Feb 22, 2026 10:58 PM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
نفرت کے اندھیروں میں انسانیت کا دیپک اور محبت کی و جئے

نفرت کے اندھیروں میں انسانیت کا دیپک اور محبت کی و جئے

05 Feb 2026
1 min read

نفرت کے اندھیروں میں انسانیت کا دیپک اور محبت کی و جئے

از قلم: یوسف شمسی

---------------------------

گزشتہ کئی برسوں سے ہندوستانی معاشرہ جس ذہنی، فکری اور سماجی ماحول میں سانس لے رہا ہے، وہ نہ صرف افسوس ناک ہے بلکہ سنجیدہ اصلاح کا متقاضی بھی۔ نفرت کو اس طرح عام اور جائز بنا دیا گیا ہے کہ اب وہ محض گلی کوچوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ اقتدار کے ایوانوں اور آئینی مناصب تک رسائی حاصل کر چکی ہے۔ جب بلند عہدوں پر بیٹھے افراد تعصب اور اشتعال کی زبان اختیار کرتے ہیں تو ان کے پیروکاروں کو دلیل، مکالمہ یا آئینی قدروں کی پاسداری کے بجائے صرف نفرت اور زہر افشانی ہی وراثت میں ملتی ہے۔

کبھی کسی ایک فرد کو دانستہ طور پر ریاستی نظم و نسق کے لیے خطرہ قرار دے کر اس کی کردار کشی کی جاتی ہے، تو کبھی ملک بدر کرنے جیسی دھمکیوں کے ذریعے سماج میں خوف اور عدم تحفظ کا احساس پیدا کیا جاتا ہے۔ حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ دن کا آغاز کھلے عام گالیوں، طعن و تشنیع اور اشتعال انگیز نعروں سے ہوتا ہے، جبکہ حکومتی اداروں اور عدالتی نظام کی طویل خاموشی جمہوری اقدار کے لیے ایک سنگین سوال بن کر سامنے آ رہی ہے۔

ایسے زہریلے ماحول میں اگر کوئی شخص انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرے، مظلوم کے ساتھ  کھڑا ہو اور اپنے ضمیر کے تقاضے پر عمل کرے، تو وہ خود بھی نشانے پر آ جاتا ہے۔ طاقتور طبقہ اور اس کے منظم گروہ فوراً حرکت میں آ جاتے ہیں تاکہ یہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ خاموش رہنا ہی سلامتی کی ضمانت ہے۔ 26 جنوری کو اتراکھنڈ میں پیش آنے والا واقعہ اسی سوچ اور اسی ذہنیت کی ایک واضح مثال ہے۔

 

یومِ جمہوریہ کے موقع پر بجرنگ دل سے وابستہ عناصر نے ایک مسلم بزرگ کی دکان پر دھاوا بول دیا۔ دکان کے نام کو جواز بنا کر بدتمیزی، دھونس اور تشدد کا ماحول قائم کیا گیا۔ یہ سب کچھ سرِعام ہو رہا تھا، مگر ہجوم کو روکنے والا کوئی نظر نہیں آ رہا تھا۔ اسی دوران ایک غیر متوقع مگر فیصلہ کن موڑ آیا۔

دیپک نامی ایک نوجوان، جو ہندو طبقے سے تعلق رکھتا ہے، ہجوم کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس کی مداخلت میں نہ کوئی نعرہ بازی تھی، نہ جذباتی شعلہ بیانی اور نہ ہی کسی قسم کی اشتعال انگیزی۔ اس نے صرف اتنا سوال اٹھایا کہ آخر کس قانون اور کس اختیار کے تحت یہ لوگ خود کو منصف اور جلاد سمجھ بیٹھے ہیں۔ جب ہجوم نے اس سے اس کی شناخت پوچھی تو اس نے پُرسکون لہجے میں کہا:

“میرا نام محمد دیپک ہے۔”

یہ چند الفاظ کسی وقتی جوش کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ اس نظریے پر ایک گہری اور علامتی ضرب تھے جو نام، زبان اور شناخت کو مذہبی سرحدوں میں قید کرنا چاہتا ہے۔ دیپک نے نہ اپنا مذہب بدلا، نہ کسی شناخت سے انکار کیا، 

بلکہ اس سادہ اعلان کے ذریعے یہ واضح کر دیا کہ اس ملک میں انسان کی پہچان کسی ہجوم کے حکم سے متعین نہیں ہو سکتی۔

لیکن بدقسمتی سے ہمارے سماج میں یہ کوئی نیا منظر نہیں کہ ظلم کے سامنے کھڑے ہونے والے کو ہی ملزم بنا دیا جائے۔ یہ وہی پرانا طریقۂ کار ہے جس میں جارح اور مزاحمت کرنے والے کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا جاتا ہے، تاکہ اصل مجرم پردے میں چھپا رہے۔ اس طرزِ عمل کا مقصد واضح ہے: اگر تم نے اقلیت کے ساتھ کھڑے ہونے کی جرأت کی، تو قانون کی گرفت تم تک بھی پہنچے گی۔

دیپک کو بھی سچ بولنے کی قیمت فوری طور پر ادا کرنی پڑی۔ اس کے گھر اور جم کے باہر ہجوم جمع ہوا، دھمکیاں دی گئیں، نعرے لگائے گئے اور دباؤ بڑھایا گیا۔ بالآخر بجرنگ دل کی شکایت پر پولیس نے دیپک کارکی المعروف محمد دیپک کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی۔ پولیس کے مطابق ان پر امنِ عامہ اور نظم و نسق سے متعلق دفعات عائد کی گئی ہیں، جو فی الحال ضمانتی بتائی جا رہی ہیں۔

یہ پیش رفت اس معاملے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے، کیونکہ جس نوجوان نے ایک ممکنہ بڑے تشدد کو روکنے میں کردار ادا کیا، آج وہی قانون کی نظر میں کٹہرے میں کھڑا ہے۔ سوال محض دکان کے نام کا نہیں، بلکہ اس ذہنیت کا ہے جو انسانیت کے ساتھ کھڑے ہونے کو جرم سمجھنے لگی ہے۔

اگر آج دیپک ملزم ہے تو کل ہر وہ شہری خطرے میں ہوگا جو نفرت کے شور میں انسانیت کی بات کرے گا۔ یہ معاملہ صرف ایک ایف آئی آر تک محدود نہیں، بلکہ یہ اس ملک کے جمہوری ضمیر، آئینی قدروں اور سماجی انصاف کے تصور کا امتحان ہے۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم ہجوم کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا انسان کے ساتھ۔

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نظامی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز 8795979383