نیپال کے مدارس اسلامیہ میں انقلاب کی ضرورت: روایتی نظام سے جدید چیلنجز تک
نیپال کی نئی حکومت نے مدارس اسلامیہ کے ذمہ داران سے تمام ریکارڈ جمع کرانے اور ان کے نصاب میں سرکاری اسکولوں کا نصاب لازمی طور پر شامل کرنے کا اعلان کیا ہے، یہ فیصلہ صرف تعلیمی اصلاحات کا نام نہیں بلکہ مسلمان نوجوانوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے، ان کی سماجی انضمام کو یقینی بنانے اور ملک کی مجموعی ترقی میں ان کا فعال کردار ادا کرنے کی ایک اہم کوشش ہے۔
نیپال میں مسلمان آبادی تقریباً 14 لاکھ 83 ہزار کے قریب ہے جو کل آبادی کا تقریباً 5.09 فیصد بنتی ہے، 2082 بی ایس (2025 عیسوی) کے ریکارڈ کے مطابق نیپال میں 1060 سے زائد رجسٹرڈ مدارس ہیں جن میں ایک لاکھ سے زیادہ طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں،
غیر رجسٹرڈ مدارس کی تعداد اس سے بھی زیادہ بتائی جاتی ہے، روایتی طور پر یہ مدارس قرآن، حدیث، فقہ اور اسلامی اخلاقیات کی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھتے رہے ہیں۔ تاہم، آج کے بدلتے دور میں یہ نظام کافی نہیں رہا۔
ملک نیپال کے کونے کونے اور گلف ممالک میں کام کرنے والے نیپالی مسلمانوں کا رجحان تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے، چاہے وہ عالم دین ہوں، حافظ قرآن ہوں یا معمولی دینی تعلیم رکھنے والے، وہ اپنے بچوں کو صرف مدارس میں نہیں بھیج رہے بلکہ جدید بورڈنگ اسکولوں، انگریزی میڈیم پرائیویٹ اسکولوں اور اعلیٰ معیار کے تعلیمی اداروں میں داخل کروا رہے ہیں، اس کے لیے وہ خطیر رقم بھی خرچ کر رہے ہیں، مدارس دینیہ میں زکوۃ و صدقات بھی دے رہے ہیں،( لیکن اگر مدارس میں ہی انہیں یہ تعلیم مل جائے تو پرائیویٹ اسکول میں خطیر رقم کیوں دیں گے؟ اپنے مدارس میں ہی دیں گے)اس تبدیلی کی وجہ سادہ ہے: وہ روزمرہ زندگی میں دیکھ رہے ہیں کہ صرف دینی تعلیم پر انحصار کرنے والا نوجوان آج کے دور میں نوکری، کاروبار، سائنس، ٹیکنالوجی یا سماجی ترقی کے میدان میں کامیاب نہیں ہوپارہا ہے، وہ خود سخت محنت سے کماتے ہیں اور اسے اپنے بچوں کی عصری تعلیم پر لگا رہے ہیں تاکہ وہ ڈاکٹر، انجینئر، آئی
ٹی پروفیشنل یا کامیاب تاجر بن سکیں۔یہ رجحان مدارس والوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے، اگر مدارس تبدیل نہیں ہوئے تو والدین خود اپنے بچوں کو سرکاری، پرائیویٹ اور بورڈنگ اسکولوں کی طرف لے جاتے رہیں گے، اور ایک دن ایسا آئے گا کہ مدارس کو مجبورا بند کرنا پڑے گا، وسائل اور بچوں کی قلت کی وجہ سے، آج بھی بہت سے مدارس ہیں، جہاں بڑی بڑی بلڈنگز ہیں وسیع و عریض اراضی ہیں، لیکن بچوں کا فقدان ہیں قابل اساتذہ کا فقدان ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نیپال کے مدارس کیوں اسی پرانے نظام پر قائم رہ کر
خود کو اور اپنے طلبہ کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں؟ کیا اب تک وقت نہیں آیا کہ یہ مدارس اپنے نصاب اور تعلیمی نظام میں ایک مکمل انقلاب لا کر سرکاری اسکولوں اور پرائیویٹ بورڈنگ اسکولوں سے براہ راست مقابلہ کریں اور بہتر کارکردگی دکھائیں؟ جبکہ حکومت بھی ساتھ دینے کو تیار ہے۔
روایتی مدارس کا نظام صدیوں پرانا ہے، لیکن آج کا مسئلہ یہ ہے کہ "خالص دینی تعلیم" کا مطلب اگر صرف روایتی کتابیں پڑھانا اور عصری علوم سے مکمل الگ تھلگ رہنا ہے تو اس کا نتیجہ طلبہ کے لیے تباہ کن ثابت ہو رہا ہے، مدارس سے فارغ التحصیل نوجوان آج خود کو "ناکارہ" سمجھنے لگے ہیں، پردیس میں جاکر لیبر کی نوکری کرنے پر مجبور ہیں، سرکاری اور غیر سرکاری پروفیشنل عہدوں کے لئے فٹ نہیں بیٹھ رہے ہیں، ان کا حلیہ، لباس، طرز زندگی اور سوچ ایسا بن جاتا ہے کہ وہ معاشرے کے مین اسٹریم سے الگ تھلگ پڑ جاتے ہیں، مدارس کا سرٹیفکیٹ حکومت قبول نہیں کر رہی، انہیں اکثر "جاہل" کی کیٹیگری میں شامل کیا جا رہا ہے، سرکاری نوکریوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں، پروفیشنل کورسز یا یہاں تک کہ بنیادی ملازمتوں میں داخلے کے لیے ان کے پاس کوئی معتبر راستہ نہیں رہتا،20 سال مدارس میں گزارنے کے بعد طلبہ کے پاس نہ تو جدید مہارتیں ہیں، نہ قومی سطح پر تسلیم شدہ ڈگری، نہ ہی عملی زندگی کے لیے درکار صلاحیتیں، نتیجتاً وہ صرف مساجد
اور مدارس تک محدود رہ جاتے ہیں، اور کامیاب اور مالدار لوگوں کا گن گان کرنا انکا روزمرہ کا مشغلہ بن جاتا ہے، معاشرے کے معزز عہدوں، جیسے ڈاکٹر، انجینئر، وکیل، سرکاری افسر، تاجر، سیاستدان یا استاد سے ان کا تقریباً مکمل صفایا ہو چکا ہے، نمائندگی کہاں رہ جاتی ہے جب آپ معاشرے سے کٹ جاتے ہیں؟ آپ کی آواز قومی سطح پر کیسے سنائی دے گی؟ آپ کی کمیونٹی کی ترقی اور حقوق کی حفاظت کیسے ہوگی؟
مدارس والے سب کچھ جانتے ہوئے بھی وہی پرانی غلطیاں دہرا رہے ہیں جو برسوں سے چلی آ رہی ہیں، بار بار اسی سراخ سے ڈنستے جا رہے ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ "خالص دینی" کا مطلب صرف الگ تھلگ رہنا ہے، جبکہ اسلام خود علم کی وسعت پر زور دیتا ہے، پہلا وحی "اقرا" (پڑھ) تھا، جو صرف دینی کتابوں تک محدود نہیں بلکہ سائنس، ریاضی، فلسفہ، تاریخ اور تمام مفید علوم کو شامل کرتا ہے، اسلام نے ہمیشہ علم کو فرض قرار دیا ہے، چاہے وہ دینی ہو یا دنیوی،
اب وقت آ گیا ہے کہ تمام مدارس اپنے نصاب اور تعلیمی نظام میں ایک جامع انقلاب لائیں، وہ سرکاری اسکولوں اور پرائیویٹ بورڈنگ اسکولوں کے ساتھ مقابلہ کریں، اور صلاحیت کا لوہا منوائیں، کیونکہ مدارس کے طلباء محنت کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہتے، وہ بہترین رزلٹ دے سکتے ہیں۔
ایک ہائبرڈ یا مربوط نصاب ممکن ہے جس میں:دینی تعلیم (قرآن مجید، حدیث نبوی، فقہ، سیرت، اسلامی اخلاقیات اور عربی زبان) کو مکمل طور پر برقرار رکھا جائے (لیکن پیٹرن بدل کر) اور اسے کوئی نقصان نہ پہنچے، ساتھ ہی سرکاری نصاب کے مطابق سائنس، ریاضی، انگریزی، نیپالی زبان، سوشل سٹڈیز، کمپیوٹرسائنس، ماحولیات اور جدید مہارتیں پڑھائی جائیں، برائے نام نہیں بلکہ کامیابی کے ساتھ، تاکہ طلباء قومی سطح کے امتحانات میں نام نکال سکیں اور مدارس خاندان اور کمیونٹی کا نام روشن کرسکیں اور ملک و ملت کی خدمت کرسکیں، جدید تدریسی طریقے اپنائے جائیں: سائنس لیب، کمپیوٹر کلاسز، انگریزی میڈیم آپشن، اسپورٹس، لائبریری، extracurricular سرگرمیاں اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال۔
کچھ مدارس نے پہلے ہی اس سمت میں آغاز کیا ہے جہاں طلبہ mainstream مضامین کو اپنے مستقبل کے لیے اہم سمجھ رہے ہیں، خاص طور پر مدارس البنات میں سوشل سٹڈیز، نیپالی اور انگریزی کو مثبت دیکھا جارہا ہے، جب کہ مدارس البنين کو سبقت لے جانا چاہئے تھا، اگر تمام مدارس اس طرف بڑھیں تو وہ نہ صرف مقابلہ کر سکتے ہیں بلکہ بہتر کارکردگی بھی دکھا سکتے ہیں، کیونکہ ان میں اخلاقی اور روحانی تربیت کا اضافی عنصر موجود ہوگا جو آج کے پرائیویٹ اسکولوں میں اکثر غائب ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سب کو عالم دین بننا ضروری نہیں، کچھ طلباء عالم، امام، خطیب یا دینی مدرس بنیں، جبکہ زیادہ تر ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان، تاجر، معلم یا سرکاری ملازم بن کر ملک اور کمیونٹی کی خدمت کریں، متوازن تعلیم ہی انہیں دونوں دنیاؤں کا فائدہ دے گی۔
اگر مدارس یہ انقلاب لا سکیں تو فوائد بے شمار ہوں گے، طلبہ معاشرے سے جڑیں گے، حکومتی سہولیات، وظائف اور قومی پروگراموں سے فائدہ اٹھائیں گے، والدین کا رجحان مدارس کی طرف واپس آئے گا کیونکہ وہ دیکھیں گے کہ یہاں بھی جدید معیار کی تعلیم مل رہی ہے، مسلمان کمیونٹی کی قومی سطح پر نمائندگی بڑھے گی، سماجی ہم آہنگی بڑھے گی اور فرقہ وارانہ فاصلے کم ہوں گے، سب سے بڑھ کر، نوجوان ملک کی تعمیر و ترقی میں فعال کردار ادا کریں گے۔
خدشات بھی موجود ہیں، کچھ لوگ ڈرتے ہیں کہ سرکاری نصاب دینی شناخت کو کمزور نہ کر دے یا مدارس پر غیر ضروری کنٹرول نہ ہو جائے، ان خدشات کا حل ممکن ہے
، مدارس کے نمائندے، علماء کرام اور حکومت مل کر مشترکہ نصاب پر متفق ہوں، اور بہترین بات یہ ہے کہ حکومت نے دینی مضامین کو مکمل تحفظ دیا ہے، آپ اپنا نصاب بھی پڑھا سکتے ہیں حکومت کے نصاب کے ساتھ، لیکن پہلے کی طرح سرکاری نصاب کو نظرانداز نہیں کرسکتے اور یہ اچھی پہل ہے، اور دوسری بات شفافیت یقینی بنائی جائے اور سخت مخالفت کی بجائے فعال تعاون کا راستہ اپنایا جائے، نیپال کی حکومت کو بھی لچک دکھانی چاہیے، رجسٹریشن اور نگرانی کے ساتھ ساتھ مالی امداد، ٹیچر ٹریننگ اور انفراسٹرکچر کی سپورٹ بھی فراہم کی جائے، مدارس کو ختم کرنے کے بجائے انہیں قومی تعلیمی نظام کا فعال حصہ بنایا جائے۔
آخر میں، یہ اعلان ایک بڑا موقع ہے، مدارس والوں کو اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ الگ تھلگ رہنے سے کوئی فائدہ نہیں، اگر آپ معاشرے سے کٹے رہے تو آپ کی نمائندگی ختم ہو جائے گی، آپ کی آواز سننے والا کوئی نہیں رہے گا اور آپ کی کمیونٹی پیچھے رہ جائے گی، ملک میں رہنے والے اور گلف میں کام کرنے والے والدین کا بدلتا رجحان ایک وارننگ ہے، اسلام علم کا دین ہے، نیپال کے مدارس کو چاہیے کہ وہ پرانے نظریے کو چھوڑ کر جدید چیلنجز کا سامنا کریں، نصاب میں انقلاب لائیں، سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں سے مقابلہ کریں اور طلبہ کو دینی اقدار کے ساتھ جدید دنیا کے لیے تیار کریں۔
علماء کرام، والدین، مدارس کے ذمہ داران اور حکومت، سب کو مل کر کام کرنا ہوگا، صرف مخالفت یا روایت کی ضد نہیں، بلکہ اصلاح، تعاون اور ترقی کا راستہ اپنانا ہوگا، یہ تبدیلی نہ صرف ضروری ہے بلکہ ناگزیر بھی ہے، اگر آج اقدام نہ کیا گیا تو کل بہت دیر ہو چکی ہوگی، متوازن تعلیم ہی وہ کلید ہے جو مسلمان نوجوانوں کو ایک روشن مستقبل دے سکتی ہے، جہاں وہ اللہ کے سچے بندے بھی رہیں اور نیپال کے مفید، فعال اور کامیاب شہری بھی۔
راشد سيف اللہ
مدینہ منورہ
