Aug 7, 2026 06:04 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
مردہ رشتے

مردہ رشتے

02 Jul 2026
1 min read

مردہ رشتے

آفتاب عالم ؔ شاہ نوری 

کروشی بلگام کرناٹک

8105493349

شام آہستہ آہستہ ڈھل رہی تھی۔ مغرب کی سرخی آسمان کے کناروں پر یوں پھیل گئی تھی جیسے کسی مصور نے افق پر نارنجی اور سرخ رنگ بکھیر دیے ہوں۔ پرندوں کے جھنڈ اپنے گھونسلوں کی طرف لوٹ رہے تھے۔ بازاروں کی رونق مدھم ہونے لگی تھی اور دن بھر کی محنت اور مشقت سے تھکے ہوئے لوگ اپنے کندھوں پر تھکن کا بوجھ اٹھائے گھروں کو جا رہے تھے۔ کہیں مزدور اپنے اوزار سمیٹ رہے تھے، کہیں سرکاری ملازمین اور اساتذہ بس اسٹاپوں پر کھڑے جلد از جلد گھر پہنچنے کے منتظر تھے۔انہی لوگوں کے درمیان ناہدہ بھی بس اسٹاپ پر کھڑی تھی۔ وہ ایک سرکاری اسکول میں معلمہ تھی۔ ستواں ناک، چوڑی پیشانی، گورا رنگ، درمیانہ قد اور چہرے پر ایک عجیب سی سنجیدگی اور وقار۔ اس کی شخصیت میں ایک ایسی کشش تھی جو دیکھنے والے کو بے اختیار متوجہ کر لیتی تھی۔بسیں وقفے وقفے سے آ رہی تھیں، مگر نہ جانے لوگ کہاں سے امڈ پڑتے کہ چند لمحوں میں بس مسافروں سے کھچا کھچ بھر جاتی۔ ناہدہ تین مرتبہ بس میں سوار ہونے کی کوشش کر چکی تھی مگر ہر بار ناکام رہی۔بس اسٹاپ کے قریب کھڑا ندیم یہ سب دیکھ رہا تھا۔ وہ ناہدہ کے اسکول کے نزدیک واقع ایک دوسرے سرکاری اسکول میں استاد تھا اور اتفاق سے اسی محلے میں رہتا تھا جہاں ناہدہ کا گھر تھا۔

وہ اپنی موٹر سائیکل ناہدہ کے قریب لے آیا۔

"میڈم! اگر آپ اجازت دیں تو میں آپ کو گھر چھوڑ دیتا ہوں۔ آج شہر کے بازار کا دن ہے، اس لیے ہر بس اسی طرح بھری ہوئی آئے گی۔ پھر رات ہونے والی ہے اور اس کے بعد آنے والی بسوں میں اکثر نشے میں دھت لوگ ہوتے ہیں۔ براہِ کرم میرے ساتھ چلیں، میں آپ کو بحفاظت گھر پہنچا دوں گا۔"

ناہدہ کچھ دیر خاموش رہی۔ وہ ایک باوقار اور محتاط مزاج خاتون تھی، مگر حالات نے اسے مجبور کر دیا تھا۔ آخرکار وہ موٹر سائیکل پر بیٹھ گئی۔ اس نے

اپنے اور ندیم کے درمیان اپنا بیگ رکھ لیا تاکہ مناسب فاصلہ برقرار رہے۔

تقریباً پندرہ کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد وہ شہر پہنچے۔ چند گلیاں عبور کرنے کے بعد ناہدہ نے کہا:

"گاڑی یہیں روک دیجیے۔"

ندیم نے حیرت سے پوچھا:

"مگر آپ کا گھر تو ابھی آگے ہے!"

ناہدہ نے دھیمے لہجے میں جواب دیا:

"مجھے یہاں کچھ کام ہے، میں بعد میں گھر چلی جاؤں گی۔"

درحقیقت وہ نہیں چاہتی تھی کہ محلے والے اسے کسی غیر مرد کے ساتھ دیکھ کر طرح طرح کی باتیں بنائیں۔

ندیم نے موٹر سائیکل روک دی۔ ناہدہ اتر کر آہستہ آہستہ اپنے گھر کی طرف چل پڑی، مگر اس دن کے بعد سے نہ جانے کیوں ندیم کے دل میں اس کے لیے محبت پیدا ہو گئی ۔

چند ماہ بعد ندیم نے اپنے والدین سے ناہدہ کے گھر رشتہ بھیجنے کی خواہش ظاہر کی۔ ناہدہ کے گھر والوں نے بھی اس رشتے کو پسند کیا۔ دونوں تعلیم یافتہ تھے، ایک ہی پیشے سے وابستہ تھے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

جب ناہدہ سے اس کی رائے پوچھی گئی تو اس نے سر جھکاتے ہوئے صرف اتنا کہا:

"آپ لوگوں کی جو مرضی ہو، مجھے قبول ہے۔"

چنانچہ دونوں کی شادی بڑی دھوم دھام سے انجام پائی۔

ابتدائی چند برس محبت اور خوشیوں میں گزر گئے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی عطا فرمائے۔ بیٹے کا نام فرحان اور بیٹی کا نام عظمیٰ رکھا گیا۔

زندگی اپنی رفتار سے چل رہی تھی کہ اچانک ندیم کے تبادلے کا حکم آ گیا۔ اسے دوسرے شہر جانا پڑا۔یہ دوری ان کے تعلقات میں پہلی دراڑ ثابت ہوئی۔ندیم ویسے بھی غصیلا مزاج رکھتا تھا، مگر اب اس کے اندر چڑچڑا پن اور بد مزاجی مزید بڑھنے لگی۔ ابتدا میں وہ ہر ہفتے گھر آتا، مگر جب بھی آتا، لڑائی جھگڑا کر کے واپس چلا جاتا۔ناہدہ صبر کرتی

 

رہی۔ وہ ہر بار بگڑتے حالات کو سنبھالنے کی کوشش کرتی، مگر پانی سر سے گزرنے لگا تھا۔اسی دوران اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک اور بیٹی سے نوازا۔ ناہدہ کو امید تھی کہ شاید اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، مگر ایسا نہ ہو سکا۔ندیم پہلے سے زیادہ سخت مزاج اور بے رحم ہو گیا۔ایک دن اس نے ناہدہ اور بچوں کو اپنے ہی گھر سے نکال دیا اور وہ مکان کرائے پر اپنے بھائی کے حوالے کر دیا۔

یہ ناہدہ کی زندگی کا سب سے کڑا امتحان تھا۔اس نے ہمت نہیں ہاری۔ تھوڑی تھوڑی رقم جمع کر کے اسی محلے میں اپنے لیے ایک چھوٹا سا گھر تعمیر کیا۔بچے بھی باپ کے رویے سے اندر ہی اندر ٹوٹ چکے تھے۔ ان کے دلوں میں باپ کے لیے محبت کی جگہ نفرت نے لینا شروع کر دیا تھا۔جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، ندیم کے غصے میں اضافہ ہوتا گیا اور بچوں کی نفرت بھی گہری ہوتی گئی۔وہ کبھی کبھار اپنے بھائی سے ملنے کے بہانے شہر آتا، چند دن ٹھہرتا اور واپس چلا جاتا۔اکثر مسجد میں نماز کے دوران اس کی نظر فرحان پر پڑتی، مگر وہ یوں منہ پھیر لیتا جیسے اسے جانتا ہی نہ ہو۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ناہدہ کے چہرے پر کمزوری اور تھکن کے آثار نمایاں ہونے لگے۔پھر ایک دن زندگی نے اسے ایک اور آزمائش سے دوچار کر دیا۔وہ روز کی طرح اسکول جا رہی تھی۔ جس ٹیمپو میں وہ سوار تھی، وہ ایک خوفناک حادثے کا شکار ہو گیا۔کئی لوگ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ناہدہ زندہ تو بچ گئی، مگر اس کی دائیں ٹانگ کی کئی ہڈیاں ٹوٹ گئیں اور جسم کے مختلف حصوں پر شدید زخم آئے۔اسے شہر کے ایک بڑے ہسپتال میں داخل کیا گیا۔ڈاکٹروں نے مکمل ایک سال کے آرام کا مشورہ دیا۔یہ ایک سال ناہدہ کے لیے قیامت سے کم نہ تھا۔

اس پورے عرصے میں ندیم نہ ایک بار اسے دیکھنے آیا اور نہ ہی اپنے بچوں کی خبر لی۔بچوں نے اپنی ماں کی بھرپور خدمت کی۔وقت بہترین مرہم ہوتا ہے۔آہستہ آہستہ ناہدہ کی طبیعت سنبھلنے لگی، مگر اب وہ سہارے کے بغیر چل نہیں سکتی تھی۔وہ دوبارہ اسکول جانے لگی اور تدریس کے فرائض بھی انجام دینے لگی۔اس تمام مصیبت کے باوجود اس نے بچوں کی تعلیم پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔فرحان انجینئر بن گیا اور عظمیٰ نے گریجویشن مکمل کر لی۔چند برس بعد عظمیٰ کے لیے ایک اچھا رشتہ آیا اور باہمی مشورے سے بات طے ہو گئی۔

یہ خبر جب ندیم تک پہنچی تو اس کے اندر کا سویا ہواباپ جاگ اٹھا۔وہ دوڑا دوڑا ناہدہ کے گھر پہنچا۔

"میں واپس آنا چاہتا ہوں،" اس نے کہا۔

ناہدہ نے اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں برسوں کی اذیت، تنہائی اور بے بسی سمٹی ہوئی تھی۔

اس نے کوئی جواب نہ دیا۔

فرحان آگے بڑھا اور بولا:

"آپ کو اب ہماری زندگی میں آنے کا کوئی حق نہیں۔ جب ہمیں آپ کی ضرورت تھی، آپ کہیں نہیں تھے۔ اگر آپ دوبارہ یہاں آئے تو ہم یہ شہر چھوڑ دیں گے۔"

محلے کے بزرگوں نے بھی ندیم کو سمجھایا:

"تم نے اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ اب ان کی زندگی میں مداخلت نہ کرو۔"

ندیم خاموشی سے چلا گیا۔

چند ماہ بعد عظمیٰ کی شادی بڑی دھوم دھام سے انجام پائی۔

کئی مہینوں بعد ایک دن ندیم اپنے بھائی سے ملنے آیا۔

واپسی سے پہلے وہ ایک چوراہے پر بیٹھا چائے پی رہا تھا کہ اچانک اس کے سینے میں شدید درد اٹھا۔

چائے کا کپ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گر گیا۔

چند لمحوں میں وہ کرسی سے نیچے آ گرا۔

لوگ دوڑ پڑے، مگر زندگی اس کا ساتھ چھوڑ چکی تھی۔

اتفاق سے فرحان بھی اسی راستے سے گزر رہا تھا۔

ہجوم دیکھ کر وہ قریب آیا۔

لوگوں کو ہٹایا تو دیکھا، زمین پر اس کے باپ کی بے جان لاش پڑی تھی۔وہ چند لمحے خاموش کھڑا رہا۔پھر آہستہ آہستہ گھر کی طرف چل پڑا۔گھر پہنچ کر اس نے ماں کو ساری بات بتائی۔

ناہدہ نے کچھ دیر سر جھکائے رکھا، پھر ایک گہری سانس لی اور کھڑکی سے باہر ڈوبتے سورج کو دیکھتے ہوئے بولی:

"بیٹا! تمہارے باپ کی موت آج نہیں ہوئی۔ وہ تو اس دن مر گیا تھا جب اس نے اپنی اولاد سے رشتہ توڑ لیا تھا، جب اس نے بیماری میں میری خبر تک نہ لی تھی، اور جب اس نے ہمارے دلوں سے اپنا مقام کھو دیا تھا۔ آج صرف اس کا جسم مرا ہے، رشتہ تو برسوں پہلے مر چکا تھا۔"

یہ کہہ کر اس کی آنکھوں سے دو آنسو ڈھلک پڑے۔باہر سورج غروب ہو چکا تھا، اور ایک مردہ رشتے کی کہانی بھی اپنے انجام کو پہنچ چکی تھی۔

 

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)