Aug 7, 2026 06:04 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
حیات لے کے چلو،کائنات لے کے چلو

حیات لے کے چلو،کائنات لے کے چلو

02 Jul 2026
1 min read

حیات لے کے چلو،کائنات لے کے چلو

انجینئر محمود اقبال   6309727951 

کمیونسٹوں،کسانوں، مزدوروں، محنت کشوں اورمحبتوں کا  انقلابی شاعر مخدوم محی الدین

 4فروری1908سر زمین دکن کے مقبول ترین شاعر مخدوم محی الدین کی یوم پیدائش ہے۔فیض احمد فیض عصر جدید کے ”غالب“ تھے۔اور مخدوم،فیض کے ہم عصر تھے۔ دونوں کی شاعری میں اعلیٰ تعلیم، محبت،محنت اور جیل کی صعوبتیں قدر مشترک نظر آتی ہیں۔فیض کو جہاں وقت ملا اپنی بات کہناکہ وہیں مخدوم محروم وقت و فرصت رہے۔مخدوم محی الدین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر صرف شاعری ہی تک وہ محدود رہتے تو ان کی شاعری میں اور بھی چار چاند لگ جاتے۔ ان کا شمار کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے چوٹی کے قائدین میں ہوتا تھا۔وہ کسانوں،مزدوروں اور محنت کشوں کی آواز تھے۔ ریاستی دارالحکومت حیدرآباد دکن میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کا صدر دفتر ”مخدوم بھون“ انہیں کے نام سے موسوم ہے، جو حیدرآباد کے پوش علاقہ حمایت نگر میں واقع ہے۔ کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے یہ دفتر ایک تحفہ،لا فانی یادگار اور خراج عقیدت ہے جو آج بھی حیدرآبادیوں کو مخدوم بھون سے گزرتے ہوئے مخدوم کی یاد دلاتی رہتی ہے۔

چنند دہائیوں پہلے ترقی پذیرمصنفین اور شاعروں کی ایک کھیپ آئی تھی جنہوں نے نت نئے تجربات کئے۔ بعض نے تو اردو رسم الخط کو بھی دیوناگری رسم الخط میں بدلنے کی مانگ اور سعیئ کی تھی۔ اردو کبھی”منت پذیر شانہ“نہ رہی اور یہ اپنے گیسؤ خودی ہی سنوارتی رہی۔ یہی اس زبان کی خوبی ہے یہی اسکی کچک ہے۔

مخدوم کی ایک مشہور نظم ”غالب“ کا ایک مایوسانہ شعر ہے    ؎

وہ زُباں جس کا نام ہے،  اُردو

 اُٹھ نہ جائے کہیں خوشی کی طرح

 مخدوم اگر آج بقید حیات ہوتے تو اس بات پر مسرور ہوتے کہ اس زمین سے اردو نہیں،بلکہ اردو کے مخالفین اٹھتے جا رہے ہیں۔ مخدوم، محبتوں اور محنتوں کی شاعری کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں وہ دور آزادی کے مقبول ترین شاعر تھے جسے حیدر آبادیوں نے اپنے سر اور آنکھوں پر بٹھایا تھا۔ مخدوم ان خوش نصیب شاعروں میں سے ایک ہیں جنہیں انکی زندگی ہی میں اپنے چاہنے والوں کی بھر پور محبت وعزت ملی۔ مخدوم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب تک انکی غزل مقطع تک پہنچتی، پوری غزل حیدر آبادیوں کو یاد ہو جاتی تھی۔ مصرعہ بہ مصرعہ، شعر بہ شعر،رکشہ والوں کو سناکر،تانگے والوں کو سناکر وہ اپنی غزل مکمل کرتے تھے اور جب تک حیدر آبادی یاد نہ کر لیتے وہ انہیں سناتے جاتے تھے۔وہ سب کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔کمیونسٹ تحریک کو بھی،کسانوں کو بھی،مزدوروں کو بھی اور ساتھ ہی ساتھ ادبی ذوق کو بھی    ؎

حیات لے کے چلو، کائنات لے کے چلو

 چلو تو سارے زمانے کو ساتھ لے کے چلو

 مخدوم، پورے برصغیر میں یکساں طور پر مقبول تھے۔ کشمیر کے ایک مشاعرے میں بھی انہوں نے شرکت کی تھی۔ سید رحمت علی سابق رکن پارلیمنٹ نے اپنی کتاب ”سر فروشان وطن“ میں لکھا ہے کہ مخدوم کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سےتھا اور انکے پردادا مکہ مسجد حیدر آباد کے مشہور قاری تھے۔ ”بُلبُل ہِند“  سروجنی نائیڈو، مخدوم محی الدین کو اپنا بیٹا کہا کرتی تھیں۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی مسلح جدوجہد میں بھی مخدوم پیش پیش تھے۔ مخدوم نے تلنگانہ کے کسانوں کے ساتھ چھاپہ مار لڑائیوں میں حصہ لیاتھا۔ روپوشی اختیار کی تھی۔ وائسرائے ہند کے خلاف ایک تقریر کی پاداش میں جیل کی صعوبتیں بھی وہ جھیل چکے ہیں۔ جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے انہوں نے کہا تھا     ؎

قیدہے قید کی میعاد نہیں 

 جور ہے جور کی فریاد نہیں 

بتایا جاتا ہے کہ دونوں عظیم شاعروں فیض اور مخدوم نے ترقی پسند تحریک، آزادی،عوامی جد وجہد اور ادب کے سماجی کردار کے بارے میں کیئ بار گفتگو کی تھی۔مخدوم اور فیض کی بہت سی نظمیں جیل کی صعوبتوں کو بھی لے کر ہیں۔نا مساعد حالات میں مخدوم نے جامعہ عثمانیہ سے ایم اے (اردو) کیا تھا،حتی کہ انہیں سڑکوں پر اخبار بھی بیچنے پڑے تھے۔ ملازمت کا آغاز گورنمنٹ سٹی کالج، حیدرآباد میں لیکچرار کی حیثیت سے کیا لیکن باغی و سرکش طبیعت کو نوکری راس نہ آئی۔ اس وقت کی آندھرا پردیش قانون ساز اسمبلی اور کونسل کے ممبر بھی وہ رہے اور مزدور تحریکوں کے سر گرم ممبر کی حیثیت سے روس، چین اور یورپ کا دورہ بھی کیا۔ کسی بھی اردو شاعر کیلئے انکی محنت اور محبت کی بھر پور زندگی باعث رشک ہے۔ملکوں ملکوں وہ محنت اور محبت کا پیغام پہنچاتے رہے۔کہا تھا      ؎

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے

مخدوم نے کہا تھا کہ وہ ایک محروم فرصت انسان ہیں۔مخدوم کاکلام بہت ہی مختصر ہے۔لیکن انہیں جو بھی فرصت کے لمحات ملے وہ اردو شاعری اورادب کے زندہ جاوید لمحات بن گئے۔ انکی بعض غزلیں اور نظمیں ’راک ان رول“ (Rock & Roll)کرتی نظر آتی ہیں۔ ملاحظہ ہو      ؎

کمان ابروئے خُو باں کا بانکپن ہے غزل عشق کے شعلہ کو بھڑکاؤ کہ کچھ رات کٹے

کوہ غم،  اور گراں  اور گراں اور گراں 

غمزدو  تیشے کو چمکاؤ، کہ کچھ رات کٹے 

 سابق صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ حیدرآباد، پروفیسر زینت ساجدہ صاحبہ نے مخدوم کی شاعری اور آواز کے بارے میں لکھا ہے کہ”اصل میں اس کی آواز میں جادو ہے،گہرائی، طرحداری اور خراد پر چڑھی ہوئی آواز ہے“۔ایک اور جگہ لکھا ہے کہ”مخدوم کے بیانِ رومان،انقلاب سے فرار نہیں،بلکہ اسکی پہلی سیڑھی ہے،محبت انسان کو بیدار کرتی ہے اور یہی بیدار ی اجتماعی شعور میں ڈھاتی ہے“۔آنجہانی رانی اندرا دھنراج گیر جی مخدوم کو بہت عزیز رکھتی تھیں      ؎

ہجومِ بادۂ و گل میں،  ہجومِ  یاراں میں 

کسی نگاہ نے جھک کر مرے سلام لئے

ہند و پاک کے مشہور گلو کاروں نے بھی مخدوم کی غزلوں اور نظموں کو اپنی آواز عطا کی ہے۔1982میں ریلیز ہویئ فلم”بازار“،خیام کی موسیقی،طلعت عزیز اور لتا جی کی مسحور کُن اور جادوئی آوازیں

 

، ڈائریکٹرساگر سرحدی کی ہدایت میں یہ گیت، فاروق شیخ اورسپریا پاٹھک  پر خوبصورت انداز میں پْھو لوں اور کلیوں کے جھرمٹ میں فلمایا گیا تھا،جس کی زیادہ تر شوٹنگ حیدرآباد میں ہویئ تھی اور کہانی بھی حیدرآباد کے ا س زمانہ کے معاشرتی  پس منظر سے تعلق رکھتی تھی۔فلم ”بازار“ نے مخدوم کے اس گیت کو امر بنادیا ہے      ؎

پھر چِھڑی رات، بات  پھو لوں کی

رات ہے،  یا برآت   پھو لوں کی

پھو ل کے ہار،  پھو ل کے گجرے

شام پھو لوں کی،  رات پھو لوں کی 

یقینا، آپ نے ڈھولک کے گیت سنے ہونگے۔کیا آپ نے کبھی مخدوم کی نظم ”اک  چمیلی کے منڈوے تلے دو بدن...سنی ہے؟زیادہ نہیں صرف دو تین دہائیوں پہلے کی بات ہے،اب نہ ہی وہ چمیلی کے منڈوے رہے،نہ ہی وہ  ”گلِ تر“، اور نہ ہی وہ ڈھول۔انکی جگہ بڑے بڑے فنکشن ہالس کے ورانڈے،”گلِ مُر“  اور ڈی جے نے لے لی ہے۔یہ گیت فلم ”چھا چھا چھا“ پر چھا گیا تھا، جو 1964 میں ریلیز ہویئ تھی۔مخدوم کے اس نظم”چارہ گر“ کو محمدرفیع اور آشا بھوسلے کی سریلی آوازیں ملیں، جسے اقبال قریشی نے کمپوز کیاتھا۔ 

اک چمیلی کے منڈوے تلے

مے کدے سے ذرا دور،  اس موڑ پر

 

دو بدن 

پیار کی آگ میں جل گئے

پیار حرفِ  وفا، پیار ان کا خدا

پیار ان کی  چِتا

دو بدن...

مخدوم کا کلام بہت ہی مختصر ہے۔”سرخ سویرا“،جو انقلابی نظموں کا مجموعہ ہے۔بِساط رقص،رومانس اور انقلاب کا ایک حسین امتزاج ہے، اورمخدوم کو اپنے ہم عصر شعراء  میں ممتاز مقام عطا کرتی ہے۔”گُلِ تر“،نرم،رومانوی اور جمالیاتی کے ساتھ ساتھ محبت،محنت،فطرت اور حسین خوابوں کی یادوں کی آئینہ دار ہے۔مخدوم کا زیادہ تر کلام نظموں گیت،چند اکلوتے اشعار اور صرف  18-22غزلوں پر مشتمل ہے۔   مگر، جو کہا وہ لاجواب کہا اور وہ بھی محنتوں اور محبتوں سے بھرپور شاعری کے ساتھ ساتھ۔ بقول جگر مرادآبادی      ؎

ایک  لفظِ محبت کا،ادنیٰ یہ فسانہ ہے

سِمٹے تو دِل عاشق، پھیلے تو زمانہ ہے

 بیسویں صدی کے3 نامو ر شعراء پروین شاکر،فیض اور مخدوم کے کلام میں 3چیزیں قدر مشترک نظر آتی ہیں۔”محبت،محنت اور مصیبت“۔ پروین کی ناکام محبت،طلاق ااور تنہائی    ؎

وہ تو خو شبو ہے، ہو اؤں میں بِکھ جائے گا

مسئلہ پھول کا ہے،پھول کِدھر جائے گا

فیض کی آرزوئے محبت!اور مہدی حسن کی سحر انگیز آواز اوردُھن  میں یہ غزل غم زدہ دلوں میں زندہ دلی کی نئی روح پھو نکتی ہے    ؎ 

گلوں میں رنگ بھرے بادِ نو بہا ر چلے

چلے بھی آؤ کہ، گْلشن کا کاروبارچلے

اور مخدوم کی اُمید افزا محبت      ؎ 

نِکہت  یار سے  آباد  ہے  ہر  کُنجِ  قفس

مل کے آئی ہے صبا،  اس  گُلِ تر  سے  پہلے

اِس اندھیرے میں اُجالوں کا گماں تک بھی نہ تھا

شعلہ رُو،   شعلہ نوا،   شعلہ نظر،  سے   پہلے 

4فروری،1908کو مخدوم ضلع میدک کے ایک گاؤں اندول میں ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔4سال کی عمر میں انکے والد محترم کا عین جوانی میں نتقال ہوگیا تھا،بعد میں انکی ماں نے دوسری شادی کرلی تھی۔وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے۔بعد ازاں انکی پرورش انکے چچابشیرالدین صاحب کے زیر سایہ ہوئی تھی،جو بہت ہی نیک دل انسان تھے۔ایک طویل عرصہ تک مخدوم اپنی ماں کو دیکھ اور مل بھی نہ پائے تھے۔لڑکپن سے ہی وہ ”محبت“ کی تشنگی کو شاید جھیلتے رہے ہوں؟ شاید اسی لئے انکی شاعری میں ”محبت ہی محبت اور محنت“نظر آتی ہے

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر نیپال اردو ٹائمز (9701714929) (8795979383)