مسلمان اور حب الوطن
محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی
نائب ایڈیٹر ادارہ ھذا
اللہ رب العزت کا فرمان ہے:
’’إِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الإِسْلَامُ‘‘۔ (آل عمران: 19) بے شک اللہ کے نزدیک دین اسلام پیارا مذہب ہے ۔
اسلام ایک ایسا کامل اور جامع دین ہے جو انسان کی انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی تک ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام نے جہاں انسان کو اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنے، ایمان و عقیدے کی حفاظت، فرائض و واجبات کی ادائیگی اور حلال و حرام کی تمیز کا حکم دیا ہے، وہیں انسان کو اپنے معاشرے، اہلِ وطن اور اپنے ملک کے امن و سلامتی کے حوالے سے بھی ذمہ دار بنایا ہے۔
وطن سے محبت انسان کی فطرت میں شامل ایک پاکیزہ جذبہ ہے۔ انسان جس سرزمین پر پیدا ہوتا ہے، جہاں اس کا بچپن گزرتا ہے، جہاں اس کے عزیز و اقارب، دوست احباب اور یادیں وابستہ ہوتی ہیں، اس سرزمین سے محبت ہونا ایک طبعی امر ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو بھی اپنے وطنِ عزیز مکہ مکرمہ سے بے پناہ محبت تھی۔ جب آپ ﷺ کو مکہ مکرمہ سے ہجرت پر مجبور کیا گیا تو آپ ﷺ نے مکہ سے خطاب کرتے ہوئے اس کی محبت اور عظمت کا اظہار فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وطن سے محبت انسانی فطرت کے خلاف نہیں بلکہ ایک فطری اور جائز جذبہ ہے۔
اسی طرح ایک مشہور قول’’حب الوطن من الإيمان‘‘ یعنی وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔اس سے عیاں ہے کہ ایک مسلمان اپنے وطن کے ساتھ وفاداری، خیر خواہی، امن پسندی اور بھلائی کے جذبے کے ساتھ زندگی گزارے۔
اسلام کسی مسلمان کو صرف اپنے ذاتی مفاد تک محدود نہیں کرتا، بلکہ اسے دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونے اور ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’ مَنْ لَا يَرْحَمْ لَا يُرْحَمْ‘‘۔ یعنی جو رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ (صحیح البخاري: کتاب الأدب، باب رحمة الناس والبهائم (حدیث نمبر: 5997 اور 7376)
ایک مسلمان کے لیے انسانیت کی خدمت
، مصیبت زدہ لوگوں کی مدد اور ضرورت مندوں کا سہارا بننا اسلامی تعلیمات کا اہم حصہ ہے۔ یہی وہ خوبصورت کردار ہے جس کے ذریعے مسلمان اپنے وطن اور معاشرے کے لیے حقیقی سرمایہ بن سکتا ہے۔
ملکِ عزیز نیپال میں آنے والے حالیہ تباہ کن سیلاب نے بھی بہت سے لوگوں کو شدید مشکلات سے دوچار کیا۔ ایسے نازک وقت میں متاثرین تک کھانے پینے کی اشیاء، لباس، رہائش اور دیگر ضروری سامان پہنچانا، بیماروں اور زخمیوں کی مدد کرنا، بے گھر افراد کو سہارا دینا اور متاثرہ خاندانوں کے دکھ درد میں شریک ہونا ایک مسلمان کی بہترین قومی و انسانی ذمہ داری تھی، جسے ملکِ عزیز کے مسلمانوں نے بلا تفریقِ مذہب سیلاب زدگان کی بھرپور امداد کی اور خوراک، لباس اور رہائش کی ضروری اشیاء فراہم کیں۔ یہ عملی خدمت اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک مسلمان اپنے وطن اور معاشرے کے لیے دل و جان اور مال سے مثبت کردار ادا کرتا ہے۔
اسی طرح وطن سے محبت کا تقاضا ہے کہ ہر شہری اپنے علم، صلاحیت، وقت اور وسائل کو ملک کی ترقی، امن اور خوش حالی کے لیے استعمال کرے، قانون کی پابندی کرے، قومی املاک کی حفاظت کرے، کرپشن و جرائم سے اجتناب کرے اور ضرورت مندوں کی مدد کرے۔
آج کل سوشل میڈیا پر بعض نوجوان بغض و نفرت، فتنہ و فساد اور باہمی اختلاف کو فروغ دے رہے ہیں، جو معاشرے کے امن و اتحاد کے لیے نہایت تشویش ناک امر ہے۔ ایسے منفی رجحانات کی روک تھام کے لیے معاشرے کے ذمہ دار افراد کو بروقت اور مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ یہ شرپسندانہ رویے ملک کے امن و سلامتی، باہمی رواداری اور اتحاد و اتفاق کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
اسی طرح ایسے عناصر سے بھی دور رہنا چاہیے جو ملک کے امن و سلامتی کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں، دہشت گردی یا تشدد میں ملوث ہوں۔ اگر کسی فرد یا گروہ کی ایسی سرگرمیاں علم میں آئیں تو قانون کو ہاتھ میں لینے کے بجائے متعلقہ حکام کو بروقت اطلاع دی جائے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا جائے، تاکہ ملک کے امن و سلامتی اور مقدس مقامات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
اب ایسے عالم میں والدین، علما، اساتذہ اور معاشرے کے ذمہ دار افراد کی ذمہ داری ہے کہ نئی نسل میں دیانت داری، محنت، رواداری، قانون پسندی اور خدمتِ انسانیت کے جذبات پیدا کریں۔ کیونکہ حقیقی حب الوطنی نعروں سے نہیں، بلکہ کردار، خدمت اور عملی ذمہ داری سے ثابت ہوتی ہے۔
