اس دور میں حق گوئی — ایک کٹھن مگر ضروری راستہ
محمد نورالقمرنورانی
موجودہ زمانہ فتنوں، مصلحتوں اور مفاد پرستی کا دور بن چکا ہے۔ سچ بولنا آسان نہیں رہا اور حق بات کہنا گویا اپنے آپ کو مشکلات میں ڈالنے کے مترادف ہو گیا ہے۔ جو شخص حق کا ساتھ دیتا ہے، اسے اکثر مخالفت، تنقید اور کبھی کبھار سماجی بائیکاٹ کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ خاموشی اختیار کر لیتے ہیں یا حالات کے مطابق اپنی بات بدل لیتے ہیں۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ پڑھے لکھے افراد بھی سچائی کے بجائے چاپلوسی اور جی حضوری کو ترجیح دے رہے ہیں۔ حق کے بجائے مفاد کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ رجحان صرف دنیاوی معاملات تک محدود نہیں رہا، بلکہ دینی حلقوں میں بھی اس کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ بڑے بڑے مقررین اور خطباء، جن سے حق گوئی کی امید کی جاتی ہے، وہ بھی بعض اوقات مصلحت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں حق پر قائم رہنا اور سچ بولنا یقیناً ایک بڑی آزمائش ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ ہمیشہ وہی لوگ کامیاب ہوئے ہیں جنہوں نے حق کا دامن نہیں چھوڑا، چاہے انہیں کتنی ہی مشکلات کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑا ہو۔ حق وقتی طور پر دب سکتا ہے، مگر مٹ نہیں سکتا۔ میرے والد گرامی، فخرِ ملت حضرت علامہ مولانا نورالہدیٰ نظامی مصباحی علیہ الرحمہ جیسے عالم دین اس بات کی زندہ مثال تھے کہ ایک سچا عالم کبھی حق کہنے سے نہیں گھبراتا۔ وہ بڑے سے بڑے مقام پر فائز افراد کے سامنے بھی حق بات کہنے کا حوصلہ رکھتے تھے۔ ان کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ حق گوئی صرف ایک عادت نہیں بلکہ ایک ذمہ داری ہے۔ یہ ایک عظیم سعادت ہے کہ ہم کو ایسی جرات و بے باکی وراثت میں ملی۔ اگر کوئی شخص حق بات کی وجہ سے مخالفت کا شکار ہوتا ہے، یا اسے کسی مجلس یا گروہ سے نکال دیا جاتا ہے، تو یہ اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کے اصولوں کی مضبوطی کی علامت ہے۔ حق کا راستہ کبھی آسان نہیں ہوتا، مگر یہی راستہ انسان کو عزت اور وقار عطا کرتا ہے۔ محمد نورالقمرنورانی موبائل نمبر 9918488253
