Sep 21, 2026 09:55 AM Asia/Kathmandu
ہمیں فالو کریں:
سید الکونین ﷺ کی رفعت و عظمت قرآن و احادیث کی روشنی میں

سید الکونین ﷺ کی رفعت و عظمت قرآن و احادیث کی روشنی میں

20 Aug 2026
1 min read

*سید الکونین ﷺ کی رفعت و عظمت قرآن و احادیث کی روشنی میں*

از قلم : محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی نائب ایڈیٹر: نیپال اردو ٹائمز بنوٹا، مہوتری، نیپال

*سید الکونین ﷺ کی رفعت و عظمت قرآن و احادیث کی روشنی میں* اللہ تعالی نے انسانیت کی ہدایت کے لیے ہر دور میں انبیائے کرام علیہم السلام کو مبعوث فرمایا، مگر خاتم النبیین، رحمتِ عالم، سیدالمرسلین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو جو مقام و مرتبہ عطا فرمایا، وہ اپنی وسعت، جامعیت اور کمال کے اعتبار سے بے مثال ہے۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں، آپ ﷺ کی نبوت پوری انسانیت کے لیے ہے، آپ ﷺ کی تعلیمات قیامت تک کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں اور آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس ایمان، اخلاق، عبادت، عدل، رحمت اور انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی رفعت و عظمت کا حقیقی احاطہ انسانی الفاظ سے ممکن نہیں۔ خود ربِ کائنات نے قرآنِ مجید میں اپنے محبوب ﷺ کی متعدد خصوصیات، اوصاف اور فضائل بیان فرمائے۔ کہیں آپ ﷺ کو رحمۃ للعالمین قرار دیا، کہیں خاتم النبیین فرمایا، کہیں آپ ﷺ کے اخلاق کو خُلُقٍ عَظِیمٍ کہہ کر سراہا، کہیں اپنی اطاعت کو رسول ﷺ کی اطاعت کے ساتھ وابستہ فرمایا اور کہیں آپ ﷺ کو اہلِ ایمان کے لیے بہترین نمونہ قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی عظمت کا سب سے معتبر تعارف قرآنِ کریم اور صحیح احادیثِ مبارکہ سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ قرآنِ کریم کی نظر میں مقامِ مصطفیٰ ﷺ قرآنِ کریم نے رسول اکرم ﷺ کی شان کو مختلف پہلوؤں سے بیان فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ“ اور بے شک آپ ﷺ عظیم اخلاق پر فائز ہیں۔ (سورۃ القلم،68)

 یہ آیتِ مبارکہ حضور ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کی عظمت کی سب سے روشن شہادت ہے۔ مفسرین نے واضح کیا ہے کہ آپ ﷺ کا کردار قرآن کی عملی تصویر تھا؛ یعنی قرآن جن اخلاق، اوصاف اور اصولوں کی تعلیم دیتا ہے، رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنی زندگی میں عملاً نافذ کرکے دکھایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے جب نبی کریم ﷺ کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے آپ ﷺ کے اخلاق کو قرآن سے تعبیر فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ دراصل قرآنِ کریم کی عملی تفسیر ہے۔ رحمتِ عالم ﷺ رسول اللہ ﷺ کی عظمت کا ایک عظیم مظہر آپ ﷺ کا وصفِ رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ‘‘ اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔(سورۃ الأنبیاء، 107) 

یہاں قرآن نے آپ ﷺ کی رحمت کو کسی ایک قوم، خطے یا زمانے تک محدود نہیں رکھا بلکہ للعالمین فرمایا۔ اس میں انسان، جنات اور پوری مخلوق کے لیے آپ ﷺ کی رحمت کا وسیع مفہوم شامل ہے۔ آپ ﷺ نے دشمنوں کے ساتھ بھی رحم، عفو اور حسنِ سلوک کا مظاہرہ فرمایا۔ طائف کے واقعے میں شدید تکلیف پہنچائے جانے کے باوجود انتقام کی خواہش کے بجائے ہدایت کی امید رکھی۔ فتح مکہ کے موقع پر بھی عام معافی کا اعلان آپ ﷺ کی رحمت و عفو کی روشن مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی سیرت صرف مسلمانوں کے لیے عبادت و اخلاق کا نمونہ نہیں بلکہ انسانی معاشرے کے لیے رحمت، امن اور عدل کا عملی منشور ہے۔ رسول اللہ ﷺ بہترین نمونہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ‘‘ بے شک تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔(سورۃ الأحزاب، 33) یہ آیت بتاتی ہے کہ حضور ﷺ کی عظمت محض الفاظ میں بیان کرنے کے لیے نہیں بلکہ آپ ﷺ کی پیروی اور اقتدا کے لیے ہے۔ آپ ﷺ عبادت میں نمونہ ہیں، معاملات میں نمونہ ہیں، تجارت میں نمونہ ہیں، گھریلو زندگی میں نمونہ ہیں، عدل و انصاف میں نمونہ ہیں، حکمرانی میں نمونہ ہیں، تعلیم و تربیت میں نمونہ ہیں، صبر و شکر میں نمونہ ہیں اور انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک میں بھی نمونہ ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا یہی ہے کہ وہ آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگی میں اختیار کرے۔ رسول ﷺ کی اطاعت، اللہ تعالیٰ کی اطاعت حضور اکرم ﷺ کا مقام اس قدر بلند ہے کہ قرآنِ کریم نے آپ ﷺ کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت قرار دیا: ’’مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ‘‘ جس نے رسول کی اطاعت کی، اس نے حقیقت میں اللہ کی اطاعت کی۔(سورۃ النساء،80) یہ آیت واضح کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ محض تاریخی شخصیت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ رسول اور واجب الاطاعت رہبر ہیں۔ آپ ﷺ کے احکام کی پیروی دین کا بنیادی تقاضا ہے۔ اسی لیے قرآنِ کریم نے ایک اور مقام پر فرمایا کہ مومنوں کے درمیان اس وقت تک حقیقی ایمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے باہمی اختلافات میں رسول اللہ ﷺ کو حَکم نہ مانیں اور آپ ﷺ کے فیصلے پر دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہ کریں۔ (سورۃ النساء، 65)

 اللہ تعالیٰ کی طرف سے بلند کیا گیا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کے ذکر کی رفعت کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا: ’’وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ‘‘ اور ہم نے آپ کے لیے آپ کا ذکر بلند فرما دیا۔(سورۃ الشرح، 4) آج دنیا کے مختلف حصوں میں اذان، نماز، خطبات، درود و سلام اور کلمۂ شہادت کے ذریعے رسول اللہ ﷺ کا نام مسلسل بلند کیا جاتا ہے۔ مؤذن جب اذان دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے اعلان کے ساتھ محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اعلان بھی کرتا ہے۔ یہ وہ عظیم امتیاز ہے جس کی مثال تاریخِ انسانی میں کسی دوسری شخصیت کے لیے اس شان کے ساتھ نہیں ملتی۔ حضور ﷺ کی بعثت کا عالمی پیغام قرآنِ کریم نے فرمایا: ’’إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا‘‘ بے شک ہم نے آپ کو گواہ، خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔(سورۃ الفتح،48) رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دعوت دی، شرک و باطل سے نکالا، اخلاق و کردار کی اصلاح فرمائی اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ دکھایا۔ آپ ﷺ نے ایسے معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں انسان کی عزت اس کے مال، نسل، خاندان یا قبیلے سے نہیں بلکہ تقویٰ اور کردار سے متعین ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے غلاموں، یتیموں، مسکینوں، عورتوں، کمزوروں اور معاشرے کے محروم طبقات کے حقوق پر خصوصی توجہ دی۔ اس اعتبار سے آپ ﷺ کی تعلیمات انسانی عزت و مساوات کا ایک جامع تصور پیش کرتی ہیں۔ برکات مولود النبی حضور اکرم، رحمتِ عالم ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا ذکر، آپ ﷺ کی سیرت و شمائل کا بیان، اللہ تعالیٰ کی نعمتِ عظمیٰ پر شکر اور آپ ﷺ پر درود و سلام پیش کرنا ہے۔ قرآنِ کریم نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت کو اہلِ ایمان پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان قرار دیتے ہوئے فرمایا: ’’لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ إِذْ بَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ أَنفُسِهِمْ‘‘ بے شک اللہ نے ایمان والوں پر بڑا احسان فرمایا کہ ان میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا۔(آلِ عمران: 164) حضور ﷺ کی تشریف آوری پوری انسانیت کے لیے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے۔ قرآنِ کریم آپ ﷺ کو رحمۃً للعالمین قرار دیتا ہے: ’’وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ‘‘ اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت ہی بنا کر بھیجا ہے۔(سورۃ الأنبیاء، 107) 

اس اعتبار سے میلادِ مصطفیٰ ﷺ کا ذکر دراصل اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت کو یاد کرنا اور اس پر شکر ادا کرنا ہے۔ میلاد کی مجالس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں محبتِ رسول ﷺ تازہ ہوتی ہے۔ میلادِ النبی ﷺ کا ایک اہم ثمرہ سیرتِ طیبہ کا مطالعہ اور اس پر عمل ہے۔ اگر میلاد کی محفل میں رسول اللہ ﷺ کے اخلاق، عبادات، معاملات، عدل، رحمت، عفو و درگزر اور سنتوں کا ذکر کیا جائے اور سامعین اپنی زندگی کو سنتِ مصطفیٰ ﷺ کے مطابق بنانے کا عزم کریں تو یہ مجلس یقیناً اصلاح و تربیت کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ حضور ﷺ کے متعدد مبارک نام احادیثِ مبارکہ میں بھی رسول اللہ ﷺ کی عظمت اور خصوصیات بیان ہوئی ہیں۔ حضرت محمد بن جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میرے پانچ نام ہیں:محمد، احمد، ماحی، حاشر اور عاقب۔ یہ نام آپ ﷺ کی مختلف خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ محمد اور احمد آپ ﷺ کی کثرتِ حمد و تعریف کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ ماحی کے بارے میں حدیث میں بیان ہوا کہ اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کے ذریعے کفر کو مٹاتا ہے، حاشر اس معنی میں کہ قیامت کے دن لوگ آپ ﷺ کے بعد جمع کیے جائیں گے، اور عاقب آخری نبی ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ نسبِ پاک کی عظمت صحیح مسلم کی حدیث میں حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے کنانہ کو منتخب فرمایا، کنانہ میں سے قریش کو، قریش میں سے بنو ہاشم کو، اور بنو ہاشم میں سے مجھے منتخب فرمایا۔ (صحیح مسلم، حدیث 2276) یہ انتخابِ الٰہی آپ ﷺ کے نسبِ پاک کی عظمت اور خصوصی فضیلت کو ظاہر کرتا ہے۔ محبتِ رسول ﷺ ایمان کا حصہ ہے رسول اللہ ﷺ سے محبت ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَالِدِهِ وَوَلَدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ‘‘ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔(صحیح البخاری، حدیث: 15) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ محبتِ رسول ﷺ محض جذباتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ حقیقی محبت یہ ہے کہ مسلمان آپ ﷺ کی سنت کو اختیار کرے، آپ ﷺ کے احکام کی اطاعت کرے، آپ ﷺ کے اخلاق کو اپنائے، آپ ﷺ کی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچائے اور اپنی زندگی کو سیرتِ طیبہ کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ مقامِ محمود اور شفاعتِ کبریٰ رسول اللہ ﷺ کی اخروی عظمت کا ایک نمایاں پہلو مقامِ محمود ہے۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’عَسَىٰ أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا‘‘ قریب ہے کہ آپ کا رب آپ کو مقامِ محمود پر فائز فرمائے۔ (سورۃ الإسراء، 79) صحیح بخاری کی روایت میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ قیامت کے دن لوگ اپنے اپنے انبیائے کرام علیہم السلام سے شفاعت کی درخواست کریں گے، یہاں تک کہ شفاعت رسول اللہ ﷺ تک پہنچے گی، اور یہی وہ مقام ہے جسے مقامِ محمود کہا گیا ہے۔ (صحیح البخاری، حدیث 4718) اسی طرح صحیح بخاری کی ایک روایت میں اذان کے بعد پڑھی جانے والی دعا میں نبی کریم ﷺ کے لیے وسیلہ، فضیلت اور مقامِ محمود کی دعا کرنے کا ذکر ہے، اور اس کے ساتھ آپ ﷺ کی شفاعت کی بشارت بیان ہوئی ہے۔ (صحیح البخاری، حدیث 4719)

 یہ حضور ﷺ کے مقام و مرتبے کی عظمت کا ایک نہایت روشن پہلو ہے۔ درود و سلام کی عظمت اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں فرمایا: ’’إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا‘‘ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر درود بھیجتے ہیں؛ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ (سورۃ الأحزاب، 56) غور کیجیے کہ جس ہستی پر خود اللہ تعالیٰ درود بھیجتا ہے اور فرشتے بھی درود بھیجتے ہیں، اس عظمت کا تصور انسانی عقل کس حد تک کرسکتی ہے؟ اہلِ ایمان کو بھی حکم دیا گیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجیں۔ یہ حکم اس بات کا مظہر ہے کہ مسلمان کے دل میں محبتِ مصطفیٰ ﷺ، تعظیمِ مصطفیٰ ﷺ اور تعلقِ مصطفیٰ ﷺ ہمیشہ زندہ رہنا چاہیے۔ رفعتِ مصطفیٰ ﷺ اور ہماری ذمہ داری رسول اللہ ﷺ کی عظمت بیان کرنا یقیناً سعادت ہے، مگر آپ ﷺ کی حقیقی پیروی اس سے بھی بڑی سعادت ہے۔ اگر ہم حضور ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو ہمیں اپنی عملی زندگی میں اس محبت کے آثار پیدا کرنے ہوں گے۔ ہماری گفتگو میں سچائی ہو، معاملات میں دیانت ہو، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ہو، پڑوسیوں کے حقوق ادا ہوں، کمزوروں کے ساتھ رحم ہو، اختلاف میں انصاف ہو، غصے میں ضبط ہو، دشمن کے ساتھ بھی اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے، عبادت میں اخلاص ہو اور ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کو پیشِ نظر رکھا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے انسان کو صرف عبادات کا طریقہ نہیں سکھایا بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل اسلوب عطا فرمایا۔ اسی لیے آپ ﷺ کی سیرت مسجد سے لے کر بازار تک، گھر سے لے کر معاشرے تک، فرد سے لے کر ریاست تک ہر شعبۂ زندگی کے لیے رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان کے لیے سب سے بڑی سعادت یہ ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی عظمت کو دل سے تسلیم کرے، زبان سے آپ ﷺ پر درود و سلام بھیجے اور عمل سے آپ ﷺ کی سنت کو زندہ کرے۔ محبتِ رسول ﷺ کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ ہماری زندگی سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا عکس بن جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضور اکرم ﷺ کی سچی محبت، کامل ادب، اتباعِ سنت اور شفاعتِ عظمیٰ نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔

 از قلم : محمد کلام الدین نعمانی مصباحی امجدی نائب ایڈیٹر: نیپال اردو ٹائمز بنوٹا، مہوتری، نیپال

 6/ ربیع النور 1448ھ 20/08/2026 بروز جمعرات

Abdul Jabbar Alimi

عبدالجبار علیمی نیپالی۔

چیف ایڈیٹر (9701714929) (8795979383)