’مدرسہ پالیسی میں تبدیلی‘ نظریاتی پسپائی یا عملی سیاست کی جیت؟
(حافظ)افتخاراحمدقادری
ہندوستان کی سیاست اپنے مزاج میں ہمیشہ یک رُخ نہیں رہی بلکہ یہ ایک ایسا پیچیدہ اور کثیر الجہت منظرنامہ ہے جہاں نظریات و مفادات، دباؤ اور عوامی ردِعمل باہم گتھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ خصوصاً اتر پردیش جیسی وسیع و عریض ریاست میں جہاں ہر فیصلہ محض انتظامی اقدام نہیں بلکہ ایک وسیع تر سیاسی پیغام کا حامل ہوتا ہے وہاں حکومت کے کسی بھی قدم کو سطحی نگاہ سے دیکھنا فکری ناانصافی کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں مدرسہ اساتذہ کے تعلق سے لیا گیا فیصلہ ایک فلاحی اقدام نہیں بلکہ ایک گہری سیاسی معنویت اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جو بدلتے ہوئے بیانیے، سماجی دباؤ اور حکومتی ترجیحات کے درمیان ایک نئی توازن سازی کی کوشش کو ظاہر کرتا ہے۔ اتر پردیش کی حکومت جس کی قیادت وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کر رہے ہیں ماضی قریب میں اپنی سخت گیر پالیسیوں اور بالخصوص اقلیتی اداروں کے حوالے سے ایک مخصوص نظریاتی موقف کے باعث مسلسل تنقید اور بحث کا مرکز بنی رہی ہے۔ ایسے میں 22 ہزار مدرسہ اساتذہ کو دو بارہ نظامِ تعلیم میں شامل کرنے کا اعلان ایک غیر معمولی پیش رفت کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے سیاسی مبصرین کو چونکا دیا اور عوامی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ یہ معاملہ دراصل اس مرکزی اسکیم سے وابستہ ہے جس کا آغاز 1995 میں کیا گیا تھا جس کا مقصد مدارس میں صرف دینی تعلیم تک محدود رہنے کے بجائے جدید عصری مضامین کو شامل کرنا تھا تاکہ وہاں زیرِ تعلیم طلبہ کو بدلتے ہوئے زمانے کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ اس اسکیم کے تحت ہزاروں اساتذہ کو عارضی بنیادوں پر ملازمت دی گئی جو ہندی، انگریزی، سائنس، ریاضی اور سماجی علوم جیسے مضامین کی تدریس انجام دے رہے تھے۔ یہ ایک ایسا تجربہ تھا جس نے مدرسہ نظام میں ایک خاموش مگر مؤثرانقلاب برپا کیا کیونکہ اس نے روایتی اور جدید تعلیم کے درمیان ایک عملی پُل قائم کیا۔ تاہم جب 2023-24 میں مرکزی حکومت نے اس اسکیم کی مالی اعانت اچانک بند کر دی تو اس کے اثرات نہایت سنگین صورت میں ظاہر ہوئے۔ ہزاروں اساتذہ یکایک بے روزگار ہوگئے، مدارس میں جدید مضامین کی تدریس کا سلسلہ تعطل کا شکار ہو گیا اور ایک ایسا تعلیمی خلا پیدا ہوا جس نے نہ صرف اساتذہ بلکہ طلبہ کے مستقبل کو بھی غیر یقینی بنا دیا۔ گزشتہ تقریباً 26 ماہ تک یہ اساتذہ معاشی کرب اور ذہنی اذیت کے ایک کٹھن دور سے گزرتے رہے جہاں ان کی فریادیں سرکاری ایوانوں کی دہلیز پر بار بار دستک دیتی رہیں مگر شنوائی نہ ہو سکی۔ ایسے مایوس کن پس منظر میں ریاستی حکومت کا یہ حالیہ اعلان ایک امید افزا موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیر برائے اقلیتی فلاح دانش آزاد انصاری کی جانب سے یہ واضح کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ نے اعلیٰ سطحی اجلاس میں یہ ہدایت دی ہے کہ ان اساتذہ کو مدرسہ تعلیمی نظام کے اندر ہی ایڈجسٹ کیا جائے۔ یہ ایک انتظامی ہدایت نہیں بلکہ ایک سیاسی اشارہ بھی ہے جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکومت اب تعلیمی اور سماجی حقائق کو یکسر نظر انداز کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
یوگی آدتیہ ناتھ کا یہ بیان کہ ان اساتذہ نے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور انہیں ان کے حقوق سے محروم نہیں کیا جائے گا بذاتِ خود ایک قابلِ توجہ تبدیلی کی علامت ہے۔ یہ وہی حکومت ہے جس پر ماضی میں مدرسہ نظام کے حوالے سے سخت رویہ اپنانے کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں لیکن اب اسی حکومت کی جانب سے اساتذہ کی خدمات کا اعتراف اور ان کی بحالی کی یقین دہانی ایک نئے سیاسی بیانیے کی تشکیل کی طرفاشارہ کرتی ہے۔ یہ سوال بہرحال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا یہ فیصلہ خالصتاً فلاحی جذبے کے تحت کیا گیا ہے یا اس کے پسِ پشت کوئی وسیع تر سیاسی حکمتِ عملی کار فرما ہے؟ کیونکہ سیاست میں فیصلے اکثر اصولوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ زمینی حقائق، عوامی دباؤ اور آئندہ انتخابی امکانات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جاتے ہیں۔ اترپردیش جیسے حساس سیاسی خطے میں جہاں اقلیتی ووٹ ایک اہم عنصر کی حیثیت رکھتا ہے اس نوعیت کا اقدام یقیناً ایک مثبت پیغام دینے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ اساتذہ تنظیموں کی جانب سے اس فیصلے کا خیر مقدم اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ طبقہ طویل عرصے سے کسی عملی قدم کا منتظر تھا۔ اگرچہ انہیں ماضی میں جو معاوضہ دیا جاتا تھا وہ نہایت قلیل تھا مگر اس کے باوجود یہ ان کے لیے باعزت روزگار کا ذریعہ تھا اور سماجی وقار کا ایک سہارا بھی۔ اب جب کہ حکومت نے انہیں دو بارہ شامل کرنے کا عندیہ دیا ہے تو ان کے دلوں میں ایک نئی امید نے جنم لیا جو نہ صرف ان کی ذاتی زندگی بلکہ تعلیمی نظام کے لیے بھی سود مند ثابت ہو سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مدرسہ تعلیم کا مسئلہ ایک تعلیمی بحث نہیں بلکہ ایک سیاسی و سماجی اور تہذیبی مسئلہ بھی ہے۔ اسے نظر انداز کرنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی دانشمندی۔ حکومت کا یہ حالیہ قدم اگر اخلاص اور تسلسل کے ساتھ نافذ کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف ہزاروں خاندانوں کی معاشی بحالی کا سبب بن سکتا ہے بلکہ مدرسہ نظام میں جدید تعلیم کے فروغ کے لیے بھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔ بالآخر یوگی حکومت کا یہ فیصلہ ایک ایسے دوراہے پر لیا گیا اقدام ہے جہاں سیاست و مصلحت، اصول و ضرورت اور بیانیہ و حقیقت ایک دوسرے سے ہم آغوش دکھائی دیتے ہیں۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ یہ قدم وقتی تسکین ثابت ہوتا ہے یا واقعی ایک دیرپاپالیسی میں ڈھل کر تعلیمی و سماجی افق پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ یقیناً اس معاملے کی تہہ میں اتر کر دیکھا جائے تو یہ حقیقت پوری آب و تاب کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ یوگی حکومت کا یہ اقدام وقتی دباؤ کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی علامت ہے جہاں سیاست اپنی روایتی سختیوں کے حصار سے نکل کر تدریجی طور پر عملیت پسندی کی جانب مائل ہو رہی ہے۔ آج کا ہندوستان نعروں، جذباتی خطابات اور یک رُخی پالیسیوں سے آگے بڑھ چکا ہے۔ یہاں ہر فیصلہ اپنی افادیت، عوامی اثرات اور سیاسی نتائج کے تناظر میں پرکھا جاتا ہے۔ ایسے میں مدرسہ اساتذہ کی بحالی کا اعلان ایک ایسے بیانیے کو جنم دیتا ہے جس میں اختلاف کے ساتھ اعتراف اور فاصلوں کے باوجود ایک محدود نوعیت کی مفاہمت کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ بلاشبہ یہ امر کسی سے مخفی نہیں کہ گزشتہ چند برسوں میں مدرسہ نظام کو لے کر جو فضا قائم کی گئی اس نے نہ صرف تعلیمی اداروں کو بلکہ اس سے وابستہ لاکھوں افراد کے ذہنوں میں ایک بے یقینی اور اضطراب کی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ ایسے ماحول میں اگر وہی حکومت اساتذہ کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں دو بارہ نظام میں شامل کرنے کی بات کرتی ہے تو یہ ایک انتظامی لچک نہیں بلکہ ایک فکری مراجعت کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے۔ گو کہ اس مراجعت کی حدود و قیود ابھی پوری طرح واضح نہیں تاہم اس کے اثرات سے انکار بھی ممکن نہیں۔
دورِ حاضر کی سیاست میں سب سے اہم عنصر عوامی تاثر (Public Perception) بن چکا ہے۔ حکومتیں اب صرف فیصلے نہیں کرتیں بلکہ ان فیصلوں کے ذریعے ایک خاص پیغام بھی ترتیب دیتی ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ اقدام اقلیتی طبقے کے لیے ایک نرم گوشہ پیدا کرنے کی کوششکے طور پر بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ خصوصاً ایسے وقت میں جب سماجی ہم آہنگی اور سیاسی توازن دونوں ہی آزمائش کے دور سے گزر رہے ہوں۔ یہ فیصلہ ایک طرف جہاں ہزاروں خاندانوں کے معاشی بحران کو کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے وہیں دوسری طرف ایک وسیع تر سماجی بیانیے کو بھی معتدل بنانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ پالیسیوں کی اصل قدر ان کے اعلانات میں نہیں بلکہ ان کے نفاذ میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ اگر یہ فیصلہ صرف کاغذی کارروائیوں اور رسمی بیانات تک محدود رہ گیا تو اس کی تمام تر معنویت تحلیل ہو کر رہ جائے گی۔ لیکن اگر حکومت سنجیدگی کے ساتھ ایک واضح اور مؤثر طریقہ کار وضع کرتے ہوئے ان اساتذہ کو باعزت اور مستقل بنیادوں پر بحال کرتی ہے تو یہ نہ صرف ایک دیرینہ مسئلے کا حل ہوگا بلکہ ایک مثبت نظیر بھی قائم کرے گا۔ یہاں یہ سوال بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے کہ آیا اس اقدام کے ذریعے مدرسہ جدید کاری کے اُس خواب کو دو بارہ زندہ کیا جا سکے گا جو ایک عرصے سے تعطل کا شکار ہے؟ کیونکہ صرف اساتذہ کی بحالی کافی نہیں بلکہ ایک جامع تعلیمی پالیسی کی ضرورت ہے جو مدارس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ان کی شناخت اور خودمختاری کو بھی برقرار رکھ سکے۔ اگر حکومت اس سمت میں سنجیدہ پیش رفت کرتی ہے تو یہ اقدام ایک وقتی ریلیف کے بجائے ایک انقلابی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ مزید برآں اس فیصلے کو ہندوستانی جمہوریت کے اس وسیع تر تناظر میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے جہاں ہر طبقہ اپنی نمائندگی، اپنے حقوق اور اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے کوشاں ہے۔ مدرسہ اساتذہ کا مسئلہ بھی اسی جد وجہد کا ایک حصہ ہے اور ان کی بحالی اس بات کا ثبوت ہو سکتی ہے کہ جمہوری دباؤ اور مسلسل جد وجہد آخرکار اپنے اثرات ضرور مرتب کرتی ہے۔ یہ ایک ایسا سبق ہے جو نہ صرف اساتذہ بلکہ دیگر محروم طبقات کے لیے بھی حوصلہ افزا بن سکتا ہے۔ بالآخر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یوگی حکومت کا یہ فیصلہ ایک ایسے سنگم پر کھڑا ہے جہاں نیت و ضرورت، سیاست و سماج، بیانیہ و حقیقت ایک دوسرے میں مدغم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ اس کے مستقبل کا دار و مدار اب اس بات پر ہے کہ آیا یہ اقدام وقتی سیاسی حکمتِ عملی کا حصہ ثابت ہوتا ہے یا واقعی ایک سنجیدہ اور دیرپا اصلاحی عمل کی بنیاد بنتا ہے۔ اگر یہ وقتی مصلحتوں کی نذر ہوگیا تو تاریخ اسے ایک اور ادھورا وعدہ قرار دے گی لیکن اگر اسے دیانت داری اور مستقل مزاجی کے ساتھ نافذ کیا گیا تو یہی فیصلہ ایک ایسے روشن باب کا آغاز بھی بن سکتا ہے جس میں تعلیم، انصاف اور سماجی توازن کی نئی داستان رقم ہو۔ لہٰذا! اس مرحلے پر سب سے زیادہ ضروری رویہ نہ تو جذباتی تحسین کا ہے اور نہ ہی مایوس کن بدگمانی کا بلکہ ایک باشعور اور محتاط انتظار کا ہے۔ ایسا انتظار جو نتائج کو پرکھے، عمل درآمد کا جائزہ لے اور اس بات کا تعین کرے کہ آیا واقعی یہ قدم ہندوستانی سیاست کے مزاج میں ایک مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکا ہے یا نہیں۔ کیونکہ وقت ہی وہ کسوٹی ہے جس پر ہر فیصلہ اپنی اصل حیثیت میں نمایاں ہوتا ہے اور یہی وقت اس فیصلے کی حقیقی قدر و قیمت کا تعین بھی کرے گا۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
