بدلتےحالات اورہماری ذمہ داریاں!
*از۔محمدتنزیل حیاتی
9631142335*
اسلام کا لہلہاتاہواشجرۂ طوبی ایسےنازک حالات میں ابھراہےجس وقت ساری دنیا میں بت پرستی کادوردورہ تھاحق وباطل کی معرکہ تاریخ انسانی کا وہ ناقابلِ فراموش واقعہ ہےجس سےکوئی بھی صاحب بصیرت انسان نظرانداز نہیں کرسکتا!دریں اثناء کہ کچھ ناعاقبت اندیش ابھی بھی ایسے ہیں جو اپنےفکروخیالات سے نابلد ہیں،خیر!اس وقت تاحدنگاہ دیکھیں کہ کیسےباطل اپنےآپ کوبچاؤکاسامان تیارکررہاہے،اورمسلم حکمراں محو خواب ہیں،بین الاقوامی اورالکٹرانک میڈیا Electronic media)کی ہمہ گیر شرکت کے تحت عالمی پیمانے پر اسلام دشمنی کی مہم جاری ہے،اسلام دشمن طاقتیں متحد ہوچکی ہےاورپوری ایٹمی ہتھیارسےلیس بھی ہیں لٹریچر(Literature)تیارہیں مگران تمام چیزوں کےباوجود دشمنان اسلام اپنی حفاظت کاازخوداہل نہیں سمجھتا،دہشت گردوں کامقصد صرف اورصرف اسلام اورمسلمانوں کی بربادی نہیں بلکہ ملیامیٹ کرنےکی ناپاک سازش ہے،قارئین یادرکھیں!جب بھی کفر والحاد اور شرک کی آندھی تیزہوجائےاورلوگ ایک دوسرےکوناپسند کرنےلگے توگویاتاریخ اپنی ماضی دہرارہی ہے، عرب وعجم میں جس طرح اسلام کی آب یاری وآب پاشی کی گئی تھی آج وہاں کےبیشتر حکمراں،عالمی ادارے اورمیڈیاکےظلم کوظلم کہنےکی اخلاقی ہمت کھوچکےہیں،آپ بتائیں کیااسلام کی حفاظت کرناہمارااساس نہیں ہے؟کیا ہماری قسمت میں رونےکےسواکچھ نہیں ہے؟ جب کہ تاریخی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ قرون اولیٰ میں مردہ دل انسان کی ایک نئی زندگی اسلام کے آغوش میں جنم لی اور اپنے اجداد پرنالاکناہوئےتب جاکردراسلام سے انسیت ہوئی،اسی طرح آج حالات بدسےبدترتوہےلیکن ماضی کی دسترس پہ جہاں لوگ گریہ کناں ہیں تووہی دامن اسلام میں فرحت و شادماں بھی ہیں،توایسےناگفتہ بہ حالات میں ہمیں یہ نتیجہ اخذ نہیں کرناچاہیئےکہ مسلم حکمراں کیاکررہےہیں؟ باطل حکمرانوں کےسامنے اپنی عظمت،شان جلالت،وجہ شوکت وحشمت اور ذریعہ فخروامتیازکےساتھ ان کامقابلہ کرے۔کیاہم بےحیاقوم بن گئےہیں؟کیاماضی میں ایسانہیں ہوا ہے؟کیاہمنےشام،عراق،فارس،سندھ،ہند،ماوراءالنہر،شمالی افریقہ،اندلس ،قسطنطنیہ ،صقلیہ کوفتح کرنےکی تاریخ کو فراموش کردیےہیں؟کیااندلس کو مینارہ نور اور تہذیبوں کا مرکز نہیں بنایا؟تاتاریوں کو جالوت میں شکست نہیں دی؟صلیبیوں کوحطین میں شکست نہیں دی ؟مراکش میں ہسپانویوں کاغرورخاک میں نہیں ملایا؟اٹلی
کوگھٹنےٹیکنےپرمجبورنہیں کیا؟چیچینیامیں روسی ریچھ کو زخمی کرنے اورگرزنی شہرکوفتح نہیں کیا؟افغانستان میں نیٹوکاناگ زمین سےنہیں رگڑوایا؟عراق سے امریکہ کوبھاگنےپرمجبورنہیں کیا؟فلسطین میں یہودیوں کی نیند حرام نہیں کیا؟جب ہمیں معلوم ہےتوآج ہم کہاں کھڑےہیں؟
یادرکھیں! حفاظت اسلام کے نعرے توبلندکیےجاتےہیں، مگرعملی پہلوؤں سے ہم خودگریزارہتےہیں، اسلام کوئی مجسمہ نہیں جس کےلیےلاؤلشکرکی ضرورت پڑےآپ اپنے اندر اسلام سمولیجیے،آپ بھی محفوظ ہوجائیں گے اوراسلام بھی محفوظ ہوجائے گا۔لیکن ہم ایساکرینگےنہیں،رکھ لیااچھاسانام اورمسلمان ہوگئےتونتیجہ ہوگاجوآج ہے ارباب اقتدار کی قربت،اورگورنمنٹ کے اشارہ پرکام کرنےوالے ناہنجارملک وملت کا شیرازہ بکھیردیا ہے، شرپسند عناصر کی خوفناک دہشت گردی کی واردات یونیورسٹی(University) کالجزز(Colleges) یامخلتلف تنظیمات (Settings) جوہمیشہ کچھ ایسےزہراگلتےہیں جس سے حقیقی مسلمان کاسینہ ہمیشہ اسلام اورمسلمانوں کی حفاظت کی خاطراپنےسرپہ کفن باندھ کر مردقلندرانہ اورخشیت الہی اورمشیت ایزدی پہ منحصر کرکےخداوندمتعال کے حضور دست دراز کیےرہتےہیں،لیکن چال بازو چال ساز منافقین اپنی شاطرانہ وعیارانہ چال میں کامیاب رہتےہیں تووہیں مسلم عسکری طاقت کی شناسائی خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے جس سے عام لوگ توکجاارباب حل وعقد پربھی گہرااثرمرتب ہوتا ہے،1300سال تک مسلمانوں کو ہردور میں غلبہ اور اقتدار حاصل رہا،اقتدارکےعلاوہ علم وفن،سائنس،معاشیات،معاشرت،اختراع
وایجادات،غرض انسانی زندگی کےہرشعبےمیں اتناغلبہ رہاکہ دنیاکی دیگر اقوام اس غلبےکوقبول کیےبغیرنہیں رہ سکیں اور تقلید بھی کرتی رہیں،انسانیت کوارتقاوترقی فلاح وبہبود کےنئےآفاق میسرآئے،سماجی اصلاحات کے دروازے کھلے،سائنسی ایجادات کے محیرالعقول کارنامےانجام دیےگئے،آج بھی دنیا کی نئی ایجادات اورترقی کی بنیاد میں اسی دورکااصل کام موجود ہے، جسےآگے بڑھاکریورپ ترقی کا دعویٰ داربنتاہے،ہمارے علمی حلقوں میں بھی شدید اختلاف،معلوم ہوتاہےتوکجامن کجاتودوسری طرف لوگ اپنےکو وزیراعظم سمجھتاہےکوئی کنسٹرکٹیوبات (Constructive) یعنی تعمیری بات چیت نہ ہی دلچسپی اور جوان امورکےخواہاں ہےان کےپاس وسائل نہیں یا اہلیت نہیں،بہرکیف!ایسے مشکل وقت میں انتشار اور افتراق کی باتیں کرناکسی بھی زاویہ سے درست نہیں لیکن یہ بھی مسلم الثبوت امرہےکہ منافقین اور شرپسندوں نے ہمیشہ مشکل وقت کاہی فائدہ اٹھایاہےایسےممکنہ صورت حال سےنبردآزماہونےکےلیےمسلم امہ کے اوپر لازم ہے کہ صراط مستقیم پر گامزن ہوں،اپنی اولاداورقریبی لوگوں کو۔قرآن وسنت کےمطابق زندگی گزارنے کی تلقین ہوں،اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑنے والے ہوں ،اورعلماءدین سےاپنےتعلق کو مضبوط کرنےوالےہوں توہی کامرانی مقدرہے،یہی نسخۂ کیمیا ہےاس کواستعمال میں لائیں۔*دعاہے کہ رب متعال ہم لوگوں کو دین حنیف وشرح متین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے ۔آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وسلم
