچی ذات نیچی ذات کے احمقانہ مفروضے قائم ہوگئے ہیں۔ اسلام سے قبل کا وہی سودی نظام پوری شدت 

کے ساتھ نافذ ہوچکا،جس کی بدولت سرمایہ دار طبقہ غریبوں کا خون چوس رہا ہے،انسانوں کے بنیادی حقوق سلب کرلئے جارہے ہیںاور جس طرح ایام جاہلیت میں بڑے بڑے طاقتور قبیلوں کی اجارہ داری قائم ہوچکی تھی ٹھیک اسی طرح ایک دوسرے انداز سے طاقتور ممالک اور گروہ اپنی اجارہ داری اور دادا گری قائم کرچکے۔

اسلام کے نام سے اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کیلئے ہر طرح کی کوششیں کی جارہی ہیں، یہود و نصاریٰ اور دیگر مشرکین،آقائے نامدار،سرکار دو عالم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخیاں کرنے کیلئے نت نئے طریقہ اپنائے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے قبلہ اول پر ناجائز قبضہ ہوچکا، وہاں کے اصلی باشندوں کو جیل نما علاقہ تک محدود کردیا گیا، اور جب چاہے بم باری کرتے ہوئے ان کے گھروں کو تباہ و برباد کردیا جارہا ہے۔ خود ہمارے اپنے ملک عزیز میں تاریخی بابری مسجد کو جنونیوں نے شہید کردیا اور دیگر عبادت گاہوں پر بری نظریں جمائے ہوئے ہیں۔

مسلمانوں کے تشخص کو ختم کرنے کی دنیا بھر میں کوششیں کی جارہی ہیں اور ملت اسلامیہ کی حالت یہ ہوچکی کہ ان کے ہاتھ لوگوں کو کچھ دینے کیلئے بنائے گئے تھے لیکن یہی ہاتھ اب صاحب اقتدار لوگوں کے سامنے کچھ تحفظات کیلئے پھیلائے جارہے ہیں یہ اور اس طرح کی دیگر باتیں مسلمانوں کو بحیثیت مرد مومن لمحہ فکر دے رہے ہیں۔

جہالت قدیمہ اور جہالت جدیدہ 

حکومت و اقتدار کی خواہش میں ناجائز طریقے اختیار کرنا ذخائر سم و زر کی حرص، بے روک ٹوک جنسی خواہشات کی تکمیل، زن و مرد کی مخلوط تہذیب،عریانی و بے حیائی، جوا شراب نوشی، وطن پرستی و قوم پرستی، جیسے انسانیت سوز اعمال موجب فخر و ناز تھے۔ انسانوں پر انسانو ںکی حکومت تھی۔ یہ حالت صرف عربو ںکی ہی نہیں تھی بلکہ کم و بیش پوری دنیا کا یہی نقشہ تھا۔ 

ذرا غور سے دیکھئے، تو معلوم ہوگا کہ آج کی نام نہاد مہذب اور ترقی یافتہ دنیا کی بھی وہی حالت ہے۔ مذہبی دنیا ہو کہ لا مذہب دنیا، ان کے معاشرے ان کی تہذیب، ان کے اخلاق و معاملات، ان کی حکومت اور سیاست کا جائزہ 

لیجئے تو صاف نظر آتا ہے کہ جہالت قدیمہ اور جہالت جدیدہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ چپہ چپہ پر فتنہ و فساد کی جو آگ بھڑک رہی ہے،انسان انسان ہی سے بد ظن و خائف ہے۔ مزدوروں اور سرمایہ داروں کی جو کشمکش ہے مخلوط تہذیب کے جو حیا سوز کارنامے ہیں، انسانوں پر انسانوں کی حکومت کی جو تباہ کاریا ںہیں یہ تمام جہالت ہی کی ہنگامہ آرائی ہے۔ جہالت قدیمہ بھی الٰہی تعلیم کو بھول جانے کا قدرتی رد عمل تھا اور جہالت جدیدہ

بھی الٰہی تعلیم سے اعراض و روگرداں ہونے کا رد عمل ہے، یہ ترقی یافتہ دنیا دراصل ترقی یافتہ جہالت ہے۔ (حوالہ کتاب ’’اسوہ حسنہ ‘‘ از حضرت علامہ صفوۃ الرحمن صابر رحمت اللہ علیہ۔ یاد رہے مذکورہ کتاب تقریباً نصف صدی قبل لکھی گئی تھی)

نبی کریم  ﷺ کی یوم ولادت با سعادت کے مبارک موقع پر دنیا کے سارے مسلمان خوشی مناتے ہیں، خوشی کا اظہار کیوں نہ کریں جبکہ ایک ایسی عظیم ہستی دنیا میں تشریف لائی ہے جو حقیقت میں بہار انسانیت کی نوید لائی ہے لیکن مسلمان صرف سال میں ایک مرتہ چند گھنٹوں کیلئے خوشی کا اظہار کرلیں اور باقی تمام سال آپ ﷺ کی بعثت کے مقصد کو فراموش کردیں،اگر ایسا ہورہا ہے تو فوری اس طرز عمل میں تبدیلی لانا انتہائی ضروری ہے کیونکہ سال میں صرف ایک بار آپ ﷺ کو یاد کرلینا اور باقی ایام میں آپ ﷺ کے اصل مشن کو پس پشت ڈال دینا اہل ایمان کی شان کے خلاف بات ہوگی۔

مختصر یہ کہ رسول اللہﷺ کے مشن کو جاری رکھنا اب ہم مسلمانوں کا دینی فریضہ ہے کیونکہ جہاں پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو رحمۃ للعالمین کا اعلیٰ اعزاز عطا فرمایا ( جو کہ پہلے کسی کو عطا کیا گیا تھا نہ قیامت تک کسی کو عطا ہوگا) وہیں پر آپﷺ کی امت کو بہترین امت کے لقب سے سرفراز فرمایا ہے۔اس سلسلہ میں ارشادباری تعالیٰ یوں ہوا” تم بہترین امت ہو تمہیں لوگوں کی بھلائی کیلئے نکالاگیا ہے۔ تم نیکی کاحکم دیتے ہواور بدی سے لوگوں کوروکتے ہواوراللہ پر ایمان رکھتےہو‘‘۔اس طرح اللہ  تعالیٰ نے امت مسلمہ پر بھاری ذمہ داری ڈالی ہےکہ نبی آخرالزماں حضرت محمد.مصطفیٰﷺ کےنقش قدم پر چلتے ہوئے آپ ﷺ کے مشن(دین کی اقامت) پر محنتیں کرتے رہیں تا کہ دنیا سے ظلم و بربریت کا خاتمہ ہو،انسانوں کوان کے حقوق ملیں،اولاد آدم ایک خدا کی بندگی و غلامی اختیارکریں،زمین پر  جھوٹی خدائی کاخاتمہ ہو اورحقیقی معبودکی ہر طرف بڑائی چلے اور سارے عالم میں حقیقی مقتدر اعلی کا فرمان جاری ونافذ ہوسکے۔اس راہ میں اہل ایمان کو تن، من،دھن کی بازی لگانا پڑے گا اور حقیقت یہ ہے کہ ’’مومنوں کی جان و مال اللہ تعالیٰ نے جنت کے عوض خرید لیا ہے۔اس سلسلہ میں شاعر اسلام نے بہت عمدہ بات کہی: 

’’بہ مصطفی برساں خویش راکہ دیں ہمہ اوست

 اگر  با و نہ رسیدی  تمام بولہبیت

مختصر یہ کہ نبی ﷺ سے  محبت اور آپ کی،اتباع واطاعت میں نوع انسانی کی حقیقی حیات ہے اور اسی میں بڑی کامیابی ہے؛اس کے بغیر جو بھی راہیں ہوں گی، یہ سراسر لہبیت ہے ۔ ختم شد

 

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)