Sep 21, 2026 09:00 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
کامیابی کی پہلی سیڑھی والدین کی دعا

کامیابی کی پہلی سیڑھی والدین کی دعا

10 Sep 2026
1 min read

کامیابی کی پہلی سیڑھی والدین کی دعا

اسلم خان ابنِ یونس دوحہ- قطر

دنیا خفا ہو تو ہونے دو، اگر ماں باپ راضی ہیں تو بادشاہ ہو تم؛ اور اگر ماں باپ ناراض ہیں تو ریشم کے تکیے بھی سکون نہیں دیتے   -

آج میں اپنی کہانی کسی کتاب سے نہیں، اپنی زندگی سے سنانا چاہتا ہوں۔ میری زندگی میں جو کچھ بھی اچھا ہے، جو تھوڑی بہت کامیابی ملی، جو مشکل وقت میں دل مضبوط رہا، اس کے پیچھے دو ہستیاں کھڑی ہیں،میرے والدین۔

یقیناً تعلیم کامیابی کے لیے ضروری ہے، محنت ضروری ہے، ہنر ضروری ہے اور منزل تک پہنچنے کے لیے مسلسل جدوجہد بھی ضروری ہے۔ لیکن زندگی کے سفر میں ایک حقیقت میں نے بہت قریب سے محسوس کی ہے،والدین کی دعا ان سب چیزوں سے کہیں زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔

دنیا کی کامیابی ہو یا آخرت کی، والدین کی دعا انسان کے ساتھ ایسے چلتی ہے جیسے زندگی کے ساتھ سانس۔

مجھے آج بھی سب سے زیادہ خوشی اس وقت محسوس ہوتی ہے جب میں اپنے والدین کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھتا ہوں۔ یقین مانیں، اُس لمحے مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں دنیا کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کرچکا ہوں۔

میرے والد محترم انتہائی سادہ مزاج،

خاکسار، نرم دل اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔ مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے کبھی میرے ساتھ سخت ناراضی کا اظہار کیا ہو۔ لیکن اولاد چاہے کتنی ہی خوش نصیب کیوں نہ ہو، اس سے غلطیاں تو ہوتی ہی ہیں،مجھ سے بھی ہوئی ہیں، اور شاید والدین کی عظمت کا احساس بھی انسان کو ایک دم نہیں ہوتا؛ یہ احساس عمر کے ساتھ آہستہ آہستہ دل میں اترتا ہے۔

میری والدہ رسمی تعلیم سے زیادہ وابستہ نہیں رہیں۔ گھریلو زندگی کے بعض معاملات میں ہمارے درمیان سوچ کا اختلاف بھی ہوا۔ ایک مرتبہ گھر کے باہمی اختلاف کی وجہ سے میری والدہ مجھ سے کئی دن تک ناراض رہیں۔ آج بھی میرا ماننا ہے کہ اس معاملے میں میری نیت غلط نہیں تھی اور میں نے جان بوجھ کر کوئی ایسا کام نہیں کیا تھا جس سے انہیں تکلیف پہنچے۔

لیکن آج، اتنے برس بعد، میں یہ ضرور سمجھتا ہوں کہ والدین کو ناراض کردینے کے بعد اپنی صفائی پیش کرنے سے زیادہ اہم ان کے دل کو دوبارہ جیتنا ہے۔

اسی لیے اگر میری والدہ کو کبھی میری کسی بات، کسی رویے یا کسی فیصلے سے دکھ پہنچا ہو تو میں آج بھی ان کی زندگی میں ان سے معافی کا طلب گار ہوں۔

امی! اگر کبھی میری وجہ سے آپ کا دل دکھا ہو تو مجھے معاف کردیجیے گا۔

ایک اور واقعہ ہے جس کا بوجھ شاید میرے دل پر ہمیشہ رہے گا۔

نماز کی امامت کے ایک معاملے پر میری اپنے والد محترم سے کچھ ان بن ہوگئی۔ نماز کے بعد میں نے وہ بات سب کے سامنے اٹھا دی اور اپنے والد ہی کو کٹہرے میں کھڑا کردیا۔ شاید اُس وقت مجھے اپنی بات درست محسوس ہورہی تھی، شاید مجھے اپنے موقف پر بہت یقین تھا، لیکن آج جب اُس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو دل شرمندگی سے جھک جاتا ہے،مجھے یہ بات سب کے سامنے نہیں کرنی چاہیے تھی۔

والد سے اختلاف ہوسکتا تھا، اپنی بات کہی جاسکتی تھی، لیکن ان کی عزت کو سب کے سامنے مجروح کرنا کسی صورت درست نہیں تھا۔

مجھے آج بھی وہ لمحہ یاد ہے جب میرے والد کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔

وہ آنسو شاید میری زندگی کے ان چند مناظر میں سے ہیں جنہیں انسان بھولنا چاہے تو بھی نہیں بھول سکتا۔

اور آج نہ جانے کیوں میرے دل میں یہ خیال آیا ہے کہ شاید کبھی میرے والد یہ کالم پڑھیں۔

ابو! اگر یہ الفاظ آپ کی نظر سے گزریں تو میں سب کے سامنے آپ سے معافی مانگتا ہوں۔

وہ حرکت میری زندگی کے اُس دور کی تھی جب میں اسکول کی سطح پر تھا اور نادانی کی عمر میں تھا۔ اُس وقت شاید میں سمجھتا تھا کہ اپنی بات منوانا ہی درست ہونے کی علامت ہے۔ لیکن آج سمجھ آیا ہے کہ کسی بحث میں جیت جانا اور کسی اپنے کا دل جیت لینا، دونوں الگ چیزیں ہیں۔والد کے ساتھ وہ نازیبا رویہ اُس وقت ہوا تھا جب میں کم عمری اور نادانی کے دور میں تھا۔ والدہ کے ساتھ جو واقعہ ہوا، اُس وقت میں شعور اور عمر کے ایک دوسرے مرحلے میں پہنچ چکا تھا۔ لیکن دونوں واقعات کا اصل سبق مجھے بہت بعد میں سمجھ آیا،تب، جب میں خود ایک باپ بنا۔

جب پہلی مرتبہ میری اپنی اولاد نے مجھے اپنی کسی چھوٹی سی بات سے خوش کیا، جب ان کی کسی شرارت پر غصہ آیا اور پھر چند لمحوں بعد دل نے انہیں معاف کردیا، جب رات کو ان کے سونے کے بعد میں نے ان کے چہروں کو دیکھا—تب مجھے سمجھ آیا کہ والدین اولاد کے لیے کیا ہوتے ہیں۔

تب احساس ہوا کہ جن باتوں پر کبھی ہم اپنے والدین سے بحث کیا کرتے تھے، وہ شاید ان کی محبت، فکر اور تربیت کا دوسرا نام تھیں۔

انسان والدین کو صرف ان کی اولاد بن کر مکمل طور پر نہیں سمجھتا؛ کبھی کبھی اسے والدین کو سمجھنے کے لیے خود والدین بننا پڑتا ہے۔

اسی لیے آج میں یہ بات پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ والدین کی محبت کا کوئی نعم البدل نہیں،میں نے اپنے والد کو تقریباً  پچاس     برس کی عمر میں اپنے والد، یعنی میرے دادا جان کے پاؤں دباتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے،وہ منظر آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے،میرے والد اُس عمر میں بھی اپنے والد کے سامنے بیٹے ہی تھے۔

تب مجھے شاید اس منظر کی گہرائی کا اندازہ نہیں تھا، لیکن آج سمجھتا ہوں کہ 

باپ چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہوجائے، اپنے باپ کے سامنے بیٹا ہی رہتا ہے۔

اور شاید یہی رشتہ اولاد کو عاجزی سکھاتا ہے۔ہم اپنے بچوں سے چاہتے ہیں کہ وہ ہمارا احترام کریں، ہمارے بڑھاپے میں ہمارا سہارا بنیں، ہماری بات سنیں اور ہماری پریشانی سمجھیں،تو پھر ہمیں بھی اپنے والدین کے ساتھ وہی سلوک کرنا ہوگا جو ہم اپنی اولاد سے اپنے لیے چاہتے ہیں۔

قرآن کریم والدین کے بارے میں کہتا ہے کہ کہو اے میرے رب:

" ان دونوں پر رحم فرما، جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا"

کتنی خوبصورت بات ہے کہ قرآن ہمیں والدین کے سامنے اپنی بڑائی دکھانے کے بجائے عاجزی اختیار کرنے اور ان کے لیے رحمت کی دعا کرنے کا سبق دیتا ہے۔

قرآن کریم ایک اور مقام پر والدین کے بارے میں فرماتا ہے   

" ان دونوں کے لیے رحمت کے ساتھ عاجزی کا بازو جھکا دو۔"

دنیا ہمیں بڑا بننے کا سبق دیتی ہے، قرآن ہمیں والدین کے سامنے جھکنے کا سبق دیتا ہے۔

شاید والدین کے سامنے جھک جانا ہی وہ جھکنا ہے جس میں انسان حقیقت میں بلند ہوجاتا ہے   

اگر آپ نیک ہیں، صالح ہیں، اطاعت گزار ہیں اور اپنے والدین کے لیے سکون کا سبب ہیں تو آپ کامیاب ہیں۔

میں نے اپنی زندگی میں اس حقیقت کو بہت قریب سے محسوس کیا ہے۔

کئی ماہ ایسے گزرے جب میرے پاس کوئی کام نہیں تھا۔ تقریباً سات، آٹھ ماہ میں نے ملازمت نہیں کی۔ حالات آسان نہیں تھے، لیکن  اللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُآج تک اللہ نے مجھے کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے نہیں دیا۔اُس وقت میرے پاس ملازمت نہیں تھی، آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ نہیں تھا، لیکن دل میں ایک عجیب سا اطمینان تھا کہ میرا رب مجھے تنہا نہیں چھوڑے گا۔

آج جب میں اُن حالات کو یاد کرتا ہوں تو مجھے شدت سے محسوس ہوتا ہے

کہ شاید میری سب سے بڑی طاقت میرے والدین کی دعائیں تھیں 

خاص طور پر میرے والد سے جب بھی فون پر بات ہوتی ہے، وہ گفتگو کا آغاز ہی میری کامیابی اور میرے بہتر مستقبل کے لیے اللہ سے دعا کرتے ہوئے کرتے ہیں۔ ان کی زبان سے نکلنے والی وہ دعائیں میرے لیے ایسی ڈھال محسوس ہوتی ہیں جس کا اثر شاید اُس وقت مجھے دکھائی نہیں دیتا، مگر دل اسے محسوس ضرور کرتا ہے،اب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو دل کہتا ہے:

میرے پاس اُس وقت ملازمت نہیں تھی، مگر میرے پاس میرے والدین کی دعاؤں جیسی بہت بڑی دولت تھی۔

میں اپنی کسی قابلیت، تدبیر یا طاقت کو اس کا کریڈٹ نہیں دینا چاہتا۔ بس اتنا محسوس کرتا ہوں کہ میرے رب کی رحمت کے بعد میرے والدین کی دعائیں میری زندگی کا وہ خاموش سہارا رہی ہیں، جو ہر مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑی رہی ہیں

اللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ کہ میرے رب نے مجھے ایسی دولت عطا کی، جس کی کوئی قیمت نہیں اور جس کا کوئی نعم البدل نہیں،جس شخص کے لیے اس کے والد کی زبان دعا بن جائے، اسے دنیا کی مشکلات سے لڑنے کی ہمت کیوں نہ ملے؟

ہم اپنی اولاد کی کامیابی کے لیے بڑے بڑے خواب دیکھتے ہیں۔ انہیں مہنگے اسکولوں میں پڑھاتے ہیں، بہترین تعلیم دیتے ہیں، دنیا کے ہنر سکھاتے ہیں۔ لیکن ایک چیز کبھی نہیں بھولنی چاہیےبچوں کو صرف کامیاب بنانا کافی نہیں، انہیں صالح بنانا ضروری ہے۔

انہیں دین کی تعلیم دیں، اچھے اور برے کی تمیز سکھائیں، والدین کا احترام

سکھائیں اور انسانیت سے محبت سکھائیں، اور سب سے بڑھ کر انہیں اپنے عمل سے دکھائیں کہ والدین کی خدمت کیا ہوتی ہے۔

کیونکہ اولاد کو والدین کی عزت پر تقریر سنانے سے زیادہ مؤثر یہ ہے کہ وہ اپنے والدین کو اپنے والدین کی عزت کرتے ہوئے دیکھے۔

میں آج اپنے والدین سے صرف معافی نہیں مانگ رہا، بلکہ ان کے سامنے اپنے دل کی ایک حقیقت بھی رکھ رہا ہوں:

میرے والدین! میں نے شاید آپ کو ہمیشہ وہ عزت، وہ سکون اور وہ اطمینان نہیں دیا جس کے آپ مستحق تھے۔

کبھی میری زبان سے، کبھی میرے رویے سے، کبھی میری ضد سے، کبھی میری نادانی سے آپ کا دل دکھا ہو تو آج میں اپنی تمام غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے آپ دونوں سے معافی مانگتا ہوں۔ آپ دونوں کی دعاؤں کے بغیر میری کامیابی میرے لیے ادھوری ہے۔اور اگر کبھی مجھے زندگی میں کوئی مقام ملے، کوئی عزت ملے، کوئی کامیابی 

ملے، تو میں یہ نہیں بھولنا چاہتا کہ اس کامیابی کے پیچھے میری محنت سے پہلے میرے والدین کی دعائیں تھیں۔

آخر میں اپنے بچوں سے بھی یہی کہنا چاہتا ہوں: اپنے والدین کو صرف اُس وقت یاد نہ کریں جب آپ کو ان کی ضرورت ہو۔

ان کے پاس بیٹھیں،ان کی بات سنیں۔

ان سے اختلاف ہو تو بھی لہجہ نہ بدلیں۔

ان کی خدمت کو بوجھ نہیں، سعادت سمجھیں،اور اگر آپ کے والدین آج بھی زندہ ہیں تو یقین کیجیے، آپ کے پاس دنیا کی سب سے قیمتی نعمتوں میں سے ایک موجود ہے۔

ان کے ہاتھ چوم لیجیے، ان کے پاس بیٹھ جائیے، ان سے دعائیں لے لیجیے کیونکہ ایک دن یہی ہاتھ نہیں ہوں گے، یہی آواز نہیں ہوگی، یہی چہرہ آپ کو دروازے پر انتظار کرتا ہوا نظر نہیں آئے گا

پھر شاید آپ کے پاس صرف یادیں ہوں گی، اور دل میں ایک سوال

کاش! میں نے اُس وقت ان سے ایک بار اور بات کرلی ہوتی۔

اس لیے آج ہی والدین کو خوش کرلیجیے۔ ان سے معافی مانگنے میں دیر نہ کیجیے۔ ان کی دعائیں لے لیجیے۔

کیونکہ دنیا کی کامیابی شاید انسان کے نام کے ساتھ لکھی جاتی ہے، مگر والدین کی دعا انسان کی زندگی کے راستے روشن کرنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔

اور میرے نزدیک کامیابی کی پہلی سیڑھی یہی ہے

اے اللہ

میرے والدین کو سلامت رکھ، ان کی ہر تکلیف کو دور فرما، اور مجھے ایسی اولاد بنا دے جس سے میرے والدین کی آنکھوں کو ٹھنڈک اور دل کو سکون ملے۔آمین یا رب العالمین۔

اسلم خان ابنِ یونس

دوحہ- قطر

 

 

 

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)