Sep 21, 2026 09:55 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
"ندامت سے رحمت تک"

"ندامت سے رحمت تک"

20 Aug 2026
1 min read

 "ندامت سے رحمت تک"

از قلم: ام ماریہ حق (دہلی)

انسان خطا کا پتلا ہے۔ زندگی کے سفر میں کبھی قدم بہک جاتے ہیں، کبھی انسان ایسی راہوں پر چل پڑتا ہے جہاں اسے خود اپنے وجود سے شرمندگی محسوس ہونے لگتی ہے۔ کچھ گناہ وقت گزرنے کے ساتھ دھندلا جاتے ہیں، مگر کچھ غلطیاں دل پر ایسی دستک دیتی ہیں کہ انسان رات کی خاموشی میں خود سے سوال کرنے لگتا ہے: میں نے یہ کیوں کیا؟ کاش میں نے یہ نہ کیا ہوتا! یہی ندامت، اگر انسان کو اللہ سے دور کرنے کے بجائے اس کی طرف لے آئے، تو محض دکھ نہیں رہتی؛ یہ توبہ کی ابتدا بن جاتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"ندامت توبہ ہے۔"(سنن ابن ماجہ، 4252)

گناہ کے بعد دل میں پیدا ہونے والی خلش، اپنی کوتاہی پر ہونے والا افسوس اور اللہ کے سامنے جھک جانے کی خواہش ہمیشہ سزا کی علامت نہیں ہوتی۔ کبھی یہی کیفیت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رحمت بن کر دل میں اترتی ہے، تاکہ انسان غفلت کی نیند سے بیدار ہو، اپنے رب کو یاد کرے اور اس راستے پر واپس لوٹ آئے جس سے وہ بھٹک گیا تھا۔

ہم میں سے کون ہے جس سے کبھی لغزش نہ ہوئی ہو؟ کون ہے جس نے زندگی میں کوئی ایسا فیصلہ نہ کیا ہو جس پر بعد میں 

افسوس ہوا ہو؟ انسان کی کمزوری یہ نہیں کہ وہ کبھی گناہ نہیں کرتا، بلکہ اصل آزمائش یہ ہے کہ گناہ کے بعد وہ کس طرف لوٹتا ہے۔شیطان چاہتا ہے کہ انسان اپنے گناہوں کو دیکھ کر مایوس ہو جائے۔ وہ دل میں یہ خیال ڈالتا ہے کہ اب بہت دیر ہو چکی، اب واپسی ممکن نہیں، اب اللہ کی رحمت کے دروازے اس کے لیے بند ہو چکے ہیں۔ لیکن یہ مایوسی شیطان کا جال ہے۔ اللہ کی رحمت انسان کے گناہوں سے کہیں وسیع ہے۔

قرآن ہمیں امید دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے مایوس ہونے سے منع فرماتا ہے۔ جو شخص سچے دل سے پلٹ آئے، اپنی غلطی کا اعتراف کرے، اپنے رب سے معافی مانگے اور آئندہ گناہ سے بچنے کا عزم کرے، اس کے لیے واپسی کا راستہ ہمیشہ موجود ہے۔

اس لیے اگر آج آپ کا دل کسی گناہ پر نادم ہے تو اس ندامت کو اپنی کمزوری نہ سمجھیں۔ اسے اللہ کی طرف سے واپسی کی ایک پکار سمجھیں۔ اپنے رب کے سامنے جھک جائیں، خاموشی سے دعا کریں، اپنے آنسوؤں کو بہنے دیں اور دل کی وہ بات کہہ دیں جو شاید کسی انسان سے نہ کہہ سکیں۔

یاد رکھیے، توبہ صرف الفاظ کا نام نہیں؛ یہ دل کی واپسی کا نام ہے۔ یہ اُس سفر کا آغاز ہے جس میں انسان اپنے ماضی کی تاریکی سے نکل کر اللہ کی رحمت کی روشنی کی طرف بڑھتا ہے۔ آپ کی ندامت آپ کا اختتام نہیں، آپ کی نئی ابتدا ہو سکتی ہے۔ اس لیے اپنے گناہوں کو دیکھ کر اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔اپنی غلطیوں کو اپنی پہچان نہ بنائیں۔انہیں اپنی توبہ کا سبب بنائیں۔ کبھی یہ یقین نہ کریں کہ آپ کے گناہ اللہ کی رحمت سے بڑے ہیں؛ کیونکہ بندے کی خطائیں محدود ہیں، مگر اللہ کی رحمت بے حد و بے حساب ہے۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)