Sep 21, 2026 09:04 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
طلبہ کی زندگی میں لائبریری کی اہمیت

طلبہ کی زندگی میں لائبریری کی اہمیت

10 Sep 2026
1 min read

طلبہ کی زندگی میں لائبریری کی اہمیت 

عبداللہ عطا کٹیہاری

                           تعلیم انسان کی زندگی کا  وہ نور ہے جو جہالت کے  اندھیروں کو دور کرتا ہے۔ اور لائبریری اس نور کو پھیلانے کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے کسی بھی تعلیمی ادارہ کی روح اس کی لائبریری ہوتی ہے لائبریری نہ صرف کتابوں کا ذخیرہ ہے بلکہ علم تحقیق اور تخلیق کی ایک زندہ درسگاہ ہے جو طلبہ کی ذہنی نشونما اور کردار سازی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

  *(1)علم کی اہمیت اور فضیلت* 

       علم ایک ایسی روشنی ہے جو برائی کو ختم کرتی ہے انسان کو صحیح اور غلط میں فرق کرنے کا شعور عطا کرتی ہے اور لائبریری وہ مقام ہے جہاں علم خزانے کی صورت میں محفوظ رہتے ہیں لائبریری میں موجود کتابیں گویا علم کے دریا ہے اور جو طالب علم ان دریاؤں سے سیراب ہوتا ہے وہ کامیابی کی منزلیں طے کرتا ہے یہاں ہر شعبے سے متعلق کتب ملتی ہے تاریخ ۔ادب ۔ سائنس ۔ فلسفہ ۔ سیاست ۔ اور دیگر علوم کی کتابیں انسان کی سوچ کو وسعت دیتی ہے تحقیق کا جذبہ بیدار کرتی ہے اور شخصیت کو نکھارتی ہے علم حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ لائبریری ہے دنیا کے بڑے بڑے دانشور اور سائنسداں اپنی کامیابی کا راز کتب خانوں کو قرار دیتے ہیں کیونکہ لائبریری صرف کتابوں کا ڈھیر نہیں بلکہ علم و حکمت کا خزانہ ہے اگر کوئی قوم علم سے محبت کریں اور اپنی لائبریری کو زندہ رکھے تو وہ کبھی زوال  پذیر نہیں ہو نگے اور اسلام میں علم کی بہت بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے قرآن مقدس میں اللہ رب العالمین نے فرمایا " قل ھل یستوی الذین یعلمون والذين لا يعلمون" (سورة الزمر :۹)  اللہ تعالی علم کے بدولت انسان کے درجات کو بلند عطا کرتا ہے جیسا کہ اللہ رب العالمین فرماتا ہے " يرفع الله الذين آمنوا منکم والذين وتوا العلم درجات والله بما تعملون خبير" ( سورة المجادلہ :١١)

  *(2) علماء کا مقام* 

    اسلام میں علماء کا بہت بڑا مقام ہے قرآن مجید میں اللہ عزوجل فرماتا ہے (انما یخشیٰ الله من عبادہ العلماء ) علم ہی و دولت ہے جس کی

ہدایت ایک عام انسان کو اعلیٰ مقام حاصل کرتا ہے اور علم کو سنبھالنے اور محفوظ اور آگے بڑھانے والے علماء ہیں علماء ہی دین کی روشنی کو پھیلاتا ہے جہالت کو دور کرتا ہے معاشرے کو راہ حق دکھاتا ہے لیکن یہ سوال ہے کہ علماء کو یہ مقام کہاں سے حاصل ہوئی؟ اس کا جواب  ہے کتاب اور لائبریری. علماء کی اصل ساتھی ہے اور لائبریری ان کے لیے علم کا خزانہ ہے کوئی بھی عالم بغیر مطالعہ کتابوں کے کمال حاصل نہیں کر سکتا علماء اپنے راتوں کو لائبریری پر کتابوں کے ساتھ گزارتے ہیں اس لیے ان کے سینے نور سے منور ہو جاتے ہیں اور مطالعہ ہی نے طالب علم کو عالم اور عالم کو علامہ بناتا . ہے اور یہ مقام علماء کو اس وقت حاصل ہوتی ہے جب وہ لائبریری کو اپنا مسکن بنا لیں یعنی لائبریری علماء کے لیے سرچشمہ اور ان کے مقام کو بلند کرنے کا ذریعہ ہے علماء ان کتابوں کی زندہ تفسیر ہے وہ علم کو صرف پڑھتے نہیں بلکہ اس کو عمل اور کردار کی شکل میں پیش کرتے ہیں علماء کا مقام لائبریری کے چراغ کی مانند ہے جو کتابوں کے اندھیرے کو روشنی میں بدل دیتا ہے

 *(3) حصول علم کے چند ذرائع* 

       حصول علم کے چند ذرائع میں سے اہم ترین ذریعہ لائبریری ہے اور لائبریری علم و کتاب کا وہ ذخیرہ ہے جو لوگوں کو پڑھنے کے لیے کتابیں مہیا کرتی ہے اور ذاتی پبلک اور تعلیمی اداروں کی لائبریریوں کی صورت میں موجود ہو سکتی ہے لائبریریاں علم کی اشاعت اور تحقیق کے لیے ناگزیر ہیں حصول علم کے ذرائع ١- لائبریری کے حصول کے لیے بہت بڑا ذریعہ جہاں مختلف موضوعات پر ہزاروں کتب اور وسائل موجود ہوتی ہیں ٢۔اساتذہ اور علماء اپنے علم  و تجربے سے طلبہ اور قارںٔین کی رہنما کرتے ہیں

٣- تعلیمی ادارے اسکولوں اور جامعات علم اور تحقیق کا ماحول فراہم کرتے ہیں  ٤- انٹرنیٹ آن لائن مواد تک آسانی سے حصول علم ممکن بناتا ہے۔

    (4) *لائبریری کی اقسام* 

١- ذاتی لائبریری (personal library ) یہ کسی فرد کی اپنی ملکیت میں موجود کتابوں کا ذخیرہ ہوتا ہے٢- پبلک لائبریری ( public library ) لائبریری یہ وہ لاںٔبریری ہوتی ہے جو عوام الناس کے لیے کھلی ہوتی ہے اور انہیں بغیر کسی قیمت کے کتابیں پڑھنے یا مستعار لینے کی سہولیت فراہم کرتی ہے

. ٣- تعلیمی اداروں کی لائبریری (academic School library ) یہ جامعات اور اسکولوں میں موجود ہوتی ہے اور طلبہ اساتذہ اور  محققین کو ان کی ضرورت کے مطابق علمی اور تعلیمی مواد فراہم کرتی ہے اس طرح ایک اہم قسم دینی مدارس کی لائبریری جہاں زیادہ تر اسلامی علوم کی کتاب محفوظ کی جاتی ہے تاکہ علماء اور طلباء ان سے استفادہ حاصل کر سکیں ان سب اقسام کی لائبریری کا مقصد ایک ہی ہے کہ لوگوں تک علم پہنچانا اور ان کو کامیابی کی راہ دکھانا ہر قسم کی لائبریری سے فائدہ اٹھانا چاہیے 

کیونکہ کتاب ہی ہماری اصل دوست ہے اور 

لائبریری علم کا اصل خزانہ ہے۔

  *(5) لائبریری کی تعریف* 

       لائبریری لاطینی زبان کا لفظ ہے جو لاںٔبر سے بنا ہے اس کا معنی ہے کتاب سادہ الفاظ میں یوں سمجھے کہ لائبریری اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کتابوں پر سالوں اخباروں اور مواد جمع ہو اردو اور فارسی میں اس کے لیے کتب خانہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں جبکہ عربی میں

اس کا مترادف لفظ:خزانة الكتب:و مکتبہ اور دارالکتب کا لفظ استعمال ہوتا ہے لائبریری ایک ایسا عظیم مقام جہاں ہزاروں سالوں کا فکری و عملی اثاثہ لاکھوں کروڑوں ارباب دانش کے ذہنی اور قلمی کاوشوں کا سب ثمرہ جمع ہوتا ہے جہاں الہامی کتب بعض انسانی استعداد اور شعور وسعت کے مفاہم کے لفظی مجموعه محد ثین و مفسرین کی تفاسیر و شروحات کا مجموعہ محققین و مفکرین کے تحقیقات و افکار کا علمی خزانہ مصنفین و مترجمین کی کتب انسان تحریرات کا سرمایہ علوم و فنون کی دولت شاعروں نثر نگاروں ادیبوں اور خطیبوں کی قلمی فتوحات کا ذخیرہ یکجا ایک چھت کے نیچے مؤثر ہوتا ہے لائبریری میں داخل ہونے والا لاکھوں نابغہ روزگار صفحۂ ہستی کہ شاہکار لوگوں سے بغل گیر اور ہم کلام ہوتا ہے اور ان کی فکری روشنی سے جہاں ذہن و قلب کو جگمگاتا ہے لائبریری علم و فکر اور تعلیم و تعلم کا مظہر اور مرکز ہے کتب سفاحت سے معرفت جہالت سے علم ظلمات سے نور کی طرف لے جاتی۔

  *(6) علماء اور طلبہ کا لائبریری سے تعلق* 

        علماء اور طلباء دونوں لاںٔبریری سے گہرا تعلق ہے علماء دین کے رہنما ہیں وہ قرآن و حدیث اور فقہ و تفسیر کے ماہر ہوتے ہیں لیکن ایک دم حاصل نہیں ہوتا بلکہ  لائبریری کی کتابوں کو مسلسل مطالعہ کرنے سے علماء اپنی زندگی کتابوں کے ساتھ گزاری ہے یہی وجہ ہے کہ ان کے سینے میں علم کا خزانہ اور ان کے قلم امت کے رہبر ہیں اور علماء مطالعہ کے بہت شوقین ہوتے ہیں امام احمد بن حنبل اپنی زندگی کے آخری مرحلے میں بھی لکھنے اور پڑھنے میں مصروف رہتے تھے ایک مرتبہ ان کے فرزند نے اپنے ابو

سے کہا (یا ابت الى متى مع المحبرة ؟ قال مع المحبرة الی المقبرة ) اے ابو جان آپ کب تک کاغذ اور سیاہی سے چمٹے رہیں گے؟ تو احمد بن حنبل نے جواب دیا کہ قبر میں جانے تک قلم سے جڑے رہیں گے عربی ادب کے متعدد کتابوں کے مشہور معتزلی مصنف جاحظ رحمہ اللہ تعالی مطالعہ کے بڑے شوقین تھے ایک مرتبہ مطالعہ کے دوران ان پر کتابیں گرنے کی وجہ سے ان کی موت ہو گئی اور ان کو شہید الکتب کے لقب سے ملقب کیا گیا طلباء علم کے متلاشی ہوتے ہیں اور لائبریری انکےچراغ راہ ہوتے ہیں جو طالب علم لائبریری سے تعلق رکھتا ہے وہ ہمیشہ کامیاب اور با علم بنتا ہے کتابیں ان کی سوچ کو بلند کرتی ہے اور ان کی شخصیت کو نکھارتی ہے یوں کہا جا سکتا ہے علماء لائبریری کے بغیر عالم نہیں بن سکتا اور طلبہ لائبریری کے بغیر پختہ علم حاصل نہیں کر سکتا۔

    *(7) لائبریری سے استفادہ کرنے والے طلبہ اور نہ کرنے والے طلبہ میں فرق ۔*

        لائبریری دانش کا مرکز ہے اور تہذیب و تمدن کا آئینہ ہے وہ جگہ علم کی موتی بکھرے پڑے ہیں اب یہ طالب علم پر منحصر ہیں کہ وہ ان موتیوں کو سمیٹتا ہے یا غفلت وسستی کی وجہ سے محروم رہتا ہے جو طالب علم لائبریری سے استفادہ کرتے ہیں وہ محنت و 

مطالعے کے ذریعے علم کی گہرائی تک رسائی حاصل کرتے ہیں ایسے طلبہ افکار و بلندی شخصیت باوقار اور کردار منظم ہوتے ہیں ان کی گفتگو میں سانت تحریر میں پختگی اور تحقیق

میں گہرائی پائی جاتی ہے وہ طلبہ جو مستقبل میں معاشرے کے رہنما محقق اور معیار بنتے ہیں اس کے برعکس جو طلبہ لائبریری سے منہ موڑ لیتے ہیں وہ دراصل اپنے  علمی پیاس کو خود ہی بجھنے نہیں دیتے ان کا ذہن کمزور سوچ سطحی اور مستقبل غیر یقینی ہو جاتا ہے امتحان کے دنوں میں عجلت میں رٹے لگانا ان کا طریقہ ہوتا ہے لیکن علم کی روشنی سے ان کا دامن خالی رہتا ہے ایسے طلبہ گویا ایک درخت کے مانند ہیں جو بظاہر سبز دکھائی دیتا ہے مگر پھل دینے کی صلاحیت سے محروم رہتا ہے یاد رہے طالبان علوم نبوت اور فارغینِ مدارس وہ درسیات میں کتنے ہی ممتاز اور اعلیٰ نمبرات کے حامل ہو لیکن اصل قابلیت وصلاحیت علوم و فنون میں مہارت تو کثیر مطالعہ اور ذوق کتب سے ہی پیدا ہوتی ہے۔

       (8) *براہ راست کتابوں سے مطالعہ کرنا اور موبائل وغیرہ سے مطالعہ کرنے میں فرق* 

        کتاب کی اہمیت و ضرورت سے کسی بھی ذی شعور کو انکار کی راہ نہیں ہے کتاب پڑھنے سے جہاں علم ذہن کھلتا ہے فکری و خیال نکھرتے ہیں وہی پر یہی کتاب زندگی کے نشب و فراز کی بہترین مددگار بھی ہے مگر یہ کتاب جو فحاشی کو فروغ دیں : یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے جب جدید دور نے ٹیکنالوجی نے ہر کام کو آسان کر دیا ہے ہم ہزاروں لاکھوں کتابوں کا ذخیرہ موبائل لیپ ٹاپ میں رکھ سکتے ہیں ان کو کھولنا سرچ 

کرنا اور اپنے مطلوبہ مواد تک پہنچنا نہایت آسان ہو چکا ہے تو پھر لائبریری کی ضرورت کیوں ؟ یاد رہے کہ تعلیم و تعلم کے لیے جہاں کتاب اساتذہ اور تعلیمی ادارے کی سخت ضرورت ہے وہی لائبریری کا ہونا بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے ترقی یافتہ ممالک کے

لوگوں کی ٹیکنالوجی تک پہنچ ہم سے زیادہ ہے مگر ان کے وہاں ابھی بھی پبلک لائبریری کھلی رہتی ہےکیونکہ  تحقیق سے ثابت ہوا کہ ٹیبلٹ یا موبائل سے پڑھنے کی بنسبت کتاب سے پڑھی گئی تحریر جلد یاد ہوتی ہے اور جلد سمجھ میں آتا ہے ماہر نفسیات کے مطابق جب ہم کوئی کتاب پڑھتے ہیں تو ہمارا ذہن متواتر اس کا موازنہ کرتا رہتا ہے اس کے مطابق نقوش کھینچ لیتا ہے جو کہ مستقبل کے لیے ہمیں یاد رہ جاتے ہیں بنسبت اسکرین کے پڑھنے سے کتاب سے پڑھنے والے الفاظ کے نقشہ سازی نہایت واضح ہوتی ہے اس وجہ سے دنیا میں ٹیکنالوجی کی اس قدر ترقی کے باوجود لوگ اسکرین سے پڑھنے کے بجائے کتاب سے پڑھنے کو زیادہ ترجیح دںٔے  ہیں۔

       *خلاصہ کلام* لائبریری طلبہ کی علمی فکری اور اخلاقی تربیت کا بنیادی ستون ہے جہاں علم کا سمندر اپنی وسعتوں کے ساتھ موجود ہوتا ہے وہاں طالب علم کو اپنی علمی تشنگی بجھانے اور فکری توڑنے کا موقع ملتا ہے تحقیق غور و فکر اور مطالعہ کی عادت سکھاتی ہے جدید دور میں اگرچہ موبائل انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ذرائع نے مطالعے کے لیے دروازہ کھول دیے ہیں مگر براہ راست کتابوں سے حاصل ہونے والا علم اپنی گہرائی توجہ کے اعتبار سے بے مثال ہے لہذا ہر طالب علم کو چاہیے کہ لائبریری سے بے پناہ رشتہ مضبوط کر لے تاکہ علم کی روشنی اس کی زندگی کو منور کرے اور ایک باعمل باشعور اور کامیاب انسان بن سکے

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)