Sep 22, 2026 10:35 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
اردو ادب کا درخشاں ستارہ ، شاعر و صحافی محترم مقصود بستوی

اردو ادب کا درخشاں ستارہ ، شاعر و صحافی محترم مقصود بستوی

10 Sep 2026
1 min read

اردو ادب کا درخشاں ستارہ ، شاعر و صحافی محترم مقصود بستوی

از - (قاری) اخلاق احمد نظامی

، مقام و پوسٹ گلرہا مہنداول ضلع سنت کبیر نگر

ضلع بستی کی سرزمین کو قدرت نے ایک عجیب زرخیزی عطا کی ہے۔ یہاں کی مٹی میں صرف اناج ہی نہیں اگتا، یہاں تہذیب اگتی ہے، غیرت اگتی ہے، ادب اگتا ہے، اور ایسے باکمال انسان اگتے ہیں جو خود اپنی مٹی کی پہچان بن جاتے ہیں۔ ایسی ہی زرخیز مٹی کے ایک خوشبودار اور روشن پھول کا نام ہے محترم مقصود بستوی صاحب ہے۔

آپ کا اصل نام مقصود احمد انصاری اور تخلص مقصود بستوی ہے۔ آپ کا آبائی وطن مجھوا میر، ضلع بستی ہے۔ یہ نام سنتے ہی ذہن میں محنت و مشقت اور خودداری کی ایک تصویر ابھرتی ہے۔

یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ محترم مقصود بستوی صاحب کسی بڑے علمی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس اور اس سے کہیں زیادہ متاثر کن ہے۔ آپ کا گھرانہ روایتی معنوں میں علمی گھرانہ نہیں تھا، بلکہ آپ کے آباؤ اجداد پیشے سے کھیتی باڑی اور کسانیت سے وابستہ تھے۔ ہل اور زمین سے ان کا رشتہ تھا۔

مگر اسی سادہ اور محنت کش کسان گھرانے میں ایک ایسی ہستی موجود تھی جنہوں نے وقت کی رفتار کو بھانپ لیا، وہ آپ کے والدِ گرامی تھے۔ ان کی دور اندیشی، ان کی دعاؤں اور ان کی انتھک محنت نے اس بات کو ممکن بنایا کہ ان کا بیٹا ہل کی جگہ قلم تھامے۔ انہوں نے تمام تر وسائل کی کمی کے باوجود اپنے بیٹے کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کیا۔ محترم مقصود بستوی صاحب نے اپنے والد کی اس قربانی کو رائیگاں نہیں جانے دیا، اپنی ذاتی محنت، لگن، شب بیداری اور خلوص کی بدولت آج وہ مقام حاصل کیا کہ پورا ضلع بستی ان پر فخر کرتا ہے۔ یہ سفر وراثت کا نہیں، محنت اور خود سازی کا سفر ہے، اور اسی لیے نوجوان نسل کے لیے زیادہ قابلِ تقلید ہے۔

ان کی گھٹی میں اگرچہ کتابی ماحول نہیں گھولا گیا تھا، مگر مٹی کی سچائی، کسان کی خودداری اور محنت کی عظمت ضرور گھول کر پلائی گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گفتگو میں جو شائستگی، ان کے لہجے میں جو مٹھاس اور ان کی طبیعت میں جو ٹھہراؤ نظر آتا ہے، وہ آج کے بناوٹی اور افراتفری کے دور میں کمیاب ہے۔

 محترم مقصود بستوی صاحب کی شخصیت میں بڑوں کا ادب اور چھوٹوں پر شفقت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ یہ کوئی بناوٹی خوبی نہیں، بلکہ ان کی خالص دیہی تربیت اور والدین کی تربیت کا حصہ ہے۔ جب وہ اپنے سے بڑے کسی استاد شاعر یا بزرگ صحافی سے ملتے ہیں تو یوں سر جھکا لیتے ہیں جیسے ایک ادنیٰ شاگرد اپنے استاد کے سامنے ادب سے کھڑا ہو۔ اور جب کوئی نوآموز طالب علم، کوئی نیا لکھنے والا ان کے پاس آتا ہے تو وہ اسے اس طرح گلے لگاتے ہیں جیسے بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی کی حوصلہ افزائی کر رہا ہو۔ ہم جیسے عام لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے ہر وقت کوشاں رہنا ان کی فطرتِ ثانیہ ہے۔

محترم مقصود بستوی صاحب نے ادب کے دو اہم ترین میدانوں، یعنی شاعری اور صحافت، دونوں میں اپنے نام کو روشن کیا ہے۔

مشاعرے کی دنیا ایک ایسی دنیا ہے جہاں ہر لمحہ امتحان ہے۔ یہاں لفظوں کے جادوگر آتے ہیں اور سامعین کے دلوں پر راج کرتے ہیں۔ محترم مقصود بستوی صاحب نے اس دنیا میں محض قدم نہیں رکھا، بلکہ ایک نام پیدا کیا ہے۔ آپ کی شاعری میں بستی کی مٹی کی سوندھی خوشبو ہے، مجھوا میر کی شاموں کا حسن ہے، کھیتوں میں لہلہاتی فصلوں کا سچ ہے اور پوروانچل کی تہذیب کا رنگ ہے۔ آپ کی شاعری میں بناوٹ نہیں، سچائی ہے۔ آپ نے ہندوستان کے کونے کونے میں مشاعرے پڑھے ہیں۔ دہلی سے لے کر ممبئی تک، لکھنؤ، حیدرآباد، کانپور، الہ آباد اور ملک کے کئی بڑے ادبی اسٹیجوں نے آپ کی آواز کو سنا ہے اور ہر سامع نے آپ کو دل کھول کر داد دی ہے۔۔ صرف ملک ہی نہیں، بیرونِ ملک بھی جہاں جہاں اردو بولی اور سمجھی جاتی ہے، محترم مقصود بستوی صاحب نے اردو کی نمائندگی کی ہے۔ آپ کے کلام نے سرحدوں کے پار بھی دلوں کو جوڑا ہے۔

لیکن اس تمام شہرت و عزت کے پیچھے ایک بہت بڑا اصول کارفرما ہے۔ وہ اصول ہے حق گوئی اور بے باکی کا۔ مشاعرے کی دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ شاعر حضرات وقتی داد کے لیے اپنے ضمیر کا سودا کر لیتے ہیں۔ مگر محترم مقصود بستوی صاحب ان میں سے نہیں ہیں۔ انہوں نے کبھی اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا۔ انہوں نے ہمیشہ سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہا ہے۔ ان کا قلم کبھی بکا نہیں، ان کی زبان کبھی جھکی نہیں۔

یہی تو خاص ہے محترم مقصود بستوی صاحب میں کہ بکتا ہی نہیں یہ شخص بازارِ سخن میں

سودا کبھی ضمیر کا ہونے نہیں دیا

یہ راز ہے مقصود تری کامرانی کا

اگر شاعری ان کے دل کی آواز ہے تو صحافت ان کے شعور کی آواز ہے۔ محترم مقصود بستوی صاحب نے صحافت کے میدان میں بھی اپنی ایک الگ اور منفرد پہچان بنائی ہے۔ خاص طور پر ،،روزنامہ انکشاف جھانسی،،سمیت دیگر پلیٹ فارم سے آپ نے جو اردو ادب اور اردو صحافت کی خدمت کی ہے، وہ ایک سنہری باب ہے۔

روزنامہ انکشاف جھانسی صرف ایک اخبار نہیں، یہ اردو صحافت کی ایک تحریک ہے۔ اور اس تحریک میں محترم مقصود بستوی صاحب کا قلم ایک سپاہی کی طرح لڑا ہے۔ آپ نے اس پلیٹ فارم سے اردو زبان کی ترویج و اشاعت کے لیے انتھک محنت کی۔ بستی جیسے چھوٹے علاقے کی آواز کو جھانسی سے نکلنے والے اس موقر روزنامے کے ذریعے پورے ملک تک پہنچایا۔ آپ کی تحریروں میں سچائی ہوتی ہے، بے باکی ہوتی ہے اور مظلوموں کے لیے ہمدردی ہوتی ہے۔ آج کے دور میں جب صحافت کاروبار بن چکی ہے، محترم مقصود بستوی صاحب نے صحافت کو عبادت سمجھ کر کیا ہے۔ ان کی صحافت کسی دباؤ میں نہیں آتی، کسی لالچ میں نہیں بکتی۔ یہی وجہ ہے کہ قارئین ان پر بھروسہ کرتے ہیں۔ آپ کی رپورٹنگ میں زمینی حقائق ہوتے ہیں، جو ایک کسان کے بیٹے کی آنکھ ہی دیکھ سکتی ہے۔

روزنامہ انکشاف سے ہے تیری نسبت اے مقصود تو نے بخشی ہے اسے بھی اک نئی پہچان اے مقصودمحترم مقصود بستوی صاحب کی زندگی نوجوان نسل کے لیے ایک مکمل درسگاہ ہے۔ وہ اس بات کی زندہ مثال ہیں کہ انسان کا مستقبل اس کے خاندانی پس منظر سے نہیں، بلکہ اس کی اپنی نیت، اس کے والدین کی دعا اور اس کی اپنی محنت سے بنتا ہے۔ وہ ثابت کرتے ہیں کہ اگر نیت صاف ہو، ارادے نیک ہوں اور محنت میں سچائی ہو تو مجھوا میر جیسے چھوٹے سے گاؤں کے ایک کسان گھر سے نکل کر بھی انسان عالمی افق پر اپنا نام روشن کر سکتا ہے۔ آج ان کا شمار ملک کے نمائندہ شعراء میں ہوتا ہے۔

مگر اتنی بلندی پر پہنچ کر بھی محترم مقصود بستوی صاحب کے اندر ذرہ برابر تکبر نہیں آیا۔ وہ آج بھی اسی عاجزی و انکساری کے ساتھ ملتے ہیں۔ ان کی محفل میں بیٹھ کر ایسا لگتا ہی نہیں کہ ہم ایک معروف شاعر اور صحافی کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ لگتا ہے کہ ہم اپنے کسی بہت ہی قریبی اور مخلص دوست کے ساتھ بیٹھے ہیں۔

عروج پا کے بھی جھکنا یہی ہے تیرا کمال

محترم مقصود بستوی صاحب تیرا یہی ہے جمال

مجھوا میر کی گلیوں سے جو اٹھا تھا اک چراغ

باپ کی محنت سے روشن ہے آج جہانِ ادب کا چراغ آخر میں ہم بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ محترم مقصود بستوی صاحب کو صحت و سلامتی کے ساتھ دراز عمر عطا فرمائے، ان کے والدین کو اس بہترین تربیت کا اجرِ عظیم دے، ان کے قلم کو مزید قوت بخشے، ان کی زبان کو مزید تاثیر دے اور ان کا سایہ اردو ادب، اردو صحافت اور ہم سب پر تادیر قائم و دائم رکھے۔ آمین۔ بے شک محترم مقصود بستوی صاحب ضلع بستی کی آن ہیں، بان ہیں اور شان ہیں۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)