صوبائی اسمبلی کے ضوابط پر بحث شروع
شفیق رضا
جنکپور : صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں صوبائی اسمبلی کے ضوابط، 2082 کے مسودہ کمیٹی کی رپورٹ پر اصولی بحث بدھ سے شروع ہو گئی ہے۔صوبائی اسمبلی کے چھٹے سیشن کے دوران بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں اراکین اسمبلی نے مسودہ کمیٹی کی رپورٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔منگل کو ہونے والے اجلاس میں بھی رکن اسمبلی شاردہ تھاپا کی جانب سے پیش کردہ صوبائی اسمبلی کے ضوابط، 2082 پر اصولی بحث کی گئی تھی۔ بحث کے دوران زیادہ تر اراکین اسمبلی نے ضوابط کو مجموعی طور پر اچھا قرار دیا لیکن کچھ خامیوں کا ذکر کرتے ہوئے اسے ترامیم کی ضرورت قرار دیا۔ بحث میں حصہ لیتے ہوئے رکن اسمبلی سنجے کمار یادو نے 2075 میں بننے والے صوبائی اسمبلی کے ضوابط کو موجودہ دور کے مطابق ڈھالنے پر زور دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر مجوزہ ضوابط میں درج دفعات پر اسپیکر سے لے کر اراکین اسمبلی تک سب عمل کریں تو مدھیش صوبہ مزید منظم اور مؤثر بنے گا۔
اسی طرح، رکن اسمبلی سریتا کماری ساہ نے مجوزہ ضوابط کو مثبت قرار دیتے ہوئے رکن اسمبلی شاردہ تھاپا کا اسے پیش کرنے پر شکریہ ادا کیا۔رکن اسمبلی راج کمار لیکی نے کہا کہ ضوابط پہلے سے بہتر ہونے کے باوجود کچھ دفعات میں خامی نظر آ رہی ہے، جس کے باعث ترمیم کی ضرورت ہے۔رکن اسمبلی رتھینیشور گویت یادو نے پیش کردہ ضوابط کو مثبت انداز میں لیا ہے۔ اسی طرح، رکن اسمبلی انجنا پنڈت نے ضوابط کے تحت تشکیل دی جانے والی خصوصی اختیارات کمیٹی کے ممبران کی اہلیت کے حوالے سے توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کم از کم پوسٹ گریجویٹ تعلیم یافتہ افراد کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی۔ رکن اسمبلی اوپیندر کمار مہتو نے بھی ضوابط میں کچھ خامیوں کا ذکر کرتے ہوئے ترمیم کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ صوبائی اسمبلی کے ضوابط پر اصولی بحث کے بعد رکن اسمبلی شاردہ تھاپا نے بحث کے دوران اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیے۔ یہ ضوابط صوبائی اسمبلی کے کام کاج کو چلانے، اجلاسوں کا بہتر انتظام کرنے اور کمیٹیوں کی تشکیل و کاروائی اور کمیٹیوں سے متعلق دیگر معاملات کو منظم کرنے کے مقصد سے لائے جا رہے ہیں۔اجلاس کی طلبی، اختتام اور ممبران کی حاضری و بیٹھنے کا ترتیب، اجلاس کا انعقاد و اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب اور صدرات کرنے والے افراد کا تقرر، اجلاس کے طریقہ کار اور فیصلہ کرنے کا انداز، اجلاس کا انتظام، اجلاس میں سوال و جواب، وزیراعلیٰ سے براہ راست سوال و جواب، تجاویز اور اس سے متعلقہ طریقہ کار جیسے موضوعات شامل ہیں۔یہ توقع کی جا رہی ہے کہ یہ ضوابط نافذ ہونے کے بعد صوبے کی کاروائی اور اجلاس منظم، باضابطہ اور بہتر طریقے سے چلائے جائیں گے۔
