دارین میں وسیلہ نجات
مفتی نعمان روحانی ہلے شاہ روحانی خانقاه سفینۃ الاسلام بگی شریف، ضلع رامپور، یوپی، الهند.
راہِ سلوک وہ راہ ہے جس پر چلنے والا عشقِ الٰہی، معرفت، اور قربِ خداوندی کے اسرار سے بہرہ مند ہوتا ہے۔ یہ راستہ پُرخطر بھی ہے اور بےحد لطیف بھی۔ اگر اس راہ میں رہبر نہ ہو، تو طالب صادق اندھیروں میں بھٹک جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرشدِ کامل کی صحبت و رہنمائی کو تصوف میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔
مرشد کامل اُس کشتی بان کی مانند ہوتا ہے جو طوفانی سمندر میں بیٹھے طالب کو ساحلِ مقصود تک پہنچاتا ہے۔ بغیر مرشد کے راہِ سلوک طے کرنا ایسا ہی ہے جیسے اندھیرے میں سفر کرنا۔
قال الله تعالى :
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی جانب وسیلہ اختیار کرو اور اس کی راہمیں مجاہدہ کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ
وقال تعالى :
مَن يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُ وَلِيًّا مُّرْشِدًا
جس کو اللہ ہدایت دے وہ ہدایت یافتہ اور جس کو وہ گمراہ کردے تو تم اس لیے کوئی مددگار رہنمائی کرنے والا نہ پاؤگے "من لا شیخ لہ، فشیخہ الشیطان" جس کا کوئی شیخ (مرشد) نہیں، اس کا شیخ شیطان ہے۔
ہمارے پیرومرشد عشقی رامپوری سرکار کیا خوب ارشاد فرماتے ہیں :
اپنے قدموں سے شرابی کو ھدایت دے دیں
دست درویش کوجنت کی ضمانت کہیئے
شرط اول ہے محمد ﷺ کی غلامی عشقی
ورنہ درویشی نہیں اسکو رذالت کہیئے
جس طرح جسمانی بیماری کے لیے طبیب کی ضرورت ہے، اسی طرح روحانی بیماریوں جیسے کبر، حسد، ریا، نفس پرستی کے علاج کے لیے مرشدکی صحبت ضروری ہے۔ وہ طالب کی خامیوں کو پہچان کر اصلاح کرتا ہے۔
مرشد کامل کی صحبت سے دل میں یقین کا نور پیدا ہوتا ہے، جو صرف کتابوں یا اذکار سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ اس نور سے ایمان، عرفان اور خشیت میں اضافہ ہوتا ہے۔
مرشد ایک آئینہ ہے جس میں طالب اپنے نفس کو دیکھتا ہے، اور وہ ایک دروازہ ہے جو اللہ کی طرف کھلتا ہے۔
مرشد کی صحبت عاشق بناتی ہے۔ اس کی نگاہِ فیض سے دل میں محبت کی وہ چنگاری سلگتی ہے جو طالب کو فنا فی اللہ کی منزلوں کی طرف کھینچتی ہے۔
ع
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
ـــ علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ
اور ہمارے مرشد کریم سلطان قلبم
کچھ اس طرح لب کشا ہوئے کہ:
عشق میں یونہی نہی جلتا دل
کسی کامل کی نظر ہوتی ہے
مرشد کے تقاضے و شرائط:
١- علمِ شریعت میں رسوخ:
مرشد کا علم صرف باطن تک محدود نہیں، بلکہ ظاہر میں بھی وہ شریعتِ محمدی ﷺ کا کامل عالم ہو۔ اگر مرشد شریعت سے غافل ہو، تو وہ خود گمراہ اور دوسروں کو بھی گمراہ کرے گا۔
٢-سنتِ نبوی ﷺ کا پیکر:
مرشد کی زندگی سنتِ رسول ﷺ کا آئینہ ہو۔ وہ نماز، روزہ، اخلاق، لباس، گفتار، معاملات—ہر پہلو سے سنت کی پابندی کرتا ہو۔
٣-سلوک کی راہوں سے گزرا ہو:
ایسا شخص جو خود مجاہدات و مجربات سے نہ گزرا ہو، وہ دوسروں کی راہنمائیکا اہل نہیں۔ مرشد کو خود فنا و بقا کی کیفیات کا تجربہ ہونا چاہیے۔
٤- اجازت و خلافت یافتہ ہو:
مرشد کو کسی کامل شیخ سے سند یافتہ خلافت حاصل ہو۔ یہ روحانی اجازت اس بات کی علامت ہے کہ وہ اللہ کے امانت دار ہیں۔
٥-دنیا سے بے رغبت ہو:
مرشد دنیا کے مال، شہرت اور تعظیم کا خواہاں نہ ہو۔ اس کی نظر صرف اللہ اور اس کے مقبول بندوں کی رضا پر ہو۔
٦- اخلاقِ حسنہ کا پیکر:
مرشد میں حلم، صبر، تواضع، محبت، شفقت، درگزر اور حسنِ خلق ہونا لازم ہے۔ اس کا دل طالب کی اصلاح کے لیے سراپا دعا و دلسوز ہو۔
چاند جھک جا تا جدھر انگلی اٹھاتے مہد میں٧- جذب و عقل کا توازن:
کچھ لوگ مجذوب ہوتے ہیں، جو خود بھی بے خودی میں رہتے ہیں اور رہنمائی کے اہل نہیں ہوتے۔ مرشد کامل مجذوب ہونے کے ساتھ ساتھ صاحبِ عقل و شعور بھی ہو۔
٨-خالص نیت اور للّٰہیت:
مرشد کا مقصد صرف اللہ کی رضا ہو، نہ کہ مریدین کی کثرت، دولت کی فراوانی، یا ناموری۔ اس کی ہر بات اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہو۔
٩-مرشد کا صاحب نظر ہونا :
ہمارے پیرو مرشد سرکار اور سلف صالحین کی تعلیمات کے مطابق مرشد کا صاحب نظر ہونا اشد ضروری کیونکہ اگر مرشد صاحب نظر نہیں ہوگا تو مرید کی خبر گیری کیسے ہوگی اور مدد کو کب پہونچے گا؟
اگر کوئی ناقص شخص خود کو مرشد کہنے لگے اور لوگ اس کے پیچھے چلنے لگیں، تو اس کے اثرات تباہ کن ہو سکتے ہیں:
بدعت و گمراہی میں پھنسنا
شیطانی وارداتوں کو الہام سمجھنا
روحانی تکبر میں مبتلا ہو جانادنیا و آخرت کا خسارہ گناہوں میں ملوث ہونانئی نئی باتیں گھڑلینا اپنی واہ واہی کے لیے مریدوں کا مستقبل برباد کرنا ،مرشد کامل کی صحبت کے ثمرات: دل کی صفائی اور نورانیت
ذکر اللہ میں لذت، نیتوں کی اخلاص کی طرف اصلاح،خواب و کشف میں توازن
روحانی سکون اور قربِ الٰہی،عشق مصطفی ﷺ کا حصول،علم لدنی سے بہرہ وری
علوم ظاہری کی تکمیل اور علوم باطنی میں غوطہ زنی ،مرشد کامل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عطیہ اور کرم ہوتا ہے۔ جسے یہ نعمت مل جائے، اسے چاہیے کہ اس کی قدر کرے، اطاعت کرے، اور اس کی دعاؤں میں ہمیشہ شامل رہے۔
"مرشد کی ایک نظر دل نواز پڑ جائے، تو ایک لمحے میں صدیوں کی راہ طے ہو جاتی ہے۔"
گل عشقی جامعہ قطبیہ روحانیہ،
بگی شریف، ضلع رامپور، یوپی، الهند.
