Sep 21, 2026 09:54 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
ایسا نہیں کہ جُھک کے اُٹھانا پڑا مجھے

ایسا نہیں کہ جُھک کے اُٹھانا پڑا مجھے

20 Aug 2026
1 min read

غزل

 

تابش ردولوی  محلہ۔ پورہ بساون 

پوسٹ۔ ردولی ضلع۔  ایودھیا

( یو۔ پی )  پن۔ 224120

موبائل۔ 9580228003

ایسا نہیں کہ جُھک کے اُٹھانا پڑا مجھے

ملنا تھا ، مِل گیا ہے زمانہ پڑا مجھے

 

بوسیدہ ہو نہ جائیں محبت کے بام و در

بچّوں کا جھوٹا جان کے کھانا پڑا مجھے

 

برسوں کما کے لوٹا تھا بچّوں کے واسطے

' میں کون ہوں ' یہ گھر کو بتانا پڑا مجھے 

 

دیوار چھُو رہی تھی پڑوسی کی جھوپڑی 

جلتا ہُوا چراغ بجھانا پڑا مجھے 

 

میں جانتا ہوں یا تو مری ذمے داریاں

کتنوں کا بارِ فکر اُٹھانا پڑا مجھے

 

بڑھنے لگیں جو اپنوں کی بے اعتنائیاں

خود اپنی اعتنا کو جگانا پڑا مجھے 

 

دھوکہ ضرور دے گی کسی روز زندگی

یہ جانتے ہوئے بھی نبھانا پڑا مجھے 

 

کوئی کہے نہ مجھ کو سُخن کا فلک نشیں 

یہ سوچ کر زمین پہ آنا پڑا مجھے 

 

دیکھی ہیں جب سے اپنوں کے ماتھے پہ سلوٹیں 

تابش خود اپنے قد کو گھٹانا پڑا مجھے

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)