غزل
تابش ردولوی محلہ۔ پورہ بساون
پوسٹ۔ ردولی ضلع۔ ایودھیا
( یو۔ پی ) پن۔ 224120
موبائل۔ 9580228003
ایسا نہیں کہ جُھک کے اُٹھانا پڑا مجھے
ملنا تھا ، مِل گیا ہے زمانہ پڑا مجھے
بوسیدہ ہو نہ جائیں محبت کے بام و در
بچّوں کا جھوٹا جان کے کھانا پڑا مجھے
برسوں کما کے لوٹا تھا بچّوں کے واسطے
' میں کون ہوں ' یہ گھر کو بتانا پڑا مجھے
دیوار چھُو رہی تھی پڑوسی کی جھوپڑی
جلتا ہُوا چراغ بجھانا پڑا مجھے
میں جانتا ہوں یا تو مری ذمے داریاں
کتنوں کا بارِ فکر اُٹھانا پڑا مجھے
بڑھنے لگیں جو اپنوں کی بے اعتنائیاں
خود اپنی اعتنا کو جگانا پڑا مجھے
دھوکہ ضرور دے گی کسی روز زندگی
یہ جانتے ہوئے بھی نبھانا پڑا مجھے
کوئی کہے نہ مجھ کو سُخن کا فلک نشیں
یہ سوچ کر زمین پہ آنا پڑا مجھے
دیکھی ہیں جب سے اپنوں کے ماتھے پہ سلوٹیں
تابش خود اپنے قد کو گھٹانا پڑا مجھے
