Sep 21, 2026 09:54 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
*نرمی اور مضبوطی کا راز*

*نرمی اور مضبوطی کا راز*

20 Aug 2026
1 min read

نرمی اور مضبوطی کا راز

محمد علی شیر قادری نظامی 

سکونت:روضہ شریف ،مہوتری نیپال 

دنیا کی ہر شے اپنے اندر ایک خاموش پیغام رکھتی ہے۔ جو نگاہ ظاہر کے پردوں سے آگے دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو، اس کے لیے کائنات کا ذرہ ذرہ معرفت کا آئینہ بن جاتا ہے۔ اہلِ تصوف نے ہمیشہ اشیاء کے ظاہری وجود میں چھپے ہوئے باطنی اسرار کو دریافت کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہی اسرار میں ایک معمولی سی دکھائی دینے والی شے "سیمنٹ" بھی ہے، جو اپنے اندر زندگی، تعلقات اور سلوکِ باطن کا ایک عظیم درس سموئے ہوئے ہے۔ کہا جاتا ہے کہ "سیمنٹ سے بھی ایک نصیحت ملتی ہے؛ جوڑنے کے لیے بھی نرم ہونا ضروری ہے اور جوڑے رکھنے کے لیے بھی سخت ہونا ضروری ہے۔" بظاہر یہ ایک سادہ سا جملہ ہے، مگر اس کے اندر حیات و معرفت کا ایک پورا فلسفہ پوشیدہ ہے۔سیمنٹ جب تک خشک رہتی ہے، کسی اینٹ کو دوسری اینٹ سے نہیں جوڑ سکتی۔ اسے پہلے پانی کے ساتھ مل کر اپنی سختی چھوڑنی پڑتی ہے، تب جا کر وہ تعمیر کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہی حال انسان کا بھی ہے۔ جب تک وہ اپنی انا، خود پسندی اور تکبر کی سختی کو نرم نہیں کرتا، وہ کسی دل تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا۔ دلوں کے درمیان فاصلے طاقت سے نہیں، محبت سے ختم ہوتے ہیں۔ رشتے جبر سے نہیں بلکہ شفقت سے قائم ہوتے ہیں۔ اسی لیے مشائخِ طریقت نے ہمیشہ اخلاقِ حسنہ کو روحانیت کی بنیاد قرار دیا ہے۔حضرت جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے: "تصوف نام ہے حسنِ اخلاق کا۔" درحقیقت حسنِ اخلاق وہ نرمی ہے جو دلوں کو قریب کرتی ہے اور نفرتوں کو 

مٹا دیتی ہے۔ جب انسان دوسروں کی لغزشوں کو معاف کرنا سیکھ لیتا ہے، ان کے عیوب پر پردہ ڈال دیتا ہے اور ان کے لیے آسانی کا سبب بنتا ہے تو اس کا وجود محبت اور رحمت کا مظہر بن جاتا ہے۔حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: "دریا جیسی سخاوت، سورج جیسی شفقت اور زمین جیسی تواضع اختیار کرو۔" دریا کی عظمت اس کے بہاؤ میں ہے، سورج کی شان اس کی فیاضی میں اور زمین کی رفعت اس کی عاجزی میں۔ یہی صفات انسان کو دلوں کا محبوب بناتی ہیں۔ محبت کا پہلا زینہ نرمی اور انکساری ہے، کیونکہ سخت دل کبھی دلوں کو فتح نہیں کرسکتے۔لیکن سیمنٹ کی حکمت یہاں ختم نہیں ہوتی۔ جب وہ اینٹوں کو جوڑ لیتی ہے تو پھر مضبوط ہو جاتی ہے۔ اگر وہ ہمیشہ نرم ہی رہے تو دیوار قائم نہ رہ سکے۔ یہی زندگی کا دوسرا اہم سبق ہے۔ تعلقات کو قائم کرنے کے لیے محبت ضروری ہے، مگر انہیں نبھانے کے لیے استقامت اور مضبوطی بھی ناگزیر ہے۔ صرف جذبات سے زندگی کا سفر طے نہیں ہوتا، بلکہ اصولوں اور وفاداری کی مضبوط بنیاد بھی درکار ہوتی ہے۔ حضرت عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرمایا 

کرتے تھے: "خلق کے ساتھ نرمی اختیار کرو اور حق کے معاملے میں مضبوط رہو۔" یہی توازن دراصل روحانیت کا حسن ہے۔ جو شخص ہر وقت نرم رہے وہ کمزور سمجھا جاتا ہے اور جو ہر وقت سخت رہے وہ تنہا رہ جاتا ہے۔ کمال یہ ہے کہ انسان کے دل میں محبت ہو، طبیعت میں شفقت ہو، مگر کردار

میں استقامت بھی ہو۔راہِ سلوک میں بھی یہی اصول کارفرما ہے۔ سالک کو ابتدا میں اپنے نفس کی سختی کو توڑنا پڑتا ہے، اپنی خواہشات کو قابو میں لانا پڑتا ہے اور اپنی انا کو پگھلانا پڑتا ہے۔ لیکن جب معرفت کی بنیاد قائم ہو جاتی ہے تو پھر اسے ثابت قدمی کی چٹان بننا پڑتا ہے۔ عشق صرف جذبے کا نام نہیں بلکہ وفا، صبر اور استقامت کا نام بھی ہے۔مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "محبت نرم کرتی ہے اور وفا مضبوط بناتی ہے۔" یہی وجہ ہے کہ محبت اور استقامت ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ محبت کے بغیر سختی جبر بن جاتی ہے اور استقامت کے بغیر محبت کمزوری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔انسان کی باطنی تعمیر بھی ایک عمارت کی مانند ہے۔ محبت اس کی اینٹ ہے، اخلاص اس کی بنیاد ہے، صبر اس کا پانی ہے اور استقامت اس کی سیمنٹ ہے۔ جب یہ تمام عناصر یکجا ہو جاتے ہیں تو ایک ایسی شخصیت وجود میں آتی ہے جو دوسروں کے لیے سایۂ رحمت بن جاتی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایک عنصر کمزور پڑ جائے تو زندگی

کی دیواروں میں دراڑیں نمودار ہونے لگتی ہیں۔حضرت بایزید بسطامی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: "سب سے بڑی عبادت کسی دل کو سکون پہنچانا ہے۔" دلوں کو سکون تبھی ملتا ہے جب انسان دوسروں کے لیے آسانی، محبت اور خیر خواہی کا ذریعہ بن جائے۔ جو دلوں کو جوڑتا ہے وہ معمار ہے اور جو دلوں کو توڑتا ہے وہ ویرانی کا سبب بنتا ہے۔سیمنٹ کی یہ خاموش نصیحت ہمیں سکھاتی ہے کہ زندگی میں صرف نرم ہونا کافی نہیں اور صرف سخت ہونا بھی کافی نہیں۔ جوڑنے کے لیے پانی جیسی نرمی چاہیے اور جوڑے رکھنے کے لیے چٹان جیسی مضبوطی۔ یہی اعتدال تصوف کا جوہر، یہی محبت کا کمال اور یہی کامیاب زندگی کا راز ہے۔ جب انسان محبت میں نرم، معاملات میں معتدل اور حق کے معاملے میں ثابت قدم ہو جاتا ہے تو اس کی شخصیت ایک ایسی مضبوط عمارت بن جاتی ہے جسے زمانے کے طوفان ہلا تو سکتے ہیں، مگر گرا نہیں سکتے۔

محمد علی شیر قادری نظامی 

سکونت:روضہ شریف 

،مہوتری نیپال 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)