*طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح ۔ اس کے اسباب و اثرات*
از قلم : محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی نائب ایڈیٹر: نیپال اردو ٹائمز بنوٹا، مہوتری، نیپال
مسلم معاشرے میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح ایک ایسا سنجیدہ اور لمحہ فکریہ مسئلہ ہے جو ہمارے خاندانی نظام کی بنیادوں کو ہلا رہا ہے۔ میاں بیوی کا رشتہ صرف دو افراد کا ملاپ نہیں ہوتا بلکہ دو خاندانوں اور ایک نئی نسل کی تعمیر کا ضامن ہوتا ہے۔ اس رشتے کا ٹوٹنا پورے معاشرتی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
معاشرے میں طلاق کی حالیہ کثرتِ واردات (بڑھتی ہوئی شرح) ایک ایسا المیہ ہے جو ہمارے مضبوط خاندانی تشخص اور اسلامی اقدار کو براہِ راست متاثر کر رہا ہے۔ اسلام میں شادی کو ایک مستحکم اور مضبوط عہد قرار دیا گیا ہے، اور طلاق کو آخری حربے کے طور پر صرف اس وقت اجازت دی گئی ہے جب نباہ کی کوئی صورت باقی نہ رہے۔
لیکن آج کے مسلم معاشرے میں یہ رشتہ معمولی سی باتوں پر ٹوٹ رہا ہے۔ اس کی گہرائی میں جائیں تو کئی مذہبی، معاشرتی اور نفسیاتی حقائق سامنے آتے ہیں۔
جب کہ اسلام میں طلاق کو ابغض المباحات ( یعنی اسلام شرع میں مباح چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ طلاق ہے) کہا گیا ہے۔
مسلم معاشرے میں طلاق کی کثرت کے خاص اسباب:
عام وجوہات جیسے معاشی مسائل یا سوشل میڈیا کے علاوہ، مسلم معاشروں میں کچھمخصوص فکری اور خاندانی تبدیلیاں آئی ہیں جو اس کثرت کا سبب بن رہی ہیں:
(۱) سوشل میڈیا و موبائیل کا بے جا استعمال :
موجودہ دور میں سوشل میڈیا جتنا فائدہ مند ہے، اس سے کہیں زیادہ مہلک اور خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ طلاق کے بڑھتے ہوئے واقعات میں موبائل اور سوشل میڈیا کا بہت بڑا دخل ہے۔ موبائل کے بے جا اور کثرتِ استعمال نے گھریلو زندگی میں بات بات پر جنگ و جدال اور نفرت کو جنم دیا ہے۔
اس کے نتیجے میں نوجوان طبقہ ذرا سی بات پر آپے سے باہر ہو کر فوری طور پر زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کر دیتا ہے۔ اس نوعیت کے متعدد معاملات ناچیز کے پاس آئے ہیں؛ سائلین کا غصہ جب ٹھنڈا ہوتا ہے تو وہ مختلف بہانے بنا کر بات پیش کرتے ہیں تاکہ رجوع کا کوئی راستہ نکل سکے، لیکن افسوس کہ تین طلاقوں کے بعد شرعاً کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہتا۔
بعض احباب موبائل کے ذریعے (پیغام یا کال پر) دی جانے والی طلاق کا حکم پوچھتے ہیں کہ اس سے طلاق واقع ہوتی ہے یا نہیں؟ اس کا جواب کتبِ فقہ میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے، اور ناچیز نے بھی حال ہی میں اس مسئلے پر ایک مدلل و مفصل فتویٰ تحریر کیا ہے۔
(۲) اسلامی تعلیمات اور حقوق و فرائض سے دوری:
آج کل شادی کے وقت صرف رسومات، جہیز اور مادی آسائشوں پر توجہ دی جاتی ہے، لیکن دونوں فریقین کو میاں بیوی کے شرعی حقوق اور فرائض کی تربیت نہیں دی جاتی۔
مرد اکثر قوام یعنی سربراہ ہونے کا غلط مطلب نکال کر تنگ نظری اور تشدد کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
دوسری طرف، عورت کو حاصل حقوق اور شوہر کے فرائض کے توازن کو سمجھے بغیر جذبات میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔
(۳) نکاح کو عارضی سمجھنا اور طلاق میں جلد بازی:
ماضی میں مسلم خاندانوں میں طلاق کو ایک بہت بڑا عیب سمجھا جاتا تھا، جس کی وجہ سے فریقین رشتہ نبھانے کی آخری حد تک کوشش کرتے تھے۔
جب کہ آج کل کے مادہ پرستانہ دور میں "معاملہ ختم کرو" کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ جذبات میں آ کر ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دے دینا یا غصے پر قابو نہ پانا یا نشے میں ڈوبے رہنا ایک عام وبا بن چکا ہے۔
(۴) خلع کے قوانین کا غلط یا بے جا استعمال:
جدید قوانین کے تحت خواتین کے لیے خلع کا حصول ماضی کے مقابلے میں آسان ہوا ہے، جو کہ مظلوم خواتین کے لیے ایک بڑی نعمت ہے۔ لیکن بعض اوقاتمعمولی نوعیت کے گھریلو جھگڑوں یا سسرالی چپقلش کی بنا پر، بغیر کسی ٹھوس شرعی وجہ کے، جذبات میں آ کر خلع کی ڈگریاں لے لی جاتی ہیں، جس سے ہنستے کھیلتے گھر اجڑ جاتے ہیں۔
(۵) مغربیت پسندی اور خاندانی اقدار کا زوال:
مغربی ثقافت کے اثرات کے باعث اب مسلم معاشروں میں بھی "انفرادی آزادی" کا تصور ابھر رہا ہے۔ جہاں قربانی، ایثار اور ایک دوسرے کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کو کمزوری سمجھا جانے لگا ہے۔
(۶) جہیز کی لعنت:
طلبِ جہیز کے ظلم و جبر اور اس کی لعنت نے ہمارے معاشرے کو شدید ترین نقصان پہنچایا ہے۔ یہ ایک طویل اور ناسور بن چکا مستقل مرض ہے، جس پر ہمارے اکابرین اور دانشوروں نے خوب لکھا ہے، لیکن ابھی تک اس میں کچھ سدھار نہیں ہو سکا ہے۔
طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح پر جہیز کا ایک نہایت منفی اثر پڑا ہے۔ تقریباً ۵۰ فیصد امیروں اور ۸۰ فیصد غریبوں میں جہیز ہی کی وجہ سے طلاقیں دی جا رہی ہیں۔ ان سب کو جہیز کے بوجھ نے تباہ و برباد کر دیا ہے۔ کبھی نکاح سے قبل ہی منہ مانگا جہیز نہ ملنے پر رشتے کو ٹھکرا دیا جاتا ہے، تو کبھی
بعدِ نکاح چند ماہ یا چند سالوں میں طلاق کی نوبت آ جاتی ہے۔
جہیز کی اس لعنت میں عوام کے ساتھ ساتھ بہت سے علماء بھی برابر کے شریک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی طبقے میں جس تیزی کے ساتھ طلاق کی شرح بڑھ رہی ہے، اسی قدر علماءبالخصوص علماء نما جہلاء (شعراء، خطباء، نقباء)اپنی عیاشی اور مکاری کی بنیاد پر طلاقیں دے رہے ہیں۔ نہ انہیں کوئی روکنے والا ہے اور نہ سمجھانے والا؛ بلکہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ بہت سے بڑے لوگ ان کی پشت پناہی کر کے طلاق کی اس شرح کو مزید فروغ دے رہے ہیں۔ اللہ کی پناہ ۔
اسلامی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تواسلام نے خاندانی نظام کو بچانے کے لیے ایک بہترین اور منظم طریقہ کار دیا ہے، جس پر عمل پیرا ہو کر ہم اس کثرت واردات کو روک سکتے ہیں۔ چند باتیں یہاں پیش کرتا ہوں، ملاحظہ فرمائیں:
قرآنی طریقۂ مصالحت وحکمت:
اللہ تعالی قرآن مجید میں واضح ہدایت دیتا ہے کہ اگر میاں بیوی میں بگاڑ کا خوف ہو تو:
’’وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَاۚ-اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَاؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا خَبِیْرًا‘‘ ۔ (سورہ النساء: آیت 35)
’’اور اگر تم کو میاں بی بی کے جھگڑے کا خوف ہو تو ایک پنچ مرد والوں کی طرف سے بھیجو اور ایک پنچ عورت والوں کی طرف سے یہ دونوں اگر صلح کرانا چاہیں گے تو اللہ ان میں میل کردے گا، بے شک اللہ جاننے والا خبردار ہے ‘‘۔
آج کل ہم اس قرآنی حکم کو بھول چکے ہیں۔ جیسے ہی جھگڑا ہوتا ہے، بات عدالت یا تھانے پہنچ جاتی ہے۔ خاندان کے بڑوں کو چاہیے کہ وہ فریق بننے کے بجائے غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کریں۔
تعلیم اور ازداجی حقوق سے بے خبری
شادی سے قبل دینی و شرعی تعلیم اور ازدواجی زندگی کے احکام و آداب سے بے خبری اکثر خاندانی رشتوں کی ناکامی کا سبب بنتی ہے۔ اگر لڑکا اور لڑکی شادی سے پہلے ایک دوسرے کے حقوق، ذمہ داریوں اور باہمی احترام کے شرعی اصولوں سے واقف ہوں، نیز رشتہ داری کو نبھانے کے لیے صبرِ جمیل کی اہمیت سے آشنا ہوں، تو معاشرے کو طلاق اور گھریلو ناچاقی جیسے مسائل سے بچایا جا سکتا ہے۔
طلاق کے شرعی طریقے پر عمل درآمد:
مسلم معاشرے میں عام طور پر غصے کی حالت میں بیک وقت تین طلاقیں دے دی جاتی ہیں، جو کہ سخت گناہ اور شرعی طریقہ کار کے خلاف ہے۔ اسلام نے طلاقِ رجعی کا طریقہ اسی لیے رکھا ہے تاکہ طلاق کے بعد بھی عدت کے دوران مرد اور عورت کو اپنے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے اور رجوع کرنے کا موقع مل سکے۔ اس شعور کو عام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
لیکن صد افسوس کہ ہماری صف کے جاہل نما بھی ایک ہی سانس میں تین طلاقیں دے دیتے ہیں، اور کم علمی و نادانی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
*معاشرے پر طلاق کے اثرات*
طلاق محض دو افراد کی علیحدگی نہیں بلکہ ایک پورا خاندانی نظام بکھرنے کا نام ہے، جس کے اثرات پورے معاشرے پر
مرتب ہوتے ہیں۔ اس کا سب سے بڑا نقصان بچوں کو پہنچتا ہے، جو شدید نفسیاتی تناؤ، احساسِ محرومی اور تعلیمی زوال کا شکار ہو جاتے ہیں۔
طلاقِ مغلظہ کے بعد، بغیر حلالہ کے ازدواجی زندگی گزارنا بدترین حرام کاری اور اللہ کی لعنت کا سبب ہے۔ صد افسوس کہ دورِ حاضر میں اس سنگین جرم میں عوام تو عوام، بعض جاہل نما علما، غیر ذمہ دار شعرا، چرب زبان خطبا اور نقبا بھی برابر کے شریک ہیں۔
معاشی اعتبار سے یہ دونوں فریقین پر بوجھ بڑھاتی ہے اور سنگل پیرنٹ کے لیے بچوں کی پرورش دشوار بنا دیتی ہے۔ مزید برآں، طلاق کی بڑھتی شرح سے خاندانی یکجہتی کمزور ہوتی ہے اور نوجوان نسل کا شادی کے رشتے پر سے اعتماد اٹھنے لگتا ہے۔ معاشرتی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ باہمی افہام و تفہیم اور کونسلنگ سے اس رجحان کو روکا جائے۔
کیوں کہ ایک صحت مند مسلم معاشرے کی بقا اور مضبوط خاندانی نظام کے لئے طلاق سے دوری ضروری ہے، اگر طلاق کا یہ رجحان اسی طرح بڑھتا رہا، تو ہماری اگلی نسلیں ذہنی و نفسیاتی طور پر مفلوج ہو جائیں گی، جس کا خمیازہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑے گا۔
اللہ ہم سب کو شریعت محمدی پہ عمل کرنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین بجاہ النبی الامین ﷺ
23/ محرم الحرام 1448ھ
09/07/2026 بروز جمعرات
